Senate elections, future, government, PML-N, PPP, PTI
12 دسمبر 2020 (12:58) 2020-12-12

اس وقت حکومت کے پاس معاشی میدان میں ڈیفالٹ کا جواب کرونا ہے جبکہ تمام سیاسی مسائل کی وجہ اس بات کو قرار دیا جا رہا ہے کہ چونکہ ہم این آر او نہیں دے رہے مگر یہ دونوں کرنسیاں زیادہ دیر تک حکومت کی نا اہلیوں کو شیلٹر فراہم نہیں کر سکیں گی۔ نواز شریف کو حکومت نے اپنی رضا و رغبت سے باہر بھجوا یا تا کہ انہیں حکومت کرنے میں آسانی ہو مگر معاملہ پھر بھی حل نہ ہوا۔ آصف زرداری ملک کے اندر ہیں اور توجہ ہٹانے کے لیے وہ پس منظر میں چلے جاتے ہیں انہیں بھی غیر اعلانیہ این آر او حاصل ہے کیونکہ سمجھا یہ جا رہا ہے کہ ن لیگ کے قدوقامت میں کمی لانے کے لیے ضروری ہے کہ پیپلزپارٹی کو تھوڑا اوپر آنے کا ایک موقع دیا جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ بلاول بھٹو کو قابل قبول آپشن سمجھا جاتا ہے جس کی وجہ اس کا بے داغ ماضی ہے۔ مگر جس طرح نواز شریف کے ہوتے ہوئے پارٹی میں شہباز شریف کو نمبرون قرار دلوانے کی حکمت عملی فیل ہوئی ہے گمان یہ ہے کہ جب تک آصف زرداری موجود ہیں پیپلزپارٹی کی حقیقی باگ ڈور بلاول کے ہاتھ نہیں آ سکتی۔ 

پاکستان تحریک انصاف کا قبل از حکمرانی مؤقف یہ تھا کہ الیکشن نظام میں اصلاحات ضروری ہیں خصوصاً سینیٹ کے الیکشن میں پیسے کے بے دریغ استعمال کے الزامات کے بعد عمران خان ہمیشہ کہتے تھے کہ سینیٹر کے انتخاب کے لیے صوبائی اسمبلی میں جو ووٹنگ خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہوتی ہے وہ ساری کرپشن کی جڑ ہے اور اس کرپشن کا دروازہ بند کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سینیٹ الیکشن کا طریقہ کار بدل دیا جائے اور وہاں شو آف ہینڈ کے ذریعے ووٹنگ کرائی جائے تاکہ سارا عمل شفاف ہو۔ مگر جب تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے کے بعد سینیٹ الیکشن ہوا تو اس میں پرانا طریقہ ہی اختیار کیا گیا۔ تحریک انصاف کا جواب یہ تھا کہ اس کے لیے چونکہ آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے لہٰذا ہم چاہتے تو ہیں کہ سینیٹ الیکشن کھلے عام ووٹ سے ہو مگر ہم ایسا نہیں کر سکتے اسی دوران حکومت آدھی مدت پوری کر چکی ہے اور اگلے سال مارچ میں پھر سینیٹ الیکشن ہے جو ایک بار پھر خفیہ رائے دہی کی بنیاد پر ہونے جا رہا ہے کیونکہ آئین میں ترمیم نہیں ہو سکی ۔ تحریک انصاف نے اتمام حجت کے لیے ماضی میں اپنے اخباری بیانات میں اپوزیشن کو آئینی ریفارم کی دعوت دی لیکن موجودہ حالات میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جو زیرہ ورکنگ ریلیشن پائی جاتی ہے اس میں کسی آئین کی ترمیم پر اتفاق رائے ہونا ممکن نہیں ہے اور لگتا ہے کہ تحریک انصاف اگر اپنے 5 سال پورے کر بھی لے تو آئینی ریفارم پیکیج پھر بھی پاس نہیں ہو گا کیونکہ حکومت خود اس میں مخلص نہیں ہے انہیں خفیہ رائے دہی کی ضرورت اسی وقت ہوتی ہے جب وہ خود اپوزیشن میں ہوں اب چونکہ تحریک انصاف حکومت میں ہے 

تو خفیہ رائے دہی اور ہارس ٹریڈنگ انہیں Suit کرتی ہے اس لیے حکمران پارٹی کی سینیٹ الیکشن کے طریقہ کار بارے آئینی ترمیم بے معنی ہے۔ 

اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان عدم برداشت کا جو لیول پایا جاتا ہے اس کے ہوتے ہوئے دونوں کیمپوں کے درمیان کسی اصلاح احوال کا امکان نہیں جس کا نقصان عوام کو ہے کہ حکومت قومی ترقی کی بجائے محاذ آرائی میں مصروف ہے۔ اس کا ایک ضمنی پہلو یہ ہے کہ اس وقت حکمران جماعت کے کلی اختیارات غیر منتخب لوگوں کے ہاتھ میں ہیں رزاق داؤد سے حفیظ شیخ تک اور زلفی بخاری سے فردوس عاشق تک ہر جگہ غیر منتخب لوگ حکومت چلا رہے ہیں۔ فواد چوہدری جیسے منتخب لوگ سائیڈ لائن کر دیئے گئے ہیں۔ اب بھی اگر آپ شہباز گل اور فواد چوہدری کے بیانات کا تقابل کریں تو اس میں آپ کو واضح فرق نظر آئے گا کیونکہ سیاسی لوگ جتنے مرضی گر جائیں پھر بھی ایک لیول سے نیچے نہیں جاتے مگر شہباز چودھری جیسے لوگوں کو پتہ ہے کہ جیسے ہی ان کی پارٹی کی حکومت ختم ہونی ہے، انہوں نے ملک سے باہر چلے جانا ہے اس لیے وہ ہر طرح کی احتیاط کو بالائے طاق رکھ کر اپنا حق نمک ادا کرتے ہیں ان کا اپنا کوئی حلقہ نہیں ہوتا ان کی ساری قوت پارٹی قیادت کی طفیل ہوتی ہے اس لیے وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار نظر آتے ہیں۔ 

اس پس منظر کے بعد ملک میں جاری پی ڈی ایم تحریک فیصلہ کن مرحلے کی جانب جا رہی ہے ۔ حکومت کو امید نہیں تھی کہ یہ تحریک اتنی منظم اور مضبوط ہو گی۔ اسی لیے وزیراعظم مذاق اڑایا کرتے تھے کہ یہ احتجاج کریں تو ہم انہیں کنٹینر مہیا کریں گے اب جبکہ اپوزیشن نے احتجاج کا بازار گرم کیا ہے تو حکومتی حلقوں پر لرزہ طاری ہے۔ اچھے سیاستدان ہمیشہ مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہونے دیتے لیکن لگتا ہے کہ حکومت کی بیک چینل ڈپلومیسی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کہتے ہیں کہ سیاستدان اگر ہاں کہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے شاید اور اگر وہ شاید کہے تو اس کا مطلب نہیں ہوتا ہے اور اگر سیاستدان براہ راست انکار یا نہیں کہہ دے تو پھر وہ سیاستدان ہی نہیں ہے۔ اس تناظر میں این آر او نہیں دوں گا کا مطلب آپ سب سمجھ سکتے ہیں حالانکہ یہ وہی این آر او ہے جو پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ سب کچھ سکرپٹ کے مطابق ہو رہا ہے۔ وزیراعظم کو جو کچھ کہنے کے لیے کہا جاتا ہے وہ کہہ کر چلے جاتے ہیں۔ 

حکومت اگر پی ڈی ایم کی مزاحمت کو نہ روک سکی تو یہ اور بڑھتی جائے گی۔ اپوزیشن کا استعفوں کا آپشن ان کی طرف سے ایک دھمکی ہے۔ یہ آپشن اپوزیشن اتنی آسانی سے استعمال نہیں کرے گی بلکہ اسے اس وقت لایا جائے گا جب لوہا گرم ہو گا اور اپوزیشن کو حکومت گرانے کا 100 فیصد یقین ہو گا ۔ جو حکومت یہ کہتی ہے کہ ہم ضمنی انتخابات کرا دیں گے یہ اتنا آسان نہیں ہو گا۔ ملک دن بدن انارکی کی طرف بڑھ رہا ہے اور حکومت معاملات کو ٹھنڈا کرنے کی بجائے اس ضد پر ڈٹی ہوئی ہے بالآخر حکومت کو لچک دکھانا ہو گی اس وقت معاملات حکومت سے زیادہ اپوزیشن کے ہاتھ میں جا چکے ہیں۔ 

حکمرانی کا ایک اور منفی پہلو یہ ہے کہ لوکل باڈیز حکومتیں ابھی تک غیر فعال ہیں اب کہا جا رہا ہے کہ سینیٹ الیکشن کے بعد بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے تب تک یہ حکومت اپنے تین سال بغیر ضلعی حکومتوں کے پورے کر چکی ہو گی۔ حکومتی ایم این اے اور ایم پی اے اپنے حلقوں میں نہیں جا رہے وہ شرمندہ ہیں کیونکہ ترقیاتی کام نہیں ہو رہے۔ آپ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہوں گے کہ محلے میں کسی گٹر پر ڈھکن لگانے کی تقریب ہو رہی ہو تو مہمان خصوصی ایم این اے ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ بے بس ہیں کہ عوام کے سامنے جا سکیں یہ 


ای پیپر