Chief Justice,athar minullah,innocent lawyers,harass,police
12 فروری 2021 (15:43) 2021-02-12

اسلام آباد : چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ کون بے گناہ وکلا کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہا ہے ؟ مجھے ان کیخلاف کارروائی چاہیے ٗ پتہ کریں کون گیم کھیل رہا ہے ؟

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنیئر وکیل نذیر جواد کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی جس دوران نذیر  جواد نے کہا کہ وہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف احتجاج میں شامل نہیں تھے اور نہ ہی وہ توڑ پھوڑ کرنے والوں میں شامل تھے۔اس کے باوجود پولیس نے ان کے دفتر پر چھاپہ مارا ہے۔میں نے تو اس عمل کی مذمت کی تھی اور عدالتوں میں بھی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کر رہا ہوں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس موقع پر بے گناہ وکلا کے دفاتر اور گھروں پر پولیس کی جانب سے چھاپے مارے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی اسلام آباد سے جامع رپورٹ طلب کر لی۔ سماعت کے دوران 2 گھنٹے کے نوٹس پر ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات اور ایس ایس پی عدالت میں پیش ہوگئے۔

چیف جسٹس نے اس موقع پر استفسار کیا کہ پیش ور اور بے گناہ وکیلوں کو کون تنگ کررہا ہے ٗ پتہ کریں کہ کون گیم چلا رہا ہےمجھے ان کیخلاف کارروائی چاہیے ۔ یہ عدالت کسی کو گیم کھیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔اصل مجرمان کے بجائے آپ لوگ بے گناہوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ جو حملے میں ملوث ہیں ان کو آپ پکڑ نہیں سکتے ۔ بے گناہ وکیلوں کی کسی صورت میں ہراساں نہیں کیا جانا چاہیے۔ 


ای پیپر