ایف اے ٹی ایف ، پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے سات ووٹ درکار
12 فروری 2020 (00:52) 2020-02-12

اسلام آباد :فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف ) پاکستان کے حوالے سے فیصلہ 19 یا 20 فروری کو کرے گا تاہم پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے سات ووٹ درکارہیں۔

منگل کو نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان کو گرے لسٹ سے نکل کر وائٹ لسٹ میں جانے کے لیے مزید سات ووٹوں کی ضرورت ہے جس کے حصول کے لیے وزیراعظم عمران خان مختلف سربراہان مملکت سے رابطہ کررہے ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق ذمہ دار ذرائع نے اس ضمن میں بتاتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ اس وقت تک پاکستان کو چین، ترکی، سعودی عرب، ملائیشیا اور خلیجی ممالک کی جانب سے ووٹ ملنے کی یقین دہانی کرائی جا چکی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کا چاررکنی وفد وفاقی وزیر حماد اظہر کی قیادت میں ایف اے ٹی ایف کے منعقدہ اجلاس میں شرکت کرے گا۔

وفد کے اراکین میں دیگر کے علاوہ ڈی جی ایف ایم یو بھی شامل ہوں گے۔اجلاس پیرس میں 16 فروری سے منعقد ہوگا جب کہ پاکستانی وفد اجلاس میں شرکت کے لیے 14 فروری کو ملک سے روانہ ہو جائے گا۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران پاکستانی وفد سے کوئی سوال نہیں پوچھا جائے گا۔

اجلاس میں کیے جا سکنے والے فیصلوں کے حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایک فیصلہ یہ ہوسکتا ہے کہ پاکستان کو تین سے چار ماہ کے لیے وائٹ کردیا جائے۔اس ضمن میں نجی ٹی وی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ وائٹ کیے جانے کی صورت میں پاکستان کو مزید تین ماہ دیے جا سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تین ماہ میں پھر پاکستان پر لازمی ہو گا کہ وہ ایکشن پلان سمیت دیگر اہم و ضروری نکات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے لیے جاسکنے والے فیصلے کی بابت ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھا جائے۔


ای پیپر