PM Modi-Trump, nexus, Biden administration, India ally, Pakistan, Kashmir
12 فروری 2021 (11:05) 2021-02-12

نیویارک: مودی ٹرمپ گٹھ جوڑ کے بعد بائیڈن انتظامیہ بھی مودی کی یار نکلی ، پہلے کشمیر کو بھارت کا حصہ کہہ دیا پھر ، بیان بدل کر متنازعہ علاقہ مان لیا۔

کشمیریوں سے غداری کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ٹویٹ میں بھارت کا جموں کشمیر کہہ کر 4 جی موبائل انٹرنیٹ بحالی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ، حقائق کے برعکس ٹویٹ پر پاکستان نے امریکی محکمہ خارجہ سے احتجاج کیا۔

مایوس کن بیان پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ خارجہ کا بیان جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت سے متصادم ہے۔ بین الاقوامی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی روکنے کے لئے بھارت پر زور ڈالے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش کی جائے۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ امریکا اب بھی جموں اور کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک متنازعہ علاقہ سمجھتا ہے۔


ای پیپر