زندہ باد
12 جنوری 2019 2019-01-12

اگلے جمعہ کے روز یعنی 18 جنوری کو موجودہ چیف جسٹس ثاقب نثار اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ مجھ سمیت پاکستان کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے ہر شخص کو بخوبی اندازہ ہے کہ 18 جنوری کے بعد چیف جسٹس کے 2 سال اور 18دنوں کے دور کو کس طرح کھنگالا جائے گا۔ ہمیں کیا خود چیف جسٹس صاحب کوبھی اس بات کا اندازہ ہے اور بارہا وہ منصف اعظم بننے کے بعد اس خطرے کاذکر کرچکے ہیں۔

31 دسمبر 2016 سے دسمبر 2017 تک انتظار کرنے کے بعد اچانک سے عدلیہ کی جانب سے از خود نوٹسز کا آغاز ہوا۔ شروع میں حیرانگی تو ہوئی لیکن پھراندازہ ہوا کہ شاید یہ ہی وقت کی ضرورت ہے۔ ورنہ مجھ سمیت بہت سوں کو یہ احساس ہی نہ ہو پاتا کہ سیاست کے میدان میں آپس میںالجھنے والے سیاستدا ن عوام کے درد سے کتنے غافل ہیں۔ ہماری مشکلات کیا ہیں، ہماری بنیادی ضروریات کو ریاستی ادارے کس طرح بے حسی کے ساتھ کنارہ کش کیے ہوئے ہیں۔صرف منصف اعظم کے چند ازخود نوٹسسز کا ذکر کرلیتے ہیں تو اندازہ ہوجائے گاکہ کام کس کا تھا اور بیڑا کس نے اٹھایا۔

یہ چیف جسٹس ثاقب نثار ہی تھے جنہوں نے حکمرانوں کو بتایا پاکستان میںپانی کی کمی قحط کا پیش خیمہ ہے، فوری فکر کی ضرورت ہے۔ یہ محض توجہ دلاو¿ نوٹس نہیں تھا۔ اس معاملہ کو مشن کا درجہ ثاقب نثار صاحب نے ہی دیا پھردیکھتے ہی دیکھتے سمپوزیم اور کانفرنسز کے بعد یہ ایشو ملک گیر تحریک بنی۔ وزیراعظم عمران خان صاحب کو بھی احساس ہوا اور وہ بھی کہنے پر مجبورہوگئے کہ ہاں پاکستان کی نسلوں کو اگلے پانچ سالوں میں جس سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ پانی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ یہ ریاست کے سربراہ کی ذمہ داری تھی جسے منصف اعظم نے نبھایا۔

والدین اپنے بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر اور نا جانے کیا کیا بنانے کے خواب پروتے رہے لیکن ہمارے حکمرانوں کو پتہ ہی نہ چل پایا کہ سرمایہ دار نجی یونیورسٹیز کی آسمان سے باتیں کرتی فیسیں ان خوابوں کو دبانے میں مصروف ہیں۔ انٹری ٹیسٹ کی آڑ میں سرکار نجی یونیورسٹیز اور میڈیکل کالجز کو لوٹنے کا لائسنس دیتی رہی، کسی کی نظر کیوں نہ پہنچی۔ یونیورسٹیز کی فیس کم اور معیار مزید بہتر ہونا چاہیے۔ اس طرف توجہ دلانا چیف جسٹس کاکام تو نہیں تھا لیکن انہوں نے کیا۔ پرائیویٹ اسکولز کا مافیا اپنی منہ مانگی فیسوں کے ذریعے معاشرے میں امارت کی تفریق پیدا کررہا ہے اور ان کی فیسوں میں کمی متوسط طبقے کے لیے ریلیف کا باعث ہو گئی ،یہ درد بھی چیف جسٹس کو ہی کیوں ہوا؟۔

دل کے مریض درد دل کے ساتھ ہی دنیا سے رخصت ہورہے ہیں کیونکہ ان کے پاس سرکاری یا پرائیویٹ علاج کرانے کی گنجائش نہیں، ایک معیاری اسسٹنٹ کی قیمت لاکھوں میں نہیں ہزاروں میں ہوتی ہے یہ خبر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تک پہنچ گئی۔ لیکن علاج کے لیے بیرون ملک لاکھوں ڈالر لگانے والے حکمرانوں کو پتہ ہی نہ چل سکا۔

منرل واٹر کی آڑ میں ملٹی نیشنل کمپنیاں ہمارا سارا پانی نچوڑ گئیں۔ خداکا خوف کریں کیا اس پر ایکشن لینا بھی منصف اعظم کا کام تھا یا کسی وزیرکا؟ 2 روپے کی لاگت میں 60 روپے کی بوتل وہ بھی پانی کی عوام کے ساتھ ظلم نہیں تو اور کیا ہے۔

موبائل کنکشن کمپنیاں 100 روپے کے کارڈ میں غریب آدمی سے 40 روپے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیبیں بھرتی رہیں کسی کو احساس تک نہ ہوا۔ یہ چیف جسٹس صاحب ہی تھے جنہوں نے سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ پر ایکشن لیتے ہوئے جتنے کاکارڈ تھا اتنے کا کریڈٹ دلوایا۔

معصوم طیبہ پر تشدد ہوا تو ایڈیشنل سیشن جج اپنی اہلیہ کے ہمراہ لاکھ دہائیاں دیتے رہے مگر انجام کو پہنچ گئے۔ پھر ایسا ہوا کہ ہر کوئی کسی معصوم پر تشدد کرنے سے پہلے 100 دفعہ سوچنے پر مجبور ہوا۔

ننھی زینب اور قصور کی معصوم کلیوں کو مسلنے کا اگر چیف جسٹس نوٹس نہ لیتے تو شاید یہ معاملہ ابھی تک ایڑیاں رگڑ رہا ہوتا۔ جعلی بینک اکاو¿نٹس کے ذریعے مال کو اِدھر سے اُدھر کیا جا رہا ہے لیکن کسی کو پتہ ہی نہ چلا۔

اس پرJIT بننی چاہیے یہ بھی چیف جسٹس کا ہی کام تھا کیا؟

اسی طرح شراب کی بوتل میں شہد ہوسکتا ہے۔ سسٹم کی پستی کا عالم ہم کبھی بھی نہ دیکھ پاتے اگر چیف جسٹس کراچی میں جناح اسپتال کے اچانک دورے پرنہ پہنچتے۔

وزیر کا بیٹا اب قتل کرنے کے بعد اب نہیں بھاگ پائے گا۔ یہ بھی چیف جسٹس نے ہی بتلایا۔ DPO کی ٹرانسفر پر وزیراعلیٰ جوابدہ ہے اور معافی کاخواستگار بھی۔

JIT کی رپورٹ پر تگڑے وزیر مستعفیٰ بھی ہوئے۔ تھر کی ریتی پر سیکڑوں بچے بھوک و افلاس کے ہاتھوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرتے رہے لیکن ان کی زندگیوںکی کچھ قیمت بھی ہے یہ ہمیں چیف جسٹس کے از خود نوٹس نے بتایا۔ تعلیمی اداروں میں چرس، ایکس ٹیسی اور آئس جیسی بلائیں حملہ آور ہو کر ہماری نسل کے مستقبل کو تاریک کررہی ہیں۔ اس کا نوٹس وزارت داخلہ نے بعد میں اورکورٹ نمبر 1 نے پہلے لیا۔

وزیراعظم کو بنی گالہ میں اپنا گھر کا جرمانہ دے کر اسے ریگولائز کرواناپڑے گا۔ ان تمام چیزوں کے امین ہم پہلے کبھی بھی نہ تھے۔ غرضیکہ اسپتال،اسکول، یونیورسٹی، قانون اور انصاف۔ کرپشن کا اصل چہرہ ہمیں حکمرانوں نے کم کم لیکن منصف اعظم نے ضرور دکھایا۔

یہ ناجانے کیوں لگ رہا ہے کہ سوئی ہوئی سرکار کے ادارے جگائے نہیںجھنجھوڑے گئے۔ صرف ایک شخص نے سسٹم میں موجود خامیوں کی نشاندہی بھی کی اور ان کو درست کرنے کی خاطر خواہ کوشش بھی کی اور وہ بھی محض 2 سال اور18 دن میں۔

یقینا کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی اپنا کام نہیں کررہا تھا۔ ان تمام ازخود نوٹسز پر ہم چیف جسٹس ثاقب نثار کے شکرگزار ہیں۔


ای پیپر