Dr. Ibrahim Mughal columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
12 فروری 2021 (12:36) 2021-02-12

قارئین کرام، آ پ نے ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو کے عنوا ن سے ٹی وی پر بھا ری بھر کم پہلوا نو ں کی کشتیاں دیکھی ہو ں گی۔ ان کشتیوں کے پیش کار کشتی لڑنے والو ں کو پہلو ان نہیں کہتے ۔ وہ انہیں انٹر ٹینر ز کہتے ہیں۔ مطلب یہ کہ ان کشتیو ں کا مقصد عوا م کو تفر یح فر اہم کر نے کے علا وہ اور کچھ نہیں۔ اگر آ پ نے ٹی و ی پر قو می اسمبلی کے حا لیہ اجلا س کی کارروائی ملا حظہ فر ما ئی ہو توکہ حقیقت میں اس اجلاس کا وطنِ عز یز  کے مسا ئل سے کو ئی تعلق نہیں تھا ، بلکہ اس کا مقصد عوام کو اسمبلی ممبرا ن کی ہا تھا پا ئی کی صو رت میں انٹر ٹینمنٹ فرا ہم کر نا تھا ۔  اجلاس میں مسلسل دوسرے روز جاری رہنے والا ہنگامہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب اسدعمر کی تقریر کے دوران اپوزیشن اور حکومتی پارٹی کے بعض ارکان گتھم گتھا ہوئے اور نوبت تلخ جملوں اور گالم گلوچ تک پہنچی۔ دھکم پیل میں کئی ارکان گرے۔ معزز ایوان میں جوتا لہرایا گیا، حالات خراب ہونے پر اسپیکر نے سیکورٹی طلب کرتے ہوئے سارجنٹس کے حصار میں کارروائی چلائی، اس کے باوجود دونوں طرف سے سخت جملوں کا تبادلہ جاری رہا۔ یہ صورت حال سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری کی بجائے شو آف ہینڈز کے قانون کے تحت کرانے کے پیش نظر اسمبلی میں لائے جانے والے بل کے حق اور مخالفت میں پیش آئی۔ تاہم معزز ایوان کا وقار مجروح کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں جو بلاشبہ من حیث القوم ہمارے لیے باعثِ ندامت ہے۔ سینیٹ ملک کے تمام ایوانوں میں معزز ترین سمجھا جاتا ہے جس کے ارکان کا انتخاب بھی منتخب عوامی نمائندے ہی کرتے ہیں جس سے پارلیمنٹ کے فلور پر ان کی ذمہ داری دو چند ہوجاتی ہے۔ آئینی ترمیمی بل پر اپوزیشن کا موقف ہے کہ مشیر حکومت کسی تحریک پر دستخط کرسکتا ہے اور نہ ہی تحریک کو ایوان میں پیش کرسکتا ہے۔ میاں رضا ربانی کے بقول مشیر پارلیمانی امور متعلقہ انچارج وزیر نہیں ہیں لہٰذا وہ دستخط کرنے کے مجاز نہیں۔ خفیہ رائے شماری کے حق میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو ووٹر کی حیثیت سے سیاسی پارٹیوں کی قیادت کے جبر سے آزاد ہوکر اپنی رائے کا اظہار کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ مخالفت میں یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ اس طریقہ انتخاب سے عملاً ووٹوں کی خرید و فروخت اور بازار سیاست میں ضمیر کی نیلامی ہوتی ہے جس سے خیانت و بدعنوانی کو فروغ ملتا ہے۔ اگرچہ یہ دونوں آراء اپنی اپنی جگہ مقدم ہیں تاہم اس ضمن میں فریقین اسمبلی کے فلور پر لڑائی جھگڑے کی بجائے دلائل کے ساتھ 

زیادہ مؤثر طریقے سے اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اگلے ماہ خالی ہونے والی سینیٹ کی 52 میں سے 48 نشستوں پر الیکشن ہوں گے جبکہ فاٹا کی چار سیٹیں اس میں شامل نہیں جس کے باعث کل سیٹیں 104 سے کم ہوکر 100 رہ جائیں گی۔ ممکنہ طور پر فاٹا کی باقی چار نشستوں پر فائز سینیٹرز 2024ء میں ریٹائر ہوجائیں گے جس کے بعد فاٹا کی آٹھ سیٹوں کا فیصلہ ہوگا، آیا یہ خیبرپختونخواہ کو ملیں گی یا صوبوں میں برابر تقسیم ہوں گی۔ دوسری طرف خالی ہونے والی سیٹوں پر ن لیگ کے 15، پیپلز پارٹی کے 7، تحریک انصاف کے 7 اور پانچ آزاد سینیٹرز براجمان ہیں جبکہ ٹیکنو کریٹس کی آٹھ، خواتین 9 اور غیرمسلموں کی دو نشستیں خالی ہورہی ہیں۔ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ جمہوریت میں کاروبار مملکت چلانے میں پارلیمنٹ کا ادارہ کلیدی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر پارلیمنٹ میں پہنچنے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان یہاں مل بیٹھ کر بنیادی پالیسیاں طے کرتے اور قوانین بناتے ہیں۔ آئین سازی اور اس میں حسب ضرورت ردّو بدل یا اصلاح بھی پارلیمنٹ ہی کاکام ہے جس کی بنا پر اسے ریاست کے تمام دوسرے اداروں پر بالا دستی حاصل ہوتی ہے۔ اس کی یہ حیثیت اس کے ارکان سے شائستگی، وقار اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا تقاضا کرتی ہے۔ لیکن اسے المیہ کہیے کہ آزادی کے 73 سال بعد بھی ہمارے منتخب ایوانوں میں شائستہ جمہوری رویوں کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی اختلافات یا ذاتی نفع و نقصان سے قطع نظر اوپن یا خفیہ بیلٹ سسٹم سے متعلق قومی اسمبلی کی متذکرہ کارروائی ایوان بالا کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے جس کے لیے فریقین کو بہرحال سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

اور پھر انٹر ٹینمنٹ کی یہ کا روائی قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلا سو ں تک ہی محد ود نہیں، بلکہ ہما رے ٹی وی کے ٹا ک شو ز میں ہما ری اسمبلیو ں کے نمائندے جس طو ر ایک دوسرے کے خلا ف ذا تی حملو ں پہ اتر آ تے ہیں، اسے انٹر ٹینمنٹ کا ہی نا م دیا جا سکتا ہے۔یہ ان ٹی وی ٹا ک شو ز کا ہی کیا دھرا ہے جس کو عنوا ن بنا کر ہمارے سو شل میڈیا کے پہلوان گالم گلو چ سے لدّے ایک دوسرے کے خلا ف میدا ن میں اتر آ تے ہیں۔اور پھر افسو س کے سا تھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہما رے سیا ست دا ن ،سیا ست دا ن نہیں رہے بلکہ انٹر ٹینر بن چکے ہیں۔ چنانچہ خود سیاستدانوں سے یہ سوال بنتا ہے کہ آیا سیاست اسی طرز عمل کا نام ہے جو سب نے اپنا رکھا ہے؟ کیا عوام اس بات سے بے خبر ہیں کہ کون کیا چاہتا ہے؟ جن ایشوز پر اپوزیشن سراپا احتجاج ہے کیا وہ ایوانوں میں زیر بحث نہیں آنے چاہئیں، کیا عدالتیں موجود نہیں ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا حکومتیں ایسے احتجاجوں سے رخصت کرنے کی تمنا جمہوری اور آئینی ہے؟ یقینا نہیں۔ یاد رہے کہ سیاست بند گلی میں داخل ہونے کا نام نہیں۔ ڈائیلاگ سے مسائل کے حل کا نام ہے۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ ایوانوں کی بالا دستی قائم کرکے انہیں مضبوط بنانے کی سعی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے مسائل ہی پیدا نہ ہوں۔ وگرنہ جو طرزِ عمل ہر دو جانب سے اختیار کیا جارہا ہے اس کے جو نتائج نکلیں گے کسی کے لیے بھی خوش کن نہ ہوں گے۔اب یہ ملک تہتر سا ل کی عمر کو پہنچ چکا ہے۔ لہٰذا اب ہما رے نما ئند وں کو لڑ کپن کی جذ با تیت کو خیر با د کہہ کر میچور طرز ِ عمل اختیارکر لینا چا ہیے۔ یا د رکھنے کی با ت یہ ہے کہ تاریخ کسی بھی دور کے اکا بر ین کے غیرسنجیدہ طرزِ عمل کو کبھی معا ف نہیں کر تی۔کو ئی بہت ز یا دہ دو ر جا نے کی ضر ور ت نہیں۔ برِ صغیر کے مسلما ن حکمرا نو ں میں سے احمد شا ہ رنگیلے کی مثا ل ہمارے سا منے ہے۔ اس کی ذا ت سے وابستہ کیسے کیسے لطیفے ہمیں سنا ئے جا تے ہیں، اور ہمیں سننا پڑتے ہیں۔ اگر ہما را بھی یہی حا ل رہا تو کل کو ہماری دا ستا ں تک نہ ہو گی دا ستا نو ں میں۔ 


ای پیپر