Image Source : Naibaat

پارلیمانی یا صدارتی؟مسائل کے حل اور ترقی کیلئے کون سا نظام بہتر؟
12 فروری 2019 (17:09) 2019-02-12

حافظ طارق عزیز:

آج جب پارلیمانی نظام بادی النظر میں ناکام ہوتا نظر آرہا ہے تو بااثر حلقوں کی جانب سے پاکستان میں پارلیمانی کی بجائے صدارتی نظام حکومت کو رائج کرنے کی بحث شروع کی جا رہی ہے۔ جب ایسے حالات بن چکے ہیں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک میں پارلیمانی نظام حکومت واقعی ناکام ہو گیا ہے؟ اس کا جواب تو عوام ہی دے سکتے ہیں ۔ مگر ماہرین سیاسیات نے صدارتی اور پارلیمانی نظام ہائے حکومت کی خوبیوں اور خامیوں پر طویل بحثیں کر رکھی ہیں۔ اعداد و شمار کی رو سے دنیا کے 75 فیصد جمہوری ممالک میں صدارتی طرز حکومت رائج ہے۔

اس نظام حکومت میں صدر حکومت اور مملکت، دونوں کا سربراہ ہوتا ہے۔ پارلیمانی نظام نے برطانیہ میں نشوونما پائی۔ یہی وجہ ہے، برطانیہ کی اکثر نو آبادیاں جب آزاد ہوئیں تو انہوںنے اپنے سابق انگریز آقاﺅں کے پارلیمانی نظام حکومت کو اپنانا آسان سمجھا اور اس کی خامیوں پر زیادہ غور و فکر نہیں کیا۔ اسی نظام حکومت کی وجہ سے وطن عزیز میں آزادی کے بعد بہت سے جاگیردار ، امرا اور با اثر لوگ حکومت کے ایوانوں میں پہنچ گئے اور افسر شاہی سے مل کر سیاہ وسفید کے مالک بن بیٹھے۔ جب فوج نے سیاست نقائص دور کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی حکومتی ایوانوں میں آ گئی۔

پاکستان اور جن ترقی پذیر ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت رائج ہے، آج بھی وہاں یہ حال ہے کہ ایک انتخابی حلقے میں جو شخص زیادہ پیسے والا اور اثر و رسوخ کا مالک ہو، عموماً وہی ہر قسم کاالیکشن جیتا ہے۔ بعض امیدوار برادری کے ووٹوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے امیدوار اسمبلیوں میں پہنچ کر ذاتی مفادات کو ہی مقدم رکھتے ہیں۔ جنرل ضیاءالحق کے دور میں ارکان اسمبلی کو ترقیاتی منصوبے انجام دینے کے لیے فنڈز ملنے لگے۔ یوں مال کمانے کا نیا در کھل گیا۔

اب تو ہر پاکستانی یہ جان چکا کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت کی بنیاد کمزور ہے۔ اس نظام میں عام طور پر طاقتور اور دولت مند لوگ ہی اسمبلیوں سے لے کر کونسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ چناںچہ جمہوریت کے مشہور مقولے عوام کی حکومت، عوام کی طرف سے، عوام کے لیے کا تو جنازہ نکل چکا ہے کیونکہ یہان عوام کی اکثریت ان پڑھ ہے۔

برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، ملائیشیا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں پارلیمانی نظام حکومت اس لیے کامیاب ہوا کہ وہاں تقریباً 100فیصد آبادی تعلیم یافتہ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور ووٹر جانتا ہے کہ اس کی ذات، محلے اور ملک و قوم کی بہتری کے لیے کون سا امیدوار ٹھیک رہے گا۔ وہ عموماً کسی لالچ، ترغیب اور خوف کے بغیر اپنا ووٹ استعمال کرتا ہے۔ مگر جن ممالک میں خواندگی کم ہے، وہاں پارلیمانی نظام حکومت کا ناگفتہ حال دیکھ لیجیے کہ اس نظام کے باعث مجرم تک حکمران بن بیٹھتے ہیں۔

یہ تلخ حقیقت ہے کہ جہاں ہم اپنے ہمسایوں میں بہت سی چیزوں میں پیچھے ہیں وہیں ہم پارلیمانی نظام کی بہتری میں بھی پیچھے ہیں۔ اپنے پڑوسی، بھارت کی مثال ہی لیں جو پارلیمانی نظام میں ہم سے بہت آگے ہے مگر وہاں بھی کئی سماجی تنظیموں کے مرتب کردہ اعداد و شمار انکشاف کرتے ہیں کہ بھارتی اسمبلیوں میں ایک سے ایک چھٹا ہوا مجرم بیٹھا ہے۔ کئی ارکان اسمبلی پر قتل، فراڈ، زنا اور چوری ڈاکے جیسے سنگین جرائم کے مقدمے چل رہے ہیں۔ جو بظاہر تعلیم یافتہ اور باشعور ہیں، قوم پسندی کے جراثیم نے انہیں بھی اقلیتوں کا مخالف بنا رکھا ہے۔

بھارت اور پاکستان، دونوں ممالک میں خصوصاً دیہی بااثر طبقہ تعلیم کا سخت مخالف ہے۔ وہ اپنے علاقوں میں اسکول کھلنے نہیں دیتا۔ اگر خوش قسمتی سے اسکول کھل بھی جائے تو جلد یا بدیر باڑے، گودام،اصطبل یا نشیوﺅں کی آماج گاہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ علاقے کے بااثر لوگ اسکول کو چلنے ہی نہیں دیتے۔ دراصل انہیں علم ہے کہ پڑھ لکھ کر کمی کمین بھی اپنے حقوق سے واقف ہو جائیں گے۔ وہ پھر ان کی برابری کرنے لگیں گے اور دیہی معاشرے کے حاکم ایسا ہرگز نہیں چاہتے۔ بہر حال اب پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے پھیلاﺅ سے حالات رفتہ رفتہ بدل رہے ہیں اور ایک ان پڑھ دیہاتی اور شہری مزدور بھی اپنے حقوق و فرائض کی بابت جان رہا ہے۔ مغرب کی تہذیب وتمدن کا پرچارک بھارتی و پاکستانی حکمران طبقہ بھی عوام کو تعلیم دینے سے دلچسپی نہیں رکھتا۔ اقوام متحدہ کے ادارے، یونیسکونے یہ قرار دار منظور کر رکھی ہے کہ ہر ملک اپنے جی ڈی پی کا کم از کم 4 فیصد حصہ شعبہ تعلیم پر خرچ کرے لیکن بھارتی حکومت بمشکل 3.5 فیصد اور پاکستانی حکومت 2.3 فیصد رقم شعبہ تعلیم پر خرچ کرتی ہے۔ اس بجٹ کا بیشتر حصہ بھی تنخواہوں اور غیر تدریسی اخراجات پر لگ جاتا ہے۔

اور یہ بات بھی ہمیں مدنظر رکھنی چاہیے کہ ہم نے مارشل لاﺅں کو دعوت بھی اپنی کمزوریوں کی وجہ سے دی ہے۔ یہ بات سب سے پہلے اس وقت کی گئی تھی جب اکتوبر 1958ءمیں ہماری مسلح افواج کے کمانڈر اینڈ چیف جنرل محمد ایوب خان نے اس وقت کے نیم سویلین نیم فوجی صدر مملکت میجر جنرل (ر) سکندر مرزا کی ملی بھگت کے ساتھ پہلا مارشل لاءنافذ کیا اور پارلیمانی نظام پر مشتمل 1956ءکے آئین کو اٹھا پھینک کر اعلان کیا یہ آئین، یہ نظام اور اسے چلانے والے سیاستدان جن کی معتدبہ اکثریت قائداعظمؒ کے ساتھیوں پر مشتمل تھی ناکام ہو چکے ہیں۔ لہٰذا ملک کو ایک نئے نظام کی ضرورت ہے، جسے بعد میں ایوب خان نے فیلڈ مارشل لاءکا روپ اختیار کر کے 1962ءکے خود ساختہ آئین کو صدارتی نظام کی شکل میں نافذ کر دیا۔ یہ صدارتی نظام اگلے تین چار سال کے اندر ختم ہوگیا۔اور پھر 1969ءکی گول میز کانفرنس میں ملک بھر متعدد قوتوں کی جانب سے پکار اٹھی کہ پارلیمانی نظام کو دوبارہ واپس لایا جائے۔ پھر 1970ءکے انتخابات اور مشرقی پاکستان کا سانحہ ہوا۔ اس تلخ ترین تجربے اور المیے کو سامنے رکھتے ہوئے قوم کے منتخب نمائندوں نے ایک مرتبہ پھر اتفاق رائے کے ساتھ 1973ءکا آئین نافذ کیا۔ اس کے بعد بھی جنرل ضیاءالحق نے 1977ءمیں مارشل لاءلگا دیا۔ پھر شریف الدین پیرزادہ کی جانب سے کہا گیا کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒنے اپنی ذاتی ڈائری میں اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ صدارتی نظام پارلیمانی کے مقابلے میں بہتر ہے۔ بعد ازاں جنرل ضیاءالحق نے 58(2)B اور 62 ،63 جیسی ترمیمات کرکے صدارتی نظام لانے کی حقیر سی کوشش بھی کی جسے سیاستدانوں کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ۔ضیاءالحق مرحوم 1988ءمیں ہوائی حادثے کی نذر ہو گئے۔ ان کی جگہ لینے والے دونوں منتخب اور پارلیمانی لیڈروں مرحومہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے 12ویں اور 13 ویں ترامیم کے ذریعے آئین کے اندر پارلیمانی روح کو نئی زندگی دینے کی کوشش کی مگر 12 اکتوبر 1999ءکو ایک بار پھر مارشل لاءلگ گیا۔

58(2)B دوبارہ نافذ کر دی جبکہ 62، 63 پہلے سے چلی آ رہی تھی، یوں ملک ایک مرتبہ پھر نیم صدارتی اور نیم پارلیمانی نظام کے دھانے پر جا کھڑا ہوا۔ 2008ءمیں دوبارہ خالص پارلیمانی نظام آیا جس کی ”قیادت“ پیپلز پارٹی نے کی۔ اور پھر دوسرا خالص پارلیمانی نظام 2013ءمیں آیا جس کی قیادت ن لیگ نے کی ۔ دونوں ادوار میں جمہوری مدت پوری ہوئی کسی نے مداخلت نہیں کی مگر افسوس کہ ملک میں قرضوں کا حجم 2 سوارب ڈالر تک چلا گیا۔ بادی النظر میں یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ بدعنوانیوں، بد انتظامیوں حتیٰ کہ تمام سطحوں پر انتظامی نااہلیوں سے لتھڑا ہوا نظام بن گیا۔ پارلیمانی نظام کو وراثتی استحکام بخشنے کے لیے اعلیٰ مراتب پر فائز صاحبان اقتدار نے پوری قوت کے ساتھ نے خوب ”محنت “کی۔ لہٰذاپارلیمانی نظام کے تحت ہر سیاسی جماعت کم وبیش ہر حلقہ انتخاب میں سیکڑوں امیدوار میدان میں اتارتی ہے لیکن نسل درنسل آنے والے سیاست دان کوئی زیادہ اہل اور ذہین وفطین نہیں ہوتے ہیں۔ ان حالات میں یہ مضبوط دلیل موجود ہے کہ معاملات کو ازسرنو استوار کیا جائے۔ اعلیٰ قیادت کی کارکردگی اسی وقت بہتر ہوگی جب عوام ان کا احتساب کر سکیں گے۔

ایک دلیل یہ بھی دلیل دی جا رہی ہے کہ ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام کی جگہ براہ راست احتساب کے حامل جمہوریت کے صدارتی نظام کو رائج کیا جائے کیونکہ اس میں ریاست کی انتظامی شاخ مقررہ وقفے مثلاً چار یا پانچ سال کے بعد براہ راست جمہوری عوام کو جواب دہ ہوتی ہے۔ یقیناً زیادہ اختیار زیادہ ذمے داری بھی ڈالتا ہے۔ یہاں جمہوری عوام کے معیار کا بھی سوال پیدا ہوتا ہے جو احتساب کرتے ہیں۔ صدارتی نظام کے تحت ہی ڈونلڈ ٹرمپ ایسے لوگ امریکا میں میدان میں آئے ہیں اور فرانس میں میرین لی پین کو اپنے ملک کا اقتدار سنبھالنے کا موقع ملا تھا۔

اپنے لیڈر کو براہ راست منتخب کرنے کے اختیار کا حامل ہونے کی صورت میں یہ ضروری نہیں کہ عوام سب سے قابل شخص ہی کو منتخب کریں یا وہ ملک کے لیے سب سے زیادہ بہترلیڈر ہی کو منتخب کریں۔ وہ ایسے سیاست دان منتخب کر سکتے ہیں جس کو وہ زیادہ پسند کریں یا وہ ٹیلی ویژن پر بھلا نظر آئے یا جو قوم کو درپیش حقیقی یا خیالی خطرات پر زیادہ کامیابی سے غصے اور خطرے کی گھنٹی بجاسکے۔ملک میں نظام کے حوالے سے حقیقی خدشات موجود ہیں اور انھیں نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ کی جانب سے بد انتظامی نے خطرات کے باوجود متبادل نظام کی تجویز کو زیادہ قابل توجہ بنا دیا ہے جس پر غور کیا جانا چاہیے۔

تعلیم یقینا ایک انسان کو باشعور اور ذمے دار شہری بناتی ہے۔گو زندگی کے تجربات بھی ایک انسان کو باشعور بنا سکتے ہیں، مگر سیاست کے دائرہ کار میں تعلیم کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایک عام شخص کو حقوق و فرائض سے آشنا کراتی ہے۔اگر پاکستانی معاشرے میں تعلیم و شعور عام ہو جائے تو پارلیمانی نظام حکومت کی خوبیاں ظاہر ہو سکتی ہیں۔ تبھی غریب عوام غربت سے نجات پاکر ترقی کرسکتے ہیں۔ آسائشیں پا کر ان کی زندگی سہل ہو جائے گی۔ مگر فی الوقت مٹھی بھر طبقے نے پارلیمانی نظام حکومت پر قبضہ کر رکھا ہے اور صرف وہی اس کی برکات سے مستفید ہو رہاہے۔

عمران خان ”تبدیلی“ کا نعرہ لگا کر میدان سیاست میں داخل ہوئے۔ اس تبدیلی سے ان کی مراد نظام حکومت کو تبدیل کرنا ہے اور ان کے نزدیک صدارتی نظام حکومت موجودہ پارلیمانی طرز حکومت سے بہتر ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ صدر بن کر انھیں اتنی طاقت مل جائے گی کہ وہ فرسودہ نظام تبدیل کرنے والی پالیسیوں کو نافذ کر سکیں۔ پاکستان کے مخصوص حالات مدنظر رکھے جائیں، تو حقیقتاً صدارتی نظام حکومت زیادہ سود مند دکھائی دیتا ہے۔ اس نظام میں ارکان اسمبلی صرف قانون سازی کرنے تک محدود ہوجاتے ہیں۔ حکومت کرنے میں عموماً ان کا زیادہ حصہ نہیں ہوتا۔ وجہ یہ کہ صدر پارلیمنٹ سے باہر بیٹھے کسی بھی دانشور، عالم فاضل یا تجربے کار و اہل شخص کو وزیر بناسکتا ہے۔ گویا پاکستان میں صدارتی نظام رائج ہوا، تو ارکان اسمبلی کی قوت کم ہوجائے گی جبکہ عوام کے منتخب کردہ صدر کی طاقت بڑھے گی۔

صدارتی نظام میں صدر بھی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ پارلیمنٹ کو مرکزی حیثیت حاصل نہیں رہتی لہٰذا سیاست کاروبار نہیں بن پاتی۔ جبکہ پارلیمانی نظام میں سیاست نسل در نسل چلتی اور اور گنے چنے خاندانوں کا انتہائی منافع بخش بزنس بن جاتی ہے۔ پاکستان ہی کو دیکھ لیجیے جہاں اب مخصوص کوٹے پر کئی گھرانوں کی خواتین بھی اسمبلیوں میں پہنچ رہی ہیں۔محسوس ہوتا ہے، انہیں قانون سازی نہیں حکومت کرنے اور فیشن سے زیادہ دلچسپی ہے۔

صدارتی نظام حکومت پر سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اس میں بیشتر طاقتیں صدر کی ذات میں مرتکز ہوجاتی ہیں۔ چناں چہ بعض اوقات وہ آمر بن بیٹھتا ہے۔ مگر پارلیمانی نظام حکومت میں بھی تو وزیراعظم آمر بن جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ صدارتی نظام حکومت میں صدر پر چیک اینڈ بیلنس ہوتے ہیں اور وہ تمام معاملات میں خود مختار نہیں ہوتا۔ برادر اسلامی ملک ترکی میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے صدارتی نظام حکومت اپنالیا گیا ہے جو کامیابی سے چل رہا ہے۔ جبکہ پاکستان میں ایک مخصوص ٹولہ طویل عرصے سے قومی وسائل کے بڑے حصہ سے فائدہ اٹھا رہا ہے جبکہ عوام کے حصے میں بیش بہا وسائل کا چھوٹا سا حصہ ہی آپاتا ہے۔ جس نے بھی پاکستانی عوام کو اس کا جائز حق دیا، چاہے وہ عمران خان ہو یا نواز شریف، بلاول زرداری ہو یا مریم صفدر، وہی عوام کا اصل ہیرو بن جائے گا۔

ہمارے پارلیمانی نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ کیا پاکستان میں اس پر بحث نہیں ہونی چاہیے، اور کیا یہ بحث پارلیمنٹ میں ہونی چاہیے؟ عوام میں ہونی چاہیے یا ریفرنڈم ہونا چاہیے ؟ اس پر پارلیمنٹیرین کو سوچنا چاہیے کہ اس پارلیمنٹ کو اب عوام کے حقوق کے لیے کہاں تک جانا ہے۔ اس لیے اس بحث کو ایک دفعہ دوبارہ اسمبلی کے فورم پر بحث کے لیے کھولا جائے تاکہ ایک درست نظام لایا جائے جس کی اس ملک اور قوم کو اشد ضرورت ہے۔


ای پیپر