جو لوگ آئی ایم ایف کے کوریڈار تک نہیں گھس سکتے وہ بھی تنقید کر رہے ہیں ،مشیر خزانہ
12 فروری 2020 (16:53) 2020-02-12

اسلام آباد :مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے اور معیشت کو بہتر کرنے کےلئے حکومت نے تاریخ ساز فیصلے کئے ہیں، آئندہ ایک دو ماہ کے دوران قیمتوں میں کمی ہو گی، 72سال برآمدات بڑھانے میں ناکام رہے، دو سال میں 5ہزار ارب کا قرضہ واپس کرنا ہے، حکومت نے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 20ارب ڈالر سے کم کر کے 9ارب ڈالر تک کرلیا ہے.

ڈالر کو گزشتہ حکومت نے جان بوجھ کر سستا رکھا، اگر نے درست اقدامات نہ کئے تو ناکام ہو جائیں گے، ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کےلئے بہت محنت کی، پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے آئی ایم ایف سے پروگرام لیا، ہماری حکومت پر تنقید زیب نہیں دیتا، جو لوگ آئی ایم ایف کے کوریڈار تک نہیں گھس سکتے وہ بھی تنقید کر رہے ہیں ،رضا باقر نے قابلت کی بنیاد پر ترقی اور آئی ایم ایف کی نوکری ملک کے لئے ٹھکرا دی، آمدنی اور اخراجات کا خسارہ صفر ہو گیا ہے، یوٹیلیٹی سٹورز کو عوام کو ریلیف دینے کےلئے بڑا پیکج دیا ہے، عوام سے اپیل ہے کہ وہ سہولت سے فائدہ اٹھائیں،2000مزید سٹورز کھولیں گے، رمضان میں 19آئٹمز پر سبسڈی دیں گے، گزشتہ ماہ سے گاڑیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، حکومت نے قرضوں میں معمولی اضافہ کیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو قومی اسمبلی میں معیشت پر اپنے پالیسی بیان میں کیا۔مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ قیام پاکستان کےلئے بہت سے مسلمانوں نے قربانیاں دی ہیں،72سال میں پاکستان کے لوگوں کی امیدیں پوری نہیں ہوئیں، دنیا سے سبق سیکھیں کچھ ممالک کیسے آگے بڑھ گئے، مجھے خدا نے موقع دیا ہے کہ 20سے 21ممالک کوریڈوائس دی، آج تک کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکا، ملک کے استحکام کےلئے یہ چیز مدنظر رکھنا ضروری ہے،معاشی اثرات لوگوں پر پڑ رہے ہیں، ایوان میں سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہیے، اگر لوگ ترقی نہیں کریں گے تو ملک ترقی نہیں کر سکتا،72سال میں پاکستان برآمدات بڑھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا، اچھے انداز میں ٹیکس جمع کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے، ہمیشہ دوسرے ممالک پر انحصار کیا، بعض ادوار آئے جب ترقی ہوئی لیکن یہ پائیدار ثابت نہیں ہو سکی، چین نے 40سال تک 10فیصد کی شرح سے ترقی کی، جب ہماری حکومت آئی تو 30ہزار ارب کا قرض تھا، دو سال میں 5ہزار ارب واپس کرنا تھا، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ پاکستان کی تاریخ کا بلند ترین تھا، 20ارب ڈالر یہ تھا،گزشتہ حکومت نے ایکس چینج کو فکس رکھا، روپے کی قدر زیادہ فکس کی، اس کو برقرار رکھنے کےلئے ڈالرز پھونکے گئے، اس وجہ سے زر مبادلہ کے ذخائر 18ارب ڈالر سے گر کر9ارب ڈالر رہ گئے.

آئی ایم ایف کا پروگرام پورا کیا گیا لیکن مالی ڈسپلن برقرار نہیں رکھا گیا، مالی خسارہ2300ارب تھا، آمدنی سے 2300ارب زیادہ خرچ کئے گئے، بحران کی وجہ ڈالرز کی کمی ہے، گزشتہ 5سال کے دوران برآمدات میں اضافے یک تعداد صفر تھی، ڈالر کو جان بوجھ کر سستا رکھا گیا اور لوگوں کا رجحان درآمد کی طرف بڑھا، یہ تمام چیلنج حکومت کےلئے ہیں، یہ ممکن ہے اگر درست اقدامات نہ کئے تو ہم بھی ناکام ہو جائںی گے، بنیادی چیلنجز سے نمٹنا ہو گا، زراعت نے ترقی نہیں کی، گروتھ ریٹ تقریباً صفرکے برابر رہی، توانائی کا شعبہ تباہی کا شکار رہا، اس کو حل کرنے میں ناکام رہا، گردشی قرضہ پر قابو نہیں پایا جا سکا، ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھے اور کوئی قرض دینے کےلئے تیار نہیں تھا، ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا ضروری تھا، یہ اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے، انسانی زندگی سے وابستہ معاملہ ہے، ڈیفالٹ سے بچانے کےلئے محنت کی، دوست ممالک سے 8ارب ڈالر کی سپورٹ لی، سعودی عرب سے ادھار پر تیل لیا، 2008میں جو حکومت آئی اور2013میں جو حکومت آئی وہ آئی ایم ایف کے پاس گئی، یہ زیب نہیں دیتا کہ جو کام خود کیا دوسروں پر تنقید کریں، آئی ایم ایف پروگرام میں جانے سے فائدہ ہوا، آسان شرائط پر قرض ملا، ساری دنیا کو اعتماد ملا کہ پاکستان ڈسپلن کےلئے اور عالمی اداروں سے پارٹنر شپ کےلئے تیار ہے، عالمی مالیاتی اداروں نے ہماری سپورٹ میں اضافہ کیا، اس بات پر دکھ ہوا کہ کہا گیا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کےلئے دوسری طرف بھی آئی ایم ایف کے بندے بھرتی کئے، پاکستان کو رضا باقر پر فخر ہونا چاہیے۔ انہوں نے قابلیت کی بنیاد پر ترقی کی، جو لوگ آئی ایم ایف کے کوریڈور میں بھی نہیں گھس سکتے وہ بھی اس پر تنقید کر رہے ہیں، اس نے اپنی نوکری سے استعفیٰ دیا اور نوکری کو ٹھکرا دیا اور ملک کےلئے کام کرنا چاہتا ہے، ملک کےلئے کام کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں،حکومت نے تاریخ ساز فیصلے کئے ، ادارے جدوجہد میں ساتھ ہیں، فوج کے بجٹ کو منجمند کرنا بڑا فیصلہ تھا، کیا ایسا فیصلہ کسی نے اس سے پہلے کیا ہے، سول حکومت کے اخراجات میں 40ارب روپے کی کمی کی گئی، آمدنی کے حساب سے ٹیکس جمع کرانے کی شرح دنیا کے حساب سے کم ترین ہے، حکومت نے اب تک سٹیٹ بینک سے کوئی ادھار نہیں لیا، کمزور ترین طبقات کےلئے بجٹ 100ارب سے بڑھا کر192ارب کیا، نوجوانوں سے پایل ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے ان کےلئے دیئے گئے پروگرام سے فائدہ اٹھائیں، ایکسپورٹرز کےلئے ٹیکس زیرو کیا، بجلی اور گیس رعائتی نرخوں پر دینے کا فیصلہ کیا، حکومت ان کا حصہ ادا کررہی ہے، ان کو سستے قرضہ فراہم کئے، رامٹیریل پر ٹیرف زیرو کیا، سات ماہ میں برآمدات میں اضافہ ہوا، کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 20ارب ڈالر سے کم ہو کر9ارب ڈالر ہو گیا ، اس کو رواں سال تک 8ارب ڈالر تک لائیں گے،آمدنی اور اخراجات میں خسارہ صفر ہو گیا اور پہلی دفعہ سرپلس ہو گیا ہے، نان ٹیکس ریونیو میں 170فیصد اضافہ ہوا، اس سال کا نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 1100ارب ہے، یہ خوش خبری ہے یہ ریونیو1500ارب وہ گا، معاشی استحکام آ چکا ہے، ایکسچینج ریٹ کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ 200تک جائے گا، اس میں اب استحکام ہے، آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پروگرام کے تمام اہداف پورے کئے ہیں، بلوم برگ نے سٹاک مارکیٹ کو دنیا کی بہترین مارکیٹ قرار دیا، عالمی بینک نے کہا کہ پاکستانی کمپنیوں کو سپورٹس فراہم کرنے میں رینکنگ میں بہتری آئی ہے،3ارب ڈالر کی پاکستان میں سرمایہ کاری آئی، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 100فیصد اضافہ ہوا، سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے،2020تک پاکستان کو سیاحوں کی نمبر ون منزل قرار دیا گیا، قیمتوں میں اضافہ کی دقت کا سامنا ہے،روپے کی قیدر میں کمی سے مہنگائی میں اضافہ وہا، جتنی بجلی پیدا ہو رہی ہے اس کا 72فیصد حصہ حکومت سبسڈائز کر رہی ہے،100ارب اس کےلئے رکھے گئے، کوشش کر رہے ہیں چوری کو کم کیا جائے،38ارب ہر ماہ گردشی قرضہ میں اضافہ ہو رہا تھا، اس کو کم کر کے 12ارب کیا ہے، قیمتوں کے کنٹرول کےلئے صوبوں اور ضلعی حکومتوں کے ساتھ بہتر کوآرڈینیشن کی ضرورت ہے،7ماہ میں پٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، یوٹیلیٹی سٹور کے لئے بڑا پیکج لایا ہے، گزشتہ ماہ 50لوگوں کو 5بنیادی کھانے کی اشیاءکو مارکیٹ ریٹ سے کافی کم ریٹ پر فراہم کی، کم قیمتوں کو آئندہ مہینوں میں برقرار رکھا جائے گا، رمضان میں 19آئٹمز پر سبسڈی ملے گی، 50لاکھ لوگوں سے بڑھا کر ایک کروڑ کیا جائے گا،عوام سے پایل ہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز سے سستی اشیاءسے فائدہ اٹھائیں،2000مزید یوٹیلیٹی سٹورز کھولیں گے، غریب بقات کے لئے رمضان سے پہلے راشن کارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے،25فیصد کم نرخ پر اشیاءملیں گی، آئندہ ایک ماہ میں قیمتیں کم ہوں گی، گاڑیوں کی پیداوار میں اضافہ وہا ہے، انڈس موٹرز کی سیل میں 72فیصد اضافہ ہوا، ہنڈا کمپنی 120فیصد اضافہ ہوا، ٹریکٹر کی سیل میں 192فیصد اضافہ ہوا، موٹرسائیکل میں 12فیصد اضافہ ہوا، 95ہزار موٹرسائیکلز گزشتہ ماہ فروخت ہوئیں، 3کروڑ ٹن سیمنٹ فروخت ہوا، گزشتہ سال کی نسبت7فیصد اضافہ ہوا، پہلے سال میں حکومت نے قرضہ میں معمولی اضافہ کیا، روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے اضافہ ہوا۔


ای پیپر