پاکستان سٹیل ملز نجکاری کمیشن کی ترجیحی فہرست میں شامل ہوگئی ، حکومت
12 فروری 2020 (17:03) 2020-02-12

اسلام آباد :قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پاکستان سٹیل ملز نجکاری کمیشن کی ترجیحی فہرست میں شامل ہے، اس کو حکومت اور نجی شعبہ کی شراکت سے پرائیویٹ پبلک لمیٹڈ کمپنی بنایا جائے گا، سٹیل ملز میں روس کی 5، چین کی ایک، امریکہ کی ایک اور پاکستان کی ایک کمپنی نے شراکت داری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، کپاس کی پیداوار میں کمی سے نمٹنے کےلئے وزیراعظم ایمرجنسی پروگرام شروع کر رہے ہیں، ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی کر رہے ہیں، پمز میں ڈاکٹرز کی قلت کو دور کررہے ہیں، مادر اور چائلڈ کے شعبہ کی جائیکا کے ساتھ مل کر توسیع کی جا رہی ہے، گاڑیوں کی قیمتوں کو ریگولیٹ کرنا وزارت ضنعت و پیداوار کا مینڈیٹ نہیں ہے، گاڑیوں کے معیار کی بہتری کےلئے اقوام متحدہ کے ریگولیشنز لاگو کرنے پر کام کر رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار بدھ کو وزیرمملکت علی محمد خان، پارلیمانی سیکرٹری قومی صحت ڈاکٹر نوشین حامد، پارلیمانی سیکرٹری صنعت و پیداوار عالیہ حمزہ ملک و دیگر نے ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصد کی زیر صدارت ہوا۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے وزارت آبی وسائل صالح محمد نے آگاہ کیا کہ گولن گول ہائیڈرو پاور منصوبے کےلئے غیر معیاری مشینری نہیں خریدی گئی، وفاقی حکومت کے ترقیاتی پروگرام کے تحت بلوچستان میں مختلف چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیموں کی تعمیر اور دیگر منصوبوں کےلئے 52ارب کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، اب تک 13ارب خرچ ہو چکے ہیں اور رواں سال5.9ارب مختص کئے گئے ہیں۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے صنعت و پیداوار عالیہ حمزہ ملک نے کہا کہ سندھ حکومت سندھ انڈسٹریل ٹریڈنگ اسٹیٹ لمیٹڈ کےلئے سند حکومت ابھی تک زمین مختص نہیں کر سکی۔

پارلیمانی سیکرٹری برائے قومی صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ پمز میں مختلف شعبوں میں 86وینٹی لیٹرز موجود ہیں، مادر اور چائلڈ کے شعبے میں توسیع کی جا رہی ہے، پمز میں ڈاکٹرز کی قلت ہے،106ڈاکٹرز مزید بھرتی کئے ہیں۔ عالیہ حمزہ ملک نے کہا کہ پاکستان سٹیل ملز نجکاری لسٹ میں شامل کرلی ہے، یہ پبلک پائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنے گی،13کمپنیوں نے اس میں پارٹنر شپ میں دلچسپی ظاہر کی ہے،یوٹیلیٹی سٹورز کےلئے 10ارب کا کل پیکج دیا ہے اور 7ارب کا پہلے بھی دیا تھا، گاڑیوں کی لاگت کو ریگولیٹ کرنا وزارت صنعت و پیداوار کا مینڈیٹ نہیں ہے، اقوام متحدہ کی ریگولیشنز کو کوالٹی کو بہت کرنے کےلئے لاگو کرنے پر کام کررہے ہیں۔ ڈاکٹر نوشین حامد نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ضروری ادویات موجود ہوتی ہے، کینسر کی ادویات مہنگی ہوتی ہے، یہ بیت المال اور زکوٰة فنڈز سے ضرورت مندوں کو فراہم کی جاتی ہیں،ادویات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ڈریپ میں رجسٹریشن لازمی ہے، مارچ کیا ہے، ڈینگی کا لاروا پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے، اس کے تدارک کےلئے ابھی سے سروے اورکام شروع کیا جائے گا، پولیو کے خاتمہ کی پالیی پ نظرثانی کی گئی ہے، ہر بچے کو ویکسین لازمی پہنچائیں گے، صاف پانی کی فراہمی کےلئے بھی حکمت عملی بنا رہے ہیں، صحت انصاف کارڈ میں صوبوں میں حصہ ڈالنا ہوتا ہے، سندھ میں 36لاکھ خاندان غربت سے نیچے ہیں، ان کو کارڈ ملنا چاہیے، سندھ حکومت وفاق کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی، تھر میں ہر خاندان کو وزیراعظم کی ہدایت پر صحت انصاف کارڈ دیا گیا ہے۔

عالیہ حمزہ ملک نے کہا کہ سٹیل ملز کی 2013سے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کی ابھی تک پنشن نہیں دے سے، گزشتہ سال اس کا خسارہ 18ارب رہا، سٹیل ملز کے ملازمین کو ہر ماہ تنخواہ دے رہے ہیں، سٹیل ملز کی 100ایکڑ زمین پر قبضہ چھڑایا ہے، 5روس اور 3چین کی اور ایک امریکہ اور ایک پاکستانی کمپنی سٹیل ملز میں پارٹنر شپ میں دلچسپی ظاہر کر چکی ہے، صالح محمد نے کہا کہ دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کےلئے اکٹھا کیا گیا فنڈ11ارب سے زائد ہے جو سپریم کورٹ کے اکاﺅنٹ میں پڑا ہے۔ علی محمد خان نے کہا کہ کاٹن کی کاشت میں کمی آئی ہے، وزیاعظم اس پر ایمرجنسی پروگرام شروع کر رہے ہیں، ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی کررہے ہیں، کسانوں کو نئے بیج دینے کےئے غور کر رہے ہیں، کپاس کی فصلوں کےلئے علاقہ گنے کی کاشت میں منتقل ہورہا ہے، کاٹن پیدا کرنے والا علاقہ واپس لیا جائے گا، کسانوں کو مراعات دیں گے۔ سپیکر نے معاملہ کو کمیٹی میں بھیج دیا۔


ای پیپر