Country situation, political activities, PDM, Lahore jalsa, Maryam Nawaz
12 دسمبر 2020 (12:06) 2020-12-12

 اسی سال اگست میں میَں نے ایک کالم لکھا تھا جس کا عنوان تھا ’’ پاکستان میں سیاست ایک بہترین پروفیشن ‘‘۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے لکھا کہ سیاست اپنے ملک کا واحد پروفیشن ہے جسے اختیار کرنے کے لیے کسی تعلیم یا عُمر کی کوئی قید یا پابندی نہیں ہے۔آپ اگر صرف پرائمری پاس ہیں اور آپ نے میٹرک بھی نہیں کیا تو آ پ اس ملک کے سیاستدان بن سکتے ہیں اور اس ملک کی صوبائی اور قومی اسمبلیوں کی ممبرشپ کے لیے الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔ کسی بھی اسمبلی کا حصہ بن جانے کے بعدآ پ ا س ملک کی نہ صرف موجود آبادی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی قانون سازی کر سکتے ہیں۔صوبائی یا قومی اسمبلی کا ممبر ہونے کے ناتے آپ صوبائی یا وفاقی وزیر بھی بن سکتے ہیں۔نہ صرف وزیر بلکہ آپ اس ملک کے کسی صوبہ کے وزیر اعلیٰ بھی بن سکتے ہیں۔بات یہاں ختم نہیں ہوتی، بلکہ آپ اس ملک کے وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں۔جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہے کہ اس پروفیشن کو جوائن کرنے کے لیے عمر کی کوئی قیود نہیں ہیں۔ آپ اگر ستر (70 ) کے سن کو بھی پہنچ چکے ہیں تو بھی نو پرابلم ۔ آپ کو تو معلوم ہو گا کہ ہمارے موجودہ وزیر اعظم عمران خان اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ہی ستر کے ہو جائیں گے ۔ اسی طرح ہمارے کئی دفعہ وزیر اعظم بننے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف بھی لگ بھگ ستر کے قریب تھے۔آپ اگر اس ملک کے ایک کامیاب سیاستدان بن گئے تو پھر آپ اس ملک کی امیر ترین شخصیت بھی بن سکتے ہیں ۔ کیا آپ نے کبھی اس ملک میں  کوئی سیاستدان لوئر مڈل کلاس یا مڈل کلاس طبقہ والی زندگی گزارتے دیکھا ہے؟اس ملک کی بیوروکریسی ، اس ملک کے ڈاکٹرز ، انجینئرز اور پروفیسرز آپ کی نظر کرم کے ہر وقت متلاشی رہیں گے۔ لیکن وہ جو علامہ محمد اقبال نے کہا تھا کہ ع ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں تو حالات میں اک تغیر کی جھلک اس وقت اپنے ملک میں بھی نظر آ رہی ہے۔ آج کل اپنے ملک کے سیاستدانوں کی 

ایک خاصی تعداد پریشانیوں میں گھری ہوئی ہے۔ خصوصاً وہ سیاستدان جنہوں نے لمبا لمبا عرصہ اس ملک پر حکمرانی کی ہے۔ مثلاً شریف خاندان اور اس خاندان کے ساتھ مل کرحکمرانی کے مزے لوٹنے والے،پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ اور اُن کے حواری، مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت۔ سیاستدانوں نے چونکہ عوام کو محرومیوں اور غربت کے سوا کچھ بھی نہیں دیا اس لئے عوام کو بھی سیاستدانوں کی پریشانیوں کا  کوئی غم نہیں۔ تبدیلی کے داعی عمران خان کا دور صرف اُن کے پاکستانی اور باہر کے ملکوں کے دوستوں کے لیے موج میلہ کا دور ہے ورنہ عوام تو جتنے اس دور میں پریشان ہیں میں نے اُنھیں اتنا پریشان کبھی  نہیںدیکھا۔لیکن عمران خان کے دور حکمرانی کی ایک بات دل کی تشفی کا باعث بھی ہے اور وہ یہ کہ اس ملک پر دہائیوں مل جل کر حکمرانی کرنے والے خاندانی سیاستدان بھی پریشان اور سرگرداں پھرتے نظر آتے ہیں۔ عمران خان کے دور مہنگائی میں پسنے والے عوام کو ’’ کپتان ‘‘ کی ایک بات تازہ ہوا کا جھونکا لگتی ہے جب وہ کہتاہے ’’ میں ان کو نہیں چھوڑوں گا ‘‘۔عوام کو اس ملک کے خاندانی سیاستدانوں و حکمرانوںکو پریشانیوں میں گھرا دیکھ کر یک گونہ سا سکون ملتا ہے، آج کل اپنے ملک میں سیاسی ارتعاش کا دور دورہ چل رہا ہے۔ سوائے حکومتی پارٹی یعنی تحریک انصاف کے اور ایک دو اس کے چھوٹے چھوٹے اتحادیوں کے، اس ملک کی تمام سیاسی پارٹیاں اس ایک ایجنڈا پر متفق ہو چکی ہیں کہ عمران خان کو حکومت سے نکال باہر پھینکا جائے۔ایسا کیا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں عمران خان کے درپے ہو گئی ہیں۔دراصل بات یہ ہے کہ عمران خان ہمارے ملک میں دہائیوںسے حکمرانی کرنے والے سیاستدانوں سے کافی مختلف ہے۔ اس کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ یہ مل کر کھانے میں یقین نہیں رکھتا جو یہاں کے سیاستدانوںنے ایک روایت بنا رکھی تھی۔مسلم لیگ (ق) ، ایم کیو ایم اور جی ڈی اے اس کے چھوٹے چھوٹے اتحادی ہیںلیکن یہ سب بھی کپتان سے ناراض ناراض رہتے ہیں۔آخر کار اس ملک کی گیارہ سیاسی جماعتوں نے کپتان کی حکومت  کیخلاف ایک اتحاد قائم کر لیا ہے، اور اس اتحاد نے حکومت کے خلاف ایک ملک گیر تحریک کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ اس تحریک کو نام دیا گیا ہے ’’ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ‘‘۔ ان گیارہ پارٹیوں نے متفقہ طور پر مولانا فضل الرحمان کو اس تحریک کا چئیرمین مقررکر دیا ہے۔قمر زمان کائرہ صدر پیپلز پارٹی پنجاب کہتے ہیں کہ اس تحریک کا ٹارگٹ ملک میں صحیح اور جینوئن ڈیموکریسی کا نفاذ کرانا ہے۔ جب بھی اس تحریک کے لیڈران کی کوئی میٹنگ ہوتی ہے تو اس کے اختتام پر مولانا بطور چئیرمین ایک پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ ایسے موقع پر بلاول بھٹو زرداری ان کی دائیں سائیڈ پر اور مریم نواز ان کی بائیں سائیڈ پر ہوتی ہیں۔یہ تینوں مل کر اس ملک میں صحیح اور جینوئن جمہوریت کے نفاذکی خاطر طے کیے گئے لائحہ عمل کی وضاحت پیش کرتے ہیں۔ان کے منہ سے جمہوریت کی باتیں سن کر حیرانی سی حیرانی ہوتی ہے ۔ یہ لوگ کتنی دلیری سے قوم کو بدھو بنا رہے ہوتے ہیں۔اب ذرا ان تینوں شخصیات پر غور کریں جو اس ملک میں جمہوریت کے نفاذ کا راگ الاپ ر ہی ہوتی ہیں۔سب سے پہلے جناب چئیرمین مولانا فضل الرحمان پر نظر ڈال لیتے ہیں ۔ موصوف کے والد محترم مولانا مفتی محمود صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیراعلیٰ رہے ہیں۔اب مولانا صاحب کے دائیں طرف کھڑے بلاول بھٹو زرداری کے حسب نسب پر ایک نظر ڈال لیں ۔ والدہ بے نظیر بھٹو دو دفعہ اس ملک کی وزیراعظم رہی ہیں اور والد زرداری اس ملک کے صدر رہے ہیں۔ بائیں جانب کھڑی مریم نواز کے والد نواز شریف تین دفعہ اس ملک کے وزیراعظم رہے ہیں اور چچا شہباز شریف کوئی 3مرتبہ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ۔ یہ اولادیں ابھی اس ملک میں صحیح اور جینوئن جمہوریت تلاش کرتی پھرتی ہیں۔ ذہن میں رہے کہ ہم عمران خان کی سائیڈ قطعاً نہیںلے رہے۔ اسپر تو یہ پریشر ضرور رہنا چاہیے کیونکہ اس کے دور میں بھی غریب کا 


ای پیپر