سیاسی پس منظر سے ہٹتا ہوا بھارتی وزیراعظم مودی آئندہ الیکشن جیت سکیں گے؟
12 فروری 2019 (17:14) 2019-02-12

امتیاز کاظم:

نریندر مودی ”سب کا ساتھ سب کا وکاس“ کا نعرہ لگاتے میدان میں اُترے اور 2014ءکا انتخابی میدان مار لیا۔ لیکن کیا مودی 2019ءکا الیکشن جیت سکے گا، اس پر سوالات کا ایک سلسلہ ہے جو مبصرین میں زیربحث ہے۔ امیت شاہ سمیت اُس کے یوگی، گرو، بابے، مہنت، جوگی، سادھو، سنت سب پریشان ہیں اور 2019ءکے الیکشن کے لیے سر جوڑے بیٹھے ہیں کہ کانگریس اور دیگر جماعتوں کی شکست کے لیے کیا لائحہ عمل مرتب کیا جائے کیونکہ گزشتہ سال دسمبر میں ہونے والے پانچ نشستوں پر انتخابات نے عوامی رائے کا بدلتا ہوا سوچ کا دھارا دکھا دیا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتیں تو بھاجپا اور مودی کے خلاف ہیں لیکن اب ہندو جنتا بھی مودی کا ساتھ نہیں دینا چاہتی کیونکہ ہندی بیلٹ میں کانگریس کی کامیابی مودی کا راستہ روک رہی ہے اور بھاجپا کے زیراقتدار ریاستوں میں واضح کمی آئی ہے۔ پنجاب، پانڈی چری اور کرناٹک کے بعد دسمبر میں کانگریس کی تین اہم نشستوں پر کامیابی راہول گاندھی کا راستہ ہموار کرتی نظر آرہی ہے، ایسے میں کانگریس اور اپوزیشن جماعتوں کو بہت بیدار رہنا ہو گا اور آپس میں بنتے ہوئے اتحادوں پر کڑی نظر رکھنا ہو گی مثلاً وسطی بھارت کی جوگیوں، سادھوﺅں اور مندروں سے بھری ہوئی ہندو بلکہ کٹرہندو ریاست چھتیس گڑھ سے ”اجیت جوگی“ کانگریس سے بغاوت کر کے اُسے عین وقت پر دھوکا دے کر مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی (BSP) میں شامل ہوگیا لیکن اس کے باوجود کانگریس نے 68 سیٹیں جیت کر میدان مار لیا جبکہ مودی جی صرف 15 نشستیں حاصل کر سکے۔ کُل 90 نشستوں میں سے صرف 15 حاصل کرنا اور وہ بھی ایک ایسی ہندو ریاست میں، جہاں بھاجپا گزشتہ 15سالوں سے برسراقتدار تھی، بڑی حیرانی کی بات ہے۔ وسطی بھارت کی یہ ریاست ہریالی اور گھنے جنگلات سے بھری ہوئی ہے اور ایسی جگہیں جوگیوں، سادھوﺅں، سنتوں اور فقیروں کے لیے بڑی پُرکشش ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں ہندوﺅں کی بہت واضح اکثریت ہے جو کہ اب مودی اور اُس کی پالیسیوں سے بے زار نظر آتی ہے لیکن کانگریس کی گزشتہ شکست کے بارے میں بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض طاقتوں نے کانگریس کے خلاف سازش کی اور بغض علاقائی جماعتوں نے درپردہ بی جے پی کا ساتھ دیا مثلاً چندرا بابو نائیڈو نے کے سی آر کو 88 نشستوں تک پہنچا کر کانگریس کا نقصان کیا یعنی بابو نے کانگریس کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی فائدہ کی بجائے نقصان پہنچایا، کچھ وضاحت کرتا چلوں تاکہ بات سمجھ میں آجائے۔ تلنگانہ میں چندرا بابو کو تلنگانہ مخالف قائد سمجھا جاتا ہے اور ٹی آر ایس یعنی تلنگانہ راشٹریہ سمپتھی کے چندرا شیکھر راﺅ جو کہ یہاں کے وزیراعلیٰ بھی تھے اور اسمبلی بھی انہوں نے ہی تحلیل کی تھی، ییہ چندرا بابو نائیڈو کے مقابلے پر آئے۔ انتخابی مہم سے پہلے بابو کا ایک بیان منظر عام پر آیا کہ تیلگودیشم پارٹی نے ٹی آر ایس پارٹی کو اتحاد کی پیشکش کی ہے۔ بابو کا یہ بیان کانگریس مخالف تھا لیکن جب بابو نے کانگریس کو انتخابی مفاہمت کی پیشکش کی تو کانگریس نے فوراً حامی بھر لی چنانچہ بابو نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بڑی پُرزور مہم چلائی جس سے کانگریس کو یہ لگا کہ بابو بڑی تندہی سے مہم چلا رہے ہیں چونکہ بابو کا امیج یہاں مخالف قائد کا تھا لہٰذا جنتا کا رُخ ایک بار پھر سے ٹی آرایس کی طرف ہو گیا حالانکہ تلنگانہ کی عوام ٹی آرایس کے عوامی نمائندوں کی مجموعی کارکردگی سے بالکل بھی مطمئن نہ تھی، اگر یہاں چندرا بابو نائیڈو مہم نہ چلاتے تو ٹی آر ایس 88 نشستیں نہ جیت سکتی۔ تلنگانہ کی کُل 119 نشستیں ہیں جس میں سے کانگریس 21 نشستیں اور بی جے پی صرف ایک سیٹ پر کامیاب ہو سکی لیکن چندرا شیکھر راﺅ کی ٹی آر ایس کی 88 نشستیں بی جے پی کے ساتھ مل کر نمایاں ہو گئیں، اس طرح دو ”چندروں“ کے مقابلے میں بابو کا دوغلا کردارکانگریس کو کم سیٹیں دلا سکا، اگر یہاں بابو کو نہ کھڑا کیا جاتا تو کانگریس کی سیٹوں میں واضح اضافہ ہونا تھا۔

آئندہ الیکشن میں بھی اگر کانگریس کامیابی چاہتی ہے تو اُسے ایسے سازشی کرداروں پر گہری نظر رکھنا ہو گی۔ چندرا بابو انڈیا میں ایک بے اصول بٹیرا قسم کے سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں جو اپنے سیاسی فائدے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ تلنگانہ میں 283 لاکھ رائے دہندگان ہیں۔ 10دسمبر 2018ءبروز پیر کو ووٹنگ کا عمل مکمل ہوا اور 11دسمبر منگل کو صبح 8 بجے گنتی شروع ہوئی تو تلنگانہ کے نتائج کا اعلان ہونے کے بعد اسی دن چیف الیکٹورل آفیسر نے انتخابی فہرستوں سے 22 لاکھ ووٹوں کا اندراج نہ ہونے پر معذرت کی لیکن اتنی بڑی تعداد کا انتخابی فہرستوں میں اندراج نہ ہونا انتخابات کی شفافیت پر سوال ضرور اٹھا رہا ہے جبکہ مودی حکومت نے کوئی احتجاج نہیں ہونے دیا۔ مودی حکومت نے بہت سے معاملات لپیٹنے کی کوشش کی جو آئندہ انتخابات پر اثرانداز ہوتے ہوئے یقینی طور پر نظر آرہے ہیں۔ ان کا جائزہ لیتے ہیں اور ممبران کی انتخابات پر اثراندازی کو دیکھتے ہیں۔

٭کیا مودی کی نوٹ بندی یا نوٹ بدلو پالیسی کامیاب رہی؟

٭کیا جی ایس ٹی (جنرل سیلزٹیکس) پر قانون کے مطابق عمل ہو سکا؟

٭کیا سرجیکل سٹرائیک کے دعوے سے حکومت کی ساکھ بہتر ہوئی یا متاثر ہوئی؟

٭تین طلاق کا بل کس حد تک صحیح تھا؟

٭زرعی قرض کی معافی

٭ڈاکٹر ارجیت پٹیل کا استعفیٰ

٭رافیل طیاروں کا معاملہ

٭گﺅرکھشا کا معاملہ اور گوشت کی فروخت اور ذبیحہ کا معاملہ

٭ایم ایس ایم کا بند ہونا

٭مہاگٹھ بندھن (اپوزیشن پارٹیوں کا اتحاد) کا ایشو

٭ ”لنچنگ“ اور ”تسبری ملا“ معاملات اور ان پر اُٹھنے والے سوالات

٭بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی شرح

٭قانون کی پکڑ سے بڑھتی ہوئی چھوٹ

٭کسانوں کی پریشانی، احتجاج اور خودکشی کے واقعات

٭جموں کشمیر ایشو، بربریت کی انتہا اور پیلٹ گنوں کا معاملہ

٭گرتی ہوئی معیشت اور ڈوبتی ہوئی کمپنیاں

٭اقلیتوں (دلت، مسلمان، عیسائی، پارسی وغیرہ) سے بدسلوکی کی انتہا کامعاملہ

٭خودساختہ نگران گروپس اور مختلف تحریکیں (مثلاً گھر واپسی کی تحریک)

٭خواتین کی سکیورٹی کے معاملات انڈیا اور کشمیر دونوں جگہوں پر

٭سب کا ساتھ سب کا وکاس کیا ہوا

ایسے بہت سے اور سوالات، مسائل اور معاملات جن پر اُٹھنے والے سوالات، بحث ومباحثے جن پر ناکامیوں کے دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں اور مایوسیوں کے گھنے سائے ہیں اور لوک سبھا میں بھی ان پر کچھ نہ ہو سکا مثلاً 2 جنوری کو رافیل طیاروں کی خریداری کے معاملے میں گرماگرم اور پُرشور بحث لوک سبھا میں ہوئی لیکن وزیراعظم نریندر مودی لوک سبھا سے غائب تھے، اراکین کو مایوسی تو بہت ہوئی لیکن پھر بھی وزیردفاع اور وزیرخزانہ ارون جیٹلی قابو آگئے۔ وزیردفاع تو خیر تماشائی ہی معلوم ہوئیں جبکہ ارون جیٹلی نے کسی بھی اہم سوال کا رافیل کے معاملے میں جواب نہ دیا اور آئیں شائیں بائیں اور ٹائیں ٹائیں فش .... اور اب جبکہ الیکشن میں بہت کم وقت رہ گیا ہے تو عوامی رائے دل سے نکل کر لفظوں کا روپ دھار رہی ہے جس میں ”تبدیلی ہونے والی ہے“ کی آواز واضح سنائی پڑتی ہے۔ ایسے میں اب مودی حکومت کوئی بھی قدم اُٹھاتی ہے تو عوام اسے شک وشبہ کی نظر سے دیکھیں گے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ جو حکومت پانچ سال میں کچھ نہ دے سکی وہ اب کیوں دے رہی ہے، ضرور اس میں کوئی چال ہے۔

بھاجپا (BJP) کے ناراض رہنما شتروگن سنہا کہتے ہیں ” یہ ان کے غرور اور خراب کارکردگی کا نتیجہ ہے کہ یہ ہار رہے ہیں، ان کو جلد ہی عقل آجائے گی جبکہ میں جمہوریت زندہ باد کہتا ہوں“۔ دلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے بھی مودی پر سخت تنقید کی ہے کہ عوام نے بھاجپا کو مسترد کردیا ہے۔ آنے والے الیکشن کے لیے جوڑ توڑ شروع ہوچکا ہے جیسے کہ دو ”چندروں“ کا تلنگانہ میں جیسے کہ مایاوتی اور اکھلیش یادو کا اُترپردیش میں۔ مہاراشٹر میں کانگریس اور ”شردپوار“۔ اور دلّی میں ”عآپ“ (عام آدمی پارٹی) کا ”کانگریس سے اتحاد“ وغیرہ۔ لیکن ان کو ابھی حتمی قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ عین موقع پر دھوکہ دینے والے بھی ہوتے ہیں جیسے کہ دسمبر کے الیکشن میں ریاست چھتیس گڑھ میں اجیت جوگی کانگریس سے بغاوت کر کے مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی میں چلا گیا جس سے یہاں کانگریس کو 10 سیٹوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا کیونکہ 2014ءکے الیکشن میں یہاں سے کانگریس 39 سیٹیں لے کر کامیاب ہوئی اور اب 29 سیٹیں ہی لے سکی۔ اتحاد کرنےو الوں کو بلیک میل بھی کیا جائے گا اور لالچ بھی دی جائے گی مثلاً بہوجن سماج پارٹی کی مایاوتی پر مقدمہ چل رہا ہے تو اُترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کو بھی دھمکایا جا رہا ہے کہ تم نے جو خلاف قانون کام کیے ہیں ان پر تمہارے خلاف مقدمات بنائیں گے۔ ہریانہ کے سابق وزیراعلیٰ بھوپیندرسنگھ ہڈا کے خلاف بھی مقدمہ چل رہا ہے جبکہ راہول گاندھی اور سونیا گاندھی ”ہیرالڈکیس“ میں پہلے ہی ضمانت پر ہیں اور مودی جی کو بھی رافیل کیس کا سامنا ہے جس میں لوک سبھا میں بحث کے دوران مودی غیرحاضر رہے اور موقع سے فرار ہو گئے۔ اندرا گاندھی دور میں بھی جب ایمرجنسی نافذ کی گئی تو یہ موقع سے فرار ہو گئے اور گرفتاری سے بچ کر یاتریوں کے روپ میں گجرات سے نکل کر پھرتا رہا اور مذہبی انتہاپسند ہندوﺅں سے آشیرباد ”لیتا“ رہا اور 2014ءمیں یہ اُن کو آشیرواد”دیتا“ رہا۔ مودی سے آشیرواد لینے والوں کی لائن لگی ہوئی ہے جس میں ساکشی مہاراج، یوگی آدتیہ ناتھ، بھیومہاراج، موہن بھگوت، ہری ہرآنند مہاراج، بھیومہاراج، نرمد آنند مہاراج، یوگندر مہنت اور کمپیوٹر بابا (اصل نام دیوداس تیاگی ہے، یہ 55 سالہ بابا اچھی یادداشت رکھتا ہے، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ پر مکمل دسترس رکھتا ہے، ایک ہیلی کاپٹر ذاتی ملکیت ہے) اور امیت شاہ سمیت بہت سے نام ہیں۔ یہ باعمل یاتری ہے کیونکہ اس نے 1990ءمیں ایل کے ایڈوانی کے ساتھ مل کر ”ایودھیارتھ یاترا“ کی تھی اور 1991-92ءمیں بھاجپا کے ہی ”مرلی منوہر جوشی کے ساتھ ”ایکتا یاترا“ کی تھی۔ ماضی کا یہ ویدنگر سٹیشن پر اپنے والد مُول چند کے ساتھ چائے بیچنے والا آج 500 کروڑ کا جہاز سولہ سو کروڑ میں خرید کر بھارت کو ہر طیارے میں گیارہ سو کروڑ کا ٹیکہ لگا رہا ہے۔ اس نے 2014ءکے الیکشن میں بھی بڑا گھپلا کیا۔ ہندو انتہاپسند تنظیموں سے تو یہ پہلے ہی ملا ہوا تھا لیکن 2014ءکے الیکشن میں بڑے کاروباریوں نے بھی اس پر سرمایہ کاری کی۔ جیتنے کے بعد بھی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس کی توجہ کو غیراہم اور بے کار معاملات میں الجھا کر رکھا گیا، مثلاً ”گﺅرکھشا“، ”تین طلاق“، ”مسلمانوں کے خلاف مہم جوئی“، ”رام مندر کی تعمیر“ اور اسی جیسے بے کار معاملات لیکن کاروباریوں نے ایک روپیہ لگا کر سو روپیہ کمایا، مثلاً انیل انبانی کو 30 ہزار کروڑ کا ٹھیکہ کیوں دیا گیا۔ اس پر کتنی کک بیک لی گئی۔

درحقیقت سابقہ الیکشن میں بہت سے کاروباریوں نے سیاسی جماعتوں پر سرمایہ کاری کر کے اُن سے گیم کروائی اور سیاسی جماعتوں کو غلط سمت میں ڈال کر غلط اتحاد کروائے گئے اور ان میں انتشار پیدا کیا گیا، اسی انتشار کا مودی نے فائدہ اُٹھایا یا اس کو فائدہ پہنچایا گیا۔ کانگریس یا بھاجپا ہی نہیں بلکہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو بھی غلط سمت پر ڈالا گیا مثلاً اب اکھلیش یادو اور مایاوتی (ایس پی اور بی ایس پی رہنما) نے 2019ءکا الیکشن مل کر لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ اُترپردیش کے یہ دونوں سابق وزرائے اعلیٰ اگر 2014ءکا الیکشن بھی مل کر لڑتے تو بھاجپا یہاں کی کُل 80 نشستوں میں سے 73 پر کامیاب نہ ہوتی بلکہ نصف سے بھی کم پر جاتی کیونکہ اُترپردیش میں کانگریس، ایس پی اور بی ایس پی کے کئی اُمیدواروں نے بھاجپا کے امیدواروں کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کیے، مثلاً یوپی سے ایس پی کے شفیق الرحمان برق کو تین لاکھ 55 ہزار ووٹ ملے اور بی ایس پی کے عتیق الرحمان کو ڈھائی لاکھ سے زائد ووٹ ملے جبکہ بھاجپا کے ستیرپال سنگھ سینی کو تین لاکھ 60 ہزار ووٹ ملے۔ اگر ایس پی اور بی ایس پی کا اتحاد ہوتا تو کم ازکم چھ لاکھ ووٹ ان کو مل جاتے اور بھاجپا کا امیدوار ہار جاتا۔ امروہہ میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہ تھی، یہاں ایس پی کی امیدوار حمیرہ اختر کو تین لاکھ 70ہزار سے زائد ووٹ پڑے اور بی ایس پی کے فرحت حسن کو ایک لاکھ 62ہزار سے زائد ووٹ پڑے اور بھاجپا (BJP) کے امیدوار کنورسنگھ کو 5لاکھ 28ہزار ووٹ ملے۔ یہاں بھی اگر ایس پی اور بی ایس پی کا اتحاد ہوتا تو بھاجپا کا امیدوار کامیاب نہ ہوتا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال ریاست چھتیس گڑھ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ بھاجپا یہاں گزشتہ 15سالوں سے برسراقتدار تھی لیکن ایسا کیا ہوا کہ اب یہاں سے بھاجپا بُری طرح ہار گئی یعنی کُل 90 نشستوں میں سے صرف 15 سیٹیں حاصل کرسکی جبکہ کانگریس نے یہاں سے 68 نشستیں حاصل کر کے میدان مار لیا ہے اور بہوجن سماج پارٹی کو 7 نشستیں ملی ہیں۔ کانگریس اور بہوجن کا اتحاد 75 نشستوں پر کامیابی کا ضامن ہے۔ ریاست مدھیہ پردیش بھی سیاست میں پیچھے نہیں، یہاں کی کُل 230 نشستیں کسی کے بھی اقتدار میں آنے کی ضامن بن سکتی ہے اور یہاں بھی بھاجپا گزشتہ 15 سالوں سے قابض ہے لیکن اس دفعہ کانگریس نے 116 نشستیں جیت کر میدان مار لیا ہے جبکہ یہاں حکومت سازی کے لیے بھی 116 نشستیں ہی درکار ہوتی ہیں۔ بھاجپا نے 107 نشستیں یہاں سے جیتی ہیں جبکہ ریاست تلنگانہ کی ”ٹی ایس آر“ کی 88 نشستوں پر جیت کے بارے میں اُوپر بیان ہوچکا ہے۔

دوسری طرف مودی کے ہتھکنڈے بھی شروع ہو چکے ہیں تاکہ آنے والے الیکشن (مارچ، اپریل) میں وہ پھر سے مسلمانوں کے سینے پر مونگ دلتا ہوا نظر آئے۔ ان اقدامات میں چھوٹے کسانوں کے قرضے معاف کرنا، معاشی لحاظ سے محروم طبقے کو تعلیم اور سرکاری نوکریوں میں 10فیصدی ریزرویشن دینے کا اعلان، رام مندر کی تعمیر کا شوشہ چھوڑنا اور پڑوسی ممالک کی اقلیتوں کے لیے ایک بل پاس کرنا شامل ہیں اور یہ بل بھی مسلمان مخالف ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ یہ شہریت بل ہے اور اس کا مقصد تین پڑوسی ملکوں بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان سے 31دسمبر 2014ءسے قبل آنے والے ”غیرمسلم“ لوگوں کو بھارتی شہریت دینا ہے۔ یہاں لفظ غیرمسلم استعمال کر کے مسلمانوں کا استحصال کیا گیا ہے جبکہ بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام اور مغربی بنگال میں ”ترنمول کانگریس“ پارٹی نے بھی اس بل کے خلاف احتجاج اور شٹرڈاﺅن ہڑتال کردی ہے۔ مودی کے انتخابی ہتھکنڈوں میں کشمیر ایشو، پاکستان کارڈ کھیلنا، سرحدی خلاف ورزی، ہندوجنتا کو ایک خاص پیغام دینا، عدالتوں کو مسلمانوں کے خلاف اُکسانا (میگھالیہ ہائیکورٹ کے جسٹس سندیپ رنجن سین کا بیان اور فیصلہ)، مختلف شہروں کے نام بدلنا (فیض آباد کا نام بدل کر اجودھیا رکھنا) اور اسی جیسے دوسرے اقدامات لیکن وقت اور سوچ کبھی ایک جیسی نہیں رہتی اور مودی کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اب وقت بھی بدل گیا ہے اور لوگوں کی سوچ بھی بدل گئی ہے لہٰذا مودی جو تماشے پانچ سال کئے ہیں وہ ہی کافی ہے۔

٭


ای پیپر