Humans, accountable, treatment, all creatures
12 دسمبر 2020 (12:16) 2020-12-12

جب ہم قرآن کی یہ آیت پڑھتے ہیں 

واللہ سریع الحساب 

کہ اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔

اور یہ پڑھ کرآپ کو لگتا ہے کہ یہ آیت صرف حقوق اللہ یا حقوق العباد تک ہی محدود ہے  تو پھر آپ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جب حساب لے گا تو پھر اس میں تمام مخلوقات سے آپ کے سلوک کا حساب لیا جائے گا۔

کبھی سوچا ہے کہ جب آپ معصوم جانوروں پر ظلم وستم کرتے ہیں، ذاتی لطف کے لیے ان کا شکار کرتے ہیں،  ان بے گناہوں کو خون میں لت پت کر دیتے ہیں ان کو کسی بھی قسم کی اذیت کا نشانہ بناتے ہیں تو جب یہ تکلیف اور بے بسی سے روتے ہیں تو اس وقت بھلا یہ کس سے فریاد کر رہے ہوتے ہیں؟

 کیا ان کا اور آپ کا رب کوئی اور ہے؟ 

کیا یہ اپنے رب کی تسبیح بیان نہیں کرتے؟

تو ظاہر ہے یہ اپنے رنج والم کی فریاد بھی اللہ سے ہی کریں گے نا! 

سوچیں کیا عالم ہوگا حشر میں جب دنیا میں آپ کے کھیل تماشے کی وجہ سے ان بے زبانوں پر کیا گیا ظلم آپ کے گلے کا پھندا بن جائے گا!  

عجیب تماشا ہے کہ دو کتوں کو شوق کی خاطر آپس میں لڑایا جاتا ہے، ان مقابلوں سے پہلے اعلانات ہوتے ہیں پھر جیتنے والے کتے کے مالک کو بڑے بڑے انعام دیے جاتے ہیں اور اس دوران کتے لڑ لڑ کر لہو لہان ہو جاتے ہیں اور کئی مر بھی جاتے ہیں۔ مختلف علاقوں میں مرغوں، کبوتروں اور بیٹروں کی لڑائی بھی کروائی جاتی ہے اور سب تماشا دیکھتے ہیں ان کے زخمی ہونے کا! 

اپنی سنسنی کی خاطر مظلوم پرندوں اور جانوروں کو خون میں لت پت کردینے والے یقیناً عذاب عظیم کے مستحق ہیں۔ اور کیا روز حشر جانوروں کا حساب ہوگا یا نہیں؟ 

 اس کے لیے سورۃ الانعام (آیت 38) کا ترجمہ دیکھیں۔

’’اور جتنی قسم کے جاندار زمین پر چلنے والے ہیں اور جتنی قسم کے پرند جانور ہیں کہ اپنے دونوں 

بازوؤں سے اڑتے ہیں ان میں کوئی قسم ایسی نہیں جو کہ تمہاری طرح کے گروہ نہ ہوں، ہم نے لوحِ محفوظ میں کوئی چیز نہیں چھوڑی، پھر سب اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے۔‘‘

یاد رکھیں جانوروں کے ساتھ کیا گیا سلوک آپ کو جہنم یا جنت تک پہنچا سکتا ہے۔   

آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو دو جہانوں کے لیے رحمت کا باعث ہیں نے جانوروں کے ساتھ احسان کا حکم دیا اور ان پر زیادہ بوجھ لادنے، ان کو اذیت دینے، ان کو داغنے، باندھ کر نشانہ لینے سے منع فرمایا یہاں تک کہ ظلم کرنے والوں پر لعنت فرمائی۔

محض دنیاوی لذت کے لیے ہم دائمی عذاب کا سودا کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ایک بدکار عورت کی بخشش صرف اس وجہ سے کی گئی کہ ایک مرتبہ اس کا گذر ایک ایسے کنویں پر ہوا جس کے قریب ایک کتا کھڑا پیاس کی شدت سے ہانپ رہا تھا، اور قریب تھاکہ وہ پیاس کی شدت سے ہلاک ہوجائے، کنویں سے پانی نکالنے کو کچھ تھا نہیں، اس عورت نے اپنا چرمی موزہ نکال کر اپنی اوڑھنی سے باندھا اور پانی نکال کر اس کتے کو پلایا، اس عورت کا یہ فعل بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوا،اور اس کی بخشش کر دی گئی۔(مسلم)

جبکہ ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ وہ بلی کو باندھ کر رکھتی تھی نہ کھلاتی نہ پلاتی اور نہ اس کو چھوڑ دیتی کہ چر چگ کر کھائے (مسلم)

جیسے انسان پر ظلم و زیادتی حرام ہے تو اسی طرح جانوروں  پر بھی حرام ہے بلکہ جانوروں پر ظلم کرنا زیادہ بڑا گناہ ہے کہ انسان تو اپنا دکھ درد کسی سے کہہ سکتا ہے مگربے زبان جانور کس سے فریاد کرے؟

ایک اچھی خبر یہ ہے کہ پاکستان میں زنجیروں میں قید کاون اب کمبوڈیا کی آزاد فضائوں میں سانس لے رہا ہے۔  اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں کاون کی نا گفتہ بہ حالت عالمی سطح پر لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی تھی۔کاون کو پینتیس برس اسلام آباد کے چڑیا گھر میں زنجیر کے ساتھ باندھ کر رکھا گیا تھا۔ اس کی ساتھی ہتھنی سن 2012 میں  بدن کے گلنے سڑنے کے مہلک انفیکشن سے مر گئی تھی۔ افسوس ناک بات یہ تھی کہ اس کا مردہ جسم کئی دنوں تک کاون کے قریب ہی پڑا رہا اور اس کے انتہائی منفی اثرات نے نر ہاتھی کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس کی ڈپریشن سے بھرپور تصاویر نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔ کاون نفسیاتی اعتبار سے کمزور ہو چکا تھا۔ جانوروں کے حقوق کے سرگرم افراد نے کاون کو دنیا کا 'تنہا اور اکیلا ہاتھی‘ قرار دے رکھا تھا۔ ڈاکٹر عامر خلیل نے کاون کے کئی زخموں کا مکمل علاج کیا جبکہ کاون کی تربیت اور صحت میں بہتری کے لیے جانوروں کی نگہداشت کی بین الاقوامی تنظیم 'فور پاز‘ پیش پیش رہی۔

کاون کی کمبوڈیا ایلیفینٹ نیشنل پارک منتقلی کے بعد بھی جسمانی اور نفسیاتی علاج جاری ہے۔۔

کاون کے حق میں امریکی گلوکارہ چَیر نے بھی اور لوگوں کے ساتھ مل کے بھرپور آواز بلند کی تھی۔ انہوں نے کاون کی زندگی پر ایک دستاویزی فلم بنانے کا بھی اعلان کر رکھا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران چَیر نے کاون کے علاج اور اس کی کمبوڈیا منتقلی کے فیصلے اور حکومتی کاوشوں کو سراہا۔

چلیں یہ فکر تو ختم  ہوئی کہ اب کاون کمبوڈیا میں آزاد ہے! 

شکریہ غیر مسلموں کا جنہوں نے ہم مسلمانوں کی توجہ اس بے زبان کی حالت زار پر دلائی اور اعلیٰ حکام نے اس کا نوٹس لیا اور امریکی گلوکارہ چَیرکی خصوصی کاوشوں کے نتیجے میں کاون آزاد ہوگیا۔ 

کاش! چَیر کوکبھی پتہ نہ چلے کہ اس ملک میں انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک ہوتا ہے! 

مجھے فکر ہے کہیں وہ فیصل آباد میں معصوم گھریلو ملازمہ پر تشدد کی ویڈیو نہ دیکھ لے جس میں معمولی بات پر سات لوگوں نے ایک گیارہ سالہ بچی کو مار مار کر ادھ موا کردیا  اور ملزم چونکہ با اثر تھا اس لیے آج اس کی ضمانت بھی ہوگئی اور بچی چونکہ غریب تھی اور انصاف تو امیروں کی باندی ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو بھول جائیے اور کاون کی تصاویر کو انجوائے کریں۔ کیونکہ یہ واحد ملک ہے جس کا کوئی دستور نہیں! 


ای پیپر