Prominent journalist hanged
12 دسمبر 2020 (17:31) 2020-12-12

تہران :حکومت کیخلاف  عوام کو اکسانے پر ایران کے معروف  صحافی کو بڑی سزا سنا دی گئی ،صحافی روح اللہ زم پر الزام تھا کہ انہوں نے ایرانی حکومت کیخلاف عوام کو احتجاج کرنے کیلئے اکسایا تھا ،صحافی نے اپنی ویب سائٹ اور چینل کے ذریعے لوگوں کو احتجا ج کیلئے سر گرم کیا تھا جس کے بعد حکومت مخالف مظاہروں شدت آگئی تھی ۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی صحافی رو ح اللہ زم کو ہفتہ کی صبح پھانسی کے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ،مبصرین کا کہنا ہے صحافی روح اللہ کو پھانسی کی سزا دینے کا وقت انتہائی اہم ہے جب ایرانی سائنسدان کو مخبری کرکے قتل کروایا گیا تھا ،ایرانی حکام کی طرف سے صحافی کو پھانسی دے کر ان تمام لوگوں کیلئے ایک واضح پیغام تھا جو ایران کے اندر رہ کر غیر مسلم طاقتوں کیلئے کام کر رہے ہیں ۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی صحافی روح اللہ زم جلاوطنی کے بعد 2019 کو ایران واپس آئے جہاں انہیں موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا ،عدالت میں ان پر بغاوت کا مقدمہ چلا یا گیا اور انتشار پھیلانے کے الزام میں صحافی پر فرد جرم عائد کی گئی ،اس کے علاوہ صحافی پر حکومت کیخلاف جاسوسی کا بھی الزام لگا یا گیا تھا ۔

ایران کی عدالت نے اس سال جون میں صحافی کو سزائے موت سنائی تھی جس کے بعد گزشتہ مہینے ایران کی سپریم لیڈر نے فیصلے کو برقرار رکھا اور ہفتے کی صبح پھانسی کے تختہ پر لٹکا دیا گیا ۔


ای پیپر