War, nightmare, Eric S. Margolis
12 دسمبر 2020 (12:44) 2020-12-12

پہلی جنگ عظیم کو 100سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا، یہ ایسی جنگ تھی جس کے بعد جنگیں ختم ہو جانا چاہئیں تھیں۔ اس جنگ کا شکار ہونے والے 16لاکھ افراد کو یاد کرتے ہوئے ہمیں ان سیاستدانوں، حکام اور نااہل جنرلوں کی مذمت کرنی چاہیے جو اس بدترین خونریزی کے ذمہ دار تھے۔ میں نے اس جنگ کے تمام مغربی محاذوں پر مٹر گشت کیا، آسیب زدہ جنگ کے میدانوں و قلعوںکا مشاہدہ کیا، لاتعداد مقامات پر گمنام قبروں کی نشاندہی کرنے والے صلیب کے نشان دیکھے۔ بطور سابق فوجی اور جنگی نامہ نگار میں نے ہمیشہ پہلی جنگ عظیم کو جدید زمانے کا احمقانہ اور تباہ کن المیہ قرار دیا ہے۔ اس جنگ کا تسلسل دوسری جنگ عظیم تھی جس میں کہیں زیادہ شہری ہلاکتیں اور تباہی نازل ہوئی۔ میری نظر میں پہلی جنگ عظیم وحشت کا سامان تھی۔ یہ جنگ سپاہیوں کیلئے مہلک امراض کی صورت میں ڈراؤنا خواب بننے کے علاوہ یورپ کی 100 سالہ تہذیبی کامیابیاں بھی چاٹ گئی جو کہ بنی نوح انسان کیلئے تھیں۔

میں نے ورڈون کا میدان جنگ کئی مرتبہ دیکھا، جہاں لاکھ فوجی مارے گئے تھے۔ اس میدان میں پوری رات میں نے گزاری، فرانسیسی اور جرمن فوجیوں کے روحیں تلاش کرنے کی کوشش کی جو وہاں مارے گئے تھے۔ ورڈون کا میدان زہریلی گیس اور دھماکہ خیز مواد کے استعمال  سے اس قدر متاثر ہے کہ آج بھی وہاں ہر چیز مرجھا جاتی ہے۔ اس میدان کی زمین کے نیچے ہلاک فوجی کی باقیات اور کثیر تعداد میں شیل ہیں جو کہ ابھی تک ناکارہ نہیں ہوئے اور ہر سال کئی افراد کی موت کا باعث بن رہے ہیں۔ وہاں کے ایک اجڑے گرجا گھر میں  ایک لاکھ 30 ہزار افراد کی ہڈیوں کے ٹکڑے ہیں، جو کہ لاکھوں دھماکہ خیز شیلز کے پھٹنے سے مرے۔ اس میدان کے قریبی قصبے بھی آج تک اجڑے ہوئے ہیں۔ نوجوان فرانسیسی اور جرمن افسروں کو یہاں لایا جاتا ہے تاکہ جنگ کی تباہ کاریاں اور نااہل جرنیلوں کے جرائم کا قریب سے نظارہ کریں۔ سیاستدانوں، سامراج پسندوں اور مذہبی رہنماؤں کے نام نہاد محب الوطنی کی باتیں جن میں پہلی جنگ عظیم کی ہلاکتوں کی عظمت بیان کی گئی ہے، اس کے برعکس دیکھا جائے تو یہ جنگ سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھی، وگرنہ اس جنگ سے گریز کیا جا سکتا تھا۔ اس جنگ کے بارے میں آج تک جو پروپیگنڈہ ہوا ہے، اس کے برعکس تاریخی حقیقت یہ ہے کہ جنگ جرمن سامراج نے شروع نہیں کی تھی۔

پروفیسر کرسٹوفر کلارک نے اپنی شاندار کتاب ’’دی سلیپ والکرز‘‘ میں وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ کیسے برطانوی اور فرانسیسی حکام اور سیاستدانوں نے سربیا میں آسٹریا ہنگری کے ولی عہد کے قتل کو یورپ بھر کی جنگ میں بدلنے کی سازش کی۔ فرانسیسی 1870ء کی جنگ کا جرمنوں سے بدلہ لینا چاہتے تھے جس میں انہیں الساس لورئین کے علاقے گنوانا پڑے تھے۔ برطانیہ کو جرمنی سے تجارتی اور نیول مسابقت کا خطرہ ستا رہا تھا۔ اس وقت برطانوی سلطنت دنیا کا ایک تہائی علاقہ کنٹرول کرتی تھی۔ اٹلی آسٹریا ہنگری کے علاقے جنوبی ٹائرول پر قبضے کا خواہاں تھا، ترکی کو روس کے آبنائے فاسفورس تک پہنچنے کا خوف تھا۔ آسٹریائی ہنگری روس کی توسیع پسندی سے خائف تھے۔

پروفیسر کلارک نے واضح حقائق کی بیان پر ثابت کیا ہے کہ فرانس اور برطانیہ نے کمزور جرمن قیادت کو جنگ پر مجبور کیا۔ جرمنوں کو 2 مخالف قوتوں روس اور فرانس کے درمیان کچلے جانے کا خوف تھا۔ جرمنوں کی تیاری میں تاخیر نے اس کی فوجی کامیابی کے امکانات مزید معدوم کر دیئے۔ ان دنوں جرمنی سماجی انصاف میں یورپ کا قائد کہلاتا تھا۔ برطانیہ تجارت اور نوآبادیات میں حریف کو شکست دینے کیلئے پُرعزم تھا۔ پھر جنگ ایک ایسا گھڑیال بن گئی جسے کوئی روک نہ سکا۔ ہر فریق خیال تھا کہ جنگ مختصر اور فیصلہ کن ہو گی۔ لاکھوں احمقوں کا جلوس برلن اور پیرس کی سڑکوں پر نعرے بازی کرتا تھا۔ صرف چند حلقے ہی جدید جنگ کی ہولناکی اور اس کے جغرافیائی سیاسی مضمرات کا ادراک کر پائے۔ 1904ء کی روس جاپان جنگ نے 1914ء کی جنگ کا خاکہ دنیا کے سامنے رکھ دیا تھا، مگر یورپ کے بلند مرتبہ حلقوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔

کوئی بھی ادراک نہ کر سکا کہ عثمانی اور آسٹرو ہنگرین سلطنتوں کا خاتمہ یورپ اور مشرق وسطیٰ کو سنگین افراتفری سے دوچار کر دیگا، جس کا دونوں خطے آج تک سامنا کر رہے ہیں۔ کیسے لینن نام کا ایک غیر معروف انقلابی استعماری روس کو تباہ کر کے جدید دور کی خونخوار ریاست میں تبدیل کر دیگا۔ یورپ میں لڑی جانیوالی پاگلوں کی یہ جنگ 1917ء میں تاریخی المیے بن گئی جب امریکی صدر وڈرو ولسن نے مغربی محاذ سے امریکا کو جنگ کا حصہ بنا دیا۔ دس لاکھ امریکی فوج اور برطانوی نیوی کی سخت ناکہ بندی کے باعث قحط نے جنگ کا نقشہ تبدیل کر دیا، جرمنی کو ہتھیار ڈالنا پڑے۔ انتقام میں اندھے فرانس اور برطانیہ نے جرمنی کو سخت سزا دی، کئی ناقابل برداشت پابندیاں لگائیں، اسے مجبور کیا کہ وہ جنگ کی مکمل ذمہ داری قبول کرے۔ تب سے یہی جھوٹ دنیا میں رائج ہے۔

فرانسیسی برطانوی رویے کا نتیجہ ایڈولف ہٹلر اوراس کی نیشنل سوشلسٹ جماعت کی صورت میں برآمد ہوا۔ 1917ء میں باوقار امن معاہدہ پر اگر اتفاق ہو جاتا، تو ہٹلر اور سٹالن کبھی اقتدار پر قابض ہونے میں کامیاب نہ ہوتے، نہ کروڑوں زندگیاں جنگ کی نذر ہوتیں۔ پہلی جنگ عظیم کا حقیقی المیہ یہی 


ای پیپر