Rana Zahid Iqbal columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
12 فروری 2021 (12:34) 2021-02-12

اسلام آباد ہائیکورٹ پر حملہ کر کے وکالت کے مہذب پیشے سے وابستہ برادری کے لوگوں نے نہ صرف اپنی قانون دانی کا تقدس داغدار کیا ہے بلکہ قانون کے تحفظ اور پیشہ وکالت کے احترام کو بھی خاک میں ملا دیا۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں اور بالخصوص لوئر کورٹس میں صورتحال نہایت پریشان کن ہے جہاں ججوں کے ساتھ غیر مہذب رویہ اختیار کرنا معمول بن چکا ہے۔ وکلاء نے ججوں کو تھپڑ مارے، اپنے ساتھیوں کی بد اعمالیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے احتجاج کیا اور تعاون نہ کرنے والے ساتھی وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ سائلوں کے ساتھ بد سلوکی اب تو آئے دن کا معمول ہے، جب کوئی سائل ان کے رویے کی شکایت کرتا ہے کہ اس کے مقدمے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی جا رہی تو ایسے سائلوں پر بھی تشدد شروع کر دیا جاتا ہے۔  آج وکلاء نے وہی رویہ اختیار کیا ہوا ہے جو معاشرے کے دیگر طبقات اپنی بات منوانے کے لئے اختیار کرتے ہیں یعنی توڑ پھوڑ اور تشدد، یوں انہوں نے خود کو ہر ذمہ داری سے مبرا کر لیا ہے۔

جب جنرل مشرف نے عدلیہ پر آخری بار شب خون مارا اور منی مارشل لاء جیسی دوسری بار ایمر جنسی کی آڑ میں اعلیٰ عدلیہ اور خاص طور پر چیف جسٹس افتخار چوہدری کو نظر بند کر کے اپنے تئیں انہیں فارغ کر دیا تو سول سوسائٹی اور میڈیا کو ساتھ ملا کر وکلاء برادری نے جو تحریک چلائی وہ ایک تاریخ ساز کارنامے کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔ بلا شبہ وکلاء اس تحریک کا ہراول دستہ تھے اور عدلیہ بحالی کا سہرہ انہی کے سر کی زینت بنا۔ کالے کوٹ والوں نے جان و مال کی قربانیاں دے کر ڈکٹیٹر شپ کو شکستِ فاش دی اور 9 مارچ 2007ء کے بعد وکلاء برادری نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ وہ وکلاء کی بے مثل جد و جہد کا سب سے تابناک پہلو ہے۔ مجھ جیسے ادنیٰ قلم کار نے بھی ان کی تعریف اور توصیف میں قصیدے لکھے اور ان پر تحسین کے پھول نچھاور کئے۔ لیکن کیا ہزاروں وکلاء نے دو برس تک تنگ دستی گوارا کی تھی کہ انہیں ججوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالنے کی اجازت مل جائے؟ کیا ساری دنیا کی مہذب اقوام اور قانون دان حلقوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی درخشاں تحریک کا حاصل یہی ہے کہ وکلاء کے ہاتھوں ججوں کی تضحیک ہو؟  عدلیہ کی بحالی اور آزادی کی منزل حاصل کرنے کے بعد وکلاء کو اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر تمام تر توجہ مرکوز کر دینا چاہئے تھی اور ایسا ہوا تاہم وکلاء کا ایک حصہ ابھی تک اس مائنڈ سیٹ سے نکلنے کو تیار نہیں ہے۔ عملی طور پر وکلاء اپنے آپ کو قانون کی حکمرانی یا جوابدہی کے تابع کرنے کے بجائے اپنی مرضی، خواہش اور تعصب کی بنیاد پر چلانا چاہتے ہیں۔ ججوں کی بحالی کے بعد وکلاء نے اس جد و جہد کا انعام ضرورت سے زیادہ لینے کی کوشش کی ہے۔ 

جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک کے بعد سے وکلاء اپنے آپ کو کسی قانون کے تابع نہیں سمجھتے، انہیں سزا کا کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہے اور وہ ایسا سمجھنے میں ہیں بھی حق بجانب کیونکہ پاکستان میں ان کی قانون شکنی کے جتنے بھی ابھی تک واقعات ہو چکے ہیں کسی میں بھی ان کو سزا نہیں ہوئی۔ ماضی میں اگر وکلاء کے اس رویے پر کوئی مٔوثر احتساب کیا گیا ہوتا تو اس سے ان کے اندر اصلاح کا عمل ہو سکتا تھا۔ معاشرے کے ایک ایسے طبقے نے جو قانون کا رکھوالا بھی ہے نے اپنی من مرضی کی تو باقی طبقات کو بھی ہلہ شیری حاصل ہو گی۔قانون کے محافظوں کو خود قانون شکنی سے ہر صورت گریز کرنا چاہئے۔  وکلاء کو سمجھ لینا چاہئے کہ انہیں اپنے فرائض مسلمہ اخلاقی اور پیشہ ورانہ ضوابط کے تحت ادا کرنے چاہئیں۔ اس ذمہ داری سے انحراف انہیں بدنامی کی دلدل میں پھینک سکتا ہے۔   

وکلاء نے چیف جسٹس ہائیکورٹ کے دفتر پر ہلہ بول کر ناقابلِ معافی جرم کیا ہے، اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور اس میں ملوث عناصر کو بلا امتیاز ان کی پیشہ ورانہ وابستگیوں اور طبقے کے تعصبات کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ وکلاء تنظیموں اور ان کی قیادت سے استدعا ہے کہ وہ سوچیں ،ملک کو کس نہج پر لے جا رہے ہیں، قانون کے رکھوالوں کے اس عمل سے دنیا بھر بھر میں جگ ہنسائی ہوئی ہے۔ وکلاء اپنے کالے کوٹ کے وقار اور اپنے طرزِ عمل کے مضمرات و نتائج پر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔ اگر انہوں نے تہذیب کے قرینوں کو پامال کرنا شروع کر دیا تو لوگوں کو بھی ان کی ضرورت نہیں رہے گی، وہ خود ہی اپنا حساب چکا لیا کریں گے اور پھر وکلاء سائلوں کے انتظار میں رہیں گے۔ ادھر وکلاء کے رویے پر شرمندہ ہونے کی بجائے  ہائیکورٹ بار نے قبضہ گروپ وکلاء سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انتظامیہ سے کہا ہے کہ گرائے گئے ناجائز چیمبر ز دوبارہ سے تعمیر کر کے دئے جائیں۔  

حالیہ دنوں میں خاتون جج کا خط جس میں انہوں نے یہ پیشہ اختیار کرنے پر افسوس کا اظہار کیا، یہ صورتحال ایک مہذب معاشرے کے منہ پر طمانچہ ہے۔ پچھلے کچھ برسوں کے دوران پے در پے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جب وکلاء اپنا توازن کھو بیٹھے ہیں۔ میں یہاں وہ واقعہ بیان کرنا چاہوں گا جس کا میں خود شاہد ہوں جب فیصل آباد ضلع کچہری میں ایک سول جج مقدمے کی سماعت کر رہے تھے۔ فریقین مقدمہ میں سے ایک کے وکیل کسی بات پر برہم ہو گئے اور جج کو تھپڑ دے مارا۔ یہ انتہائی افسوسناک اور غیر معمولی واقعہ تھا۔ کسی بھی زیرِ سماعت کیس میں جج، وکلاء، عدالتی اہلکاروں، وکیلوں کے منشیوں سمیت مقدمے کا کم از کم ایک فریق مقدمے کے بلا تاخیر فیصلے کا آرزو مند نہیں ہوتا۔ صرف وہ فریق جو حق سچ پر یا مظلوم ہوتا ہے مقدمے کے جلد فیصلے کے لئے بے چین ہوتا ہے۔ لیکن اس اکیلے کے خلاف 6 قوتیں متحد ہوں تو مقدمہ نسل در نسل منتقل ہو سکتا ہے اور مدعی مقدمے کا فیصلہ اس کا پوتا سنتا ہے۔ وکلاء حضرات بھی اس جج کو پسند کرتے ہیں جس کی شہرت اور عمل سے ظاہر ہو کہ وہ ریلیف دینے میں فراخ دل ہے، اس کے آپ جو معنی چاہیں نکال لیں۔ جج اور بار میں باہمی عزت و احترام انصاف کے تقاضے پورے کرنے اور مقدمات کے فریقین کے دلوں میں اعتماد کی فضا پیدا کرنے کے لئے بیحد ضروری ہے اگر وکیل بھری عدالت میں مرضی کا فیصلہ نہ آنے پر جج کو گالی سنا دے یا تھپڑ دے مارے تو ایسی حرکت صرف اخلاق سے گری ہوئی نہیں ننگی غنڈہ گردی کہلائے گی۔


ای پیپر