روایتی سیاست
12 دسمبر 2020 2020-12-12

پاکستان کی تاریخ میں جلسے جلوس تو بہت نکالے گئے پہلے کچھ ریاستی ادارے اور پوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت گرایا کرتے تھے۔ لیکن اب یہ ادارے حکومتوں کو گرانے کی بجائے اسے اپوزیشن سے بچا رہے ہیں۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سیاسی درجہ حرارت بہت تیز ہے کیونکہ اڑھائی سال تک عمران خان نے اپوزیشن کو اپنی طاقت دکھائی، نہ صرف یہ بلکہ اقتدار میں آنے سے پہلے اپوزیشن کو دن میں تارے بھی دکھائے۔ مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں اب یہ کمان سنبھالی ہے پی ڈی ایم نے جو تیرا دسمبر کو بڑا جلسہ کرنے جارہی ہے۔ اپوزیشن کی 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد پی ڈی ایم حکومت کو جنوری تک گھر بھیجنے کا دعویٰ کر رہی ہے، افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں جلسے جلوس کرنے کا مقصد اقتدار کی ہوس رہا ہے یا طریقہ انتقام۔عمران خان کا انتقام بھی اندھا ہے اور اپوزیشن کا انتقام بھی۔جم غفیر اکٹھا کرنے کی داغ بیل تو عمران خان نے ڈالی لیکن مولانا فضل الرحمان سے انجام تک پہنچائیں گے۔ 

دیکھا جائے تو اپوزیشن جماعتیں پی ڈی ایم کی صورت میں حکومت کو مزید ڈھائی سال دینے کو تیار دکھائی نہیں دیتیں تمام جماعتیں کم و بیش اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حکومت کو ہر صورت جانا ہو گا اور اس کےلئے جو بھی حکمت عملی تیار کرنا پڑی، وہ کی جائےگی۔

تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ ’اس وقت تمام تر لڑائی اس بات پر ہے کہ حکومت اور فوج طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔ اپوزیشن ریاست اور حکومت کے درمیان اس گٹھ جوڑ کو توڑنا چاہتی ہے۔ اب ریاست یا تو غیر جانبدار ہو جائے یا پھر ان کے ساتھ ہو جائے۔جہاں تک پاکستان کی فوج کی بات ہے تو جب تک لانگ مارچ کا اعلان نہیں ہو جاتا وہ اس وقت تک تو پسِ منظر میں رہ سکتی ہے۔

انہوںنے کہا کہ ’فوج کا کردار دو طریقے سے عمل میں آ سکتا ہے۔ یا تو فوج کو مذاکرات کا حصہ بنایا جائے گا یا ان کو تیسرے فریق کی حیثیت سے مداخلت کرنی پڑے گی کہ مذاکرات کیے جائیں۔“انہوں نے کہا کہ استعفے دینے سے پارلیمان اور حکومت کا کام ر±ک جاتا ہے۔ ’جب یہ استعفے دیں گے تو اس سے جمہوری عمل ر±ک جائے گا۔ جب پارلیمان میں آدھے حصے کی نمائندگی ہی نہیں ہو گی تو یہ ایک قومی بحران بن جائے گا۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن اپوزیشن فرماتے ہیں کہ استعفے دئیے تو فائدہ حکومت کو ہوگا، کیوں کہ پنجاب میں اپوزیشن استعفے دیتی ہے تو عمران خان کو زیادہ نشستیں مل جائیں گی۔ 

مریم نواز نے آر یا پار کا نعرہ جب لگایا جس پر اسکو (ن) لیگ کا مقصد یا ایجنڈہ کہا گیا مگر سوال یہ ہے کہ کیا انکا اشارہ پیپلز پارٹی کی طرف تھا؟؟ کیونکہ اگر دیکھا جائے تو اپوزیشن جماعتوں میں اس وقت پیپلزپارٹی ہی ہے جسکے پاس کھونے کو کچھ ہے۔اور اگر وہ مریم کے ساتھ ہم آواز ہوتی ہے تو اس کو سندھ سے ہاتھ بھی دھونا پڑ سکتے ہیں۔

پیپلزپارٹی، مولانا یا مریم نواز کی مرہون منت تو نہیں اپنے فیصلے خود کرے گی ایسی صورت میں اپوزیشن اگر حکومت کا دھڑن تختہ کرنا چاہتی ہے تو پہلے اس کو ایک پیج پر آنا ہوگا اور پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرنا ہوگی جو کہ آسان نہیں اور پیپلزپارٹی کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں جس پر اسکی قیادت ہی حتمی فیصلہ کرے گی۔ یہ سیاست کم اعر مفادات کی لڑائی زیادہ ہے مگر کیا کریں کہ پاکستان میں سیاست اور جمہوریت اسی کا نام ہے۔فی الوقت یہ تاثر لیا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی استعفے دینے کے لیے یکمشت تیار نہیں ہے اور اسکا خمیازہ دیگر جماعتوں کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ایسے حالات میں اگر حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان کوئی معاملات طے پا جاتے ہیں تو پھر شاید پیپلز پارٹی استعفیٰ نہ دے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون پہلے پلک جھپکتا ہے۔ کیا حکومت اس دباو¿ کے نتیجے میں ان کی کچھ باتیں مان لیتی ہے یا اس کے نتیجے میں جماعتیں واقع استعفیٰ دے دیتی ہیں اور حکومت کے خلاف تحریک کا بھرپور آغاز کر دیتی ہیں؟دو چھوٹے مل کر بیٹھ رہے ہیں مگر کیا یہ حکومت کو کوئی بڑا دھچکہ لگا پائیں گے۔اسکا فیصلہ 13 دسمبر کو ہو گا۔

ہر دور کی یہ ریت رہی ہے.... 

انقلاب صبح کی کچھ کم نہیں یہ بھی دلیل

پتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جواب


ای پیپر