رسوائی کی وراثت
12 دسمبر 2020 2020-12-12

وہی جلسے وہی جلوس، وہی زمانے، وہی بہانے، دھمکیاں ایف آئی آریں اور جواباً اپوزیشن کے وہی نعرے.... نظم کے مصرعے یاد آ گئے....

کچھ بھی بدلا نہیں ہے ویسا ہے

میں بھی ویسی ہوں تو بھی ویسا ہے

گھوڑی دلہا چڑھے یا رقیب ڈھولچیوں کی تال میں کچھ فرق پڑتا ہے اور نہ بینڈ باجے کے سروں میں حتیٰ کہ ”شامل واجا“ بھی وہی رہتا ہے اور تو اور خوشامدیوں کی تحریروں میں بھی کوئی خاص خم نہیں آتا وہیں سے شروع کر دیتے ہیں کہ ”میں تو اس شخص کو صحیح نہیں سمجھتا تھا مگر جب ملا تو.... جو چیز واقعی گمشدہ ہے اُسے ”حیرت“ کہتے ہیں.... حیرت کا ”عنقا“ ہو جانا واقعی خبر کا درجہ رکھتا ہے پھر شعر یاد آ گئے....

اپنی تنہائی سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

کیا عجب شے ہوں محبت نہیں ہوتی مجھ کو

یاد آتی نہیں بیتی ہوئی باتیں دل کو

یاد کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی مجھ کو

اب کوئی بات نئی بات نہیں میرے لئے

اب کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی مجھ کو

پوری ڈھٹائی اور بدذوقی سے فیصل واوڈا نے مریم نواز یعنی ایک بیٹی کو مبارک دی ہے کہ اس کے والد کو انٹرنیشنل چور کا درجہ ملنے پر مبارک چوری ڈاکے کے فیصلے تو آنے والے دور میں بدل جائیں گے آج کے چور کل کے ”سعد“ بن جائیں گے اور آج کے ایماندار کل کے چور کہلائیں گے مگر میں سوچ رہی تھی ہمارا معاشرہ اور کتنا بدذوق اور بدصورت ہو جائے گا جہاں باپ کے چور کہلانے پر بیٹی کو مبارک دی جاتی ہے جہاں ملک کے بڑے بڑے ایکٹر رات خبرنامے سے پہلے ٹی وی پر لوگوں کے کموڈ دھوتے نظر آتے ہیں چند پیسوں کے لئے لاکھوں سے مہنگا امیج تباہ کرتے ہیں لوگوں کے کھانے کے ٹائم پہلے تو محض گلابی چتکبری سنڈیوں سے واسطہ پڑتا تھا مگر اب دانتوں کے امراض مسوڑھوں سے خون اور کموڈ دھونے کے تمام نسخے بمع غلیظ تصویروں کے سب کی بصیرت و سماعت پر بمباری کرتے ہیں باقی ماندہ وقت میں ملک کے مشہور ترین ساٹھ سالہ کرکٹر عورتوں کے ساتھ کپڑے دھونے کے مقابلے کرتے دکھائی دیتے ہیں کئی مرتبہ تحریر کیا کہ جو خیالات اور فلسفے مقامی ثقافت سے ”لگا“ نہیں کھاتے کبھی مقبول نہیں ہوتے جیسے اقبال ایسے فلسفے خودی کے خالق کا دیا گیا لفظ ”خودی“ زبان زدِعام نہ ہو سکا کہ یہ سرزمین صوفیوں کی تھی جہاں ”میں“ کو مارنے کی بات کی جاتی ہے.... اسی طرح ”داغ“ ہمارے پورے برصغیر میں منفی اور رسوائی کے معنوں میں آتا ہے اس کو ایک کروڑ بار بھی اچھا کہا جائے تو یہ اچھے نہیں کہلائے جا سکتے پیسے خرچ کر کے کہلواتے رہیں بچوں کو کیچڑ میں گرنے کی ترغیب دیتے رہیں مگر داغ تو اچھے نہ کہلا سکیں گے مناڈے کا مقبول گیت ہے

لاگا چُنری میں داغ چھپاو¿ں کیسے، گھر جاو¿ں کیسے....

زندگی قسط وار ڈرامہ سہی مگر اس کے سارے ”ایپی سوڈ“ اگر الگ کہانی نہیں رکھتے تو ناظرین اکتا جاتے ہیں یہاں تو کہانی دو خاندانوں اور اُن کے مشترکہ ”رقیب“ سے باہر نکل ہی نہیں رہی ویسے بنتا بھی ہے بار بار کے انٹرچینج معاہدے کا فائدہ تیسرے ٹولے کو مل گیا یہ ووٹ پی ٹی آئی کے تو تھے نہیں مگر دُو بدو خاندانوں سے اکتاہٹ کا اظہار ضرور تھا یہ الگ بات کہ عوام ہی کو لینے کے دینے پڑ گئے اس بار بھی ہاتھ ہو گیا اب لوگوں کو پہلے والی رنگارنگ پالیسیوں سے بھرپور اورنج، گرین اور سرخ بسیں یاد آنے لگی ہیں ”پُل“ بھی بے تحاشا بن رہے تھے ایک رونق سی لگی ہوئی تھی لوگوں کی امیدیںلگی رہتی تھیں زندگی میں شاید سنگین ترین بوریت سے واسطہ تبھی پڑتا ہے جب امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں تمام اہل دانش جانتے ہیں کہ وسائل محدود ہیں اور خزانہ سدا کا خالی چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہنے والے ووٹروں کے لیڈروں کے بڑے بڑے گھر ہیں.... یہ سب روزِ روشن کی طرح روشن ہے مگر اسی منظر میں رہتے ہوئے لوگوں کی ڈھارس بندھانا ہوتی ہے.... وزیراعظم بھی وہی غلطی دہراتے ہیں جو اکثر منہ پھٹ عورتیں دل شکنی کو منہ پر سچی بات کرنے کی عادت گردانتی ہیں پچھلی کرونا لہر کے دوران وزیراعظم جب بھی سکرین پر آتے ان فقروں سے نوازتے.... کرونا سے بچنا کسی نے بھی نہیں یہ بھول جائیں کہ یہ آپ کو نہیں ہو گا یہ سب کو ہونا ہے.... مئی تک بیس لاکھ جون تک پچیس لاکھ متاثرین ہوں گے وغیرہ وغیرہ.... اس نے کبھی ختم نہیں ہونا پچاس سال سے بڑے لوگ تو جینے کی آرزو ہی کھو بیٹھے تھے جبکہ لیڈران مع وزیراعظم اپنی عمروں سے یوں لاپروا ”الہڑ“ بن کر پھر رہے ہیں جیسے یہ بیماری بھی دیگر بیماریوں کی طرح محض پسے ہوئے طبقے کے لئے ہو یہ سچ بھی ہے مہنگے انجکشن، خوراک اور سٹیرائیڈ امیر کرونائی تو افورڈ کر سکتے ہیں غریب اس کے متحمل نہیں ہو سکتے.... غریبوں کی مجبوری اُن کی بے خوفی کہلاتی ہے جو کسی حد تک کرونا سے نفسیاتی جنگ جتوا دیتی ہے.... بات ناامیدی کی ہو رہی تھی عوام لیڈر اُسے سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں جوانہیں آئندہ کی امید دلائے اُنہیں خواب دکھائے وزیراعظم ہمیشہ اپنے ہی خوابوں کی بابت بات کیا کرتے ہیں.... میں اس عمر کا تھا تو یہ خواب دیکھتا تھا اُس عمر کا تھا تو فلاں خواب دیکھتا تھا عوام کے خوابوں سے نہ انہیں مطلب ہے نہ واسطہ.... عوام کے دیئے گئے پنج سالہ اختیار میں سے نصف مدت تمام ہونے کو ہے جو کہ تمام کی تمام ایمپائر کے طعنے کرونا کی مجبوریاں اور خالی خزانے کی دہائی کے ساتھ ساتھ مریم، بلاول اور حکومتی ہرکاروں کا میدان جنگ بن کر گزر رہی ہے.... موجودہ منظر میں یہ تبدیلی ضرور آئی ہے کہ ”انکل آنٹی لاٹ“ پیچھے رہ گئی ہے اور اولادیں جلسے جلوسوں مقدموں جیلوں اور رسوائیوں میں سانجھے داری کر رہی ہیں....

ضروری نہیں کہ محض نیک نامی کی وراثت ہی سنبھالی جائے بدنامی کی وراثت اگر کھربوں روپے کے ساتھ ہو تو اولادیں بزرگوں کی رسوائی بھی قبول کر لیتی ہیں ابھی تک میں نے کسی کو اسلاف کی رسوائی پر اعتراض کرتے نہیں دیکھا جبکہ ایسے تمام آلام ہمارے ایسی مڈل کلاس کے ہیں خاندانوں میں اگر کوئی بزرگ رسوا ہو گیا تو بس سات نسلوں تک نہ وہاں کوئی رشتے داری کرے گا اور نہ طعنے بازی چھوڑے گا مگر سیاسی بزرگ تمام تر رسوائیوں ذلتوں مقدموں سمیت اتنی دولت کی کشش رکھتے ہیں کہ اولادیں تو اولادیں ان کے داماد بھی عام دامادوں سے زیادہ تابعدار ہوتے ہیں.... شاید ان کا یہ فلسفہ دنیاوی لحاظ سے کامیاب ہے کہ ایک دولت سو سکھ یہ لوگ جان پر کھیل جاتے ہیں مگر خود کو غریب نہیں ہونے دیتے.... لوگ کیا کہیں گے؟ معاشرہ کیا کہے گا رسومات کیا ہوتی ہیں سب ہمارے طبقے کے مسائل ہیں....

اب بات ”ووٹر“ پر آن کر ٹھہری ہے اتنا سب ہو جانے حکومتی اور اپوزیشن ڈکشن سمجھ لینے اور مہنگائی کے آسمان کو چھونے کے بعد اب اُس کا کیا فیصلہ ہے اور کتنے زمانے بے وقوف بننا ہے؟ کب تک یہ تماشا ہونا ہے کب ”ووٹر“ اپنی اور اپنے بچوں کی صحت اور تعلیم پر سمجھوتا کرتا چلا جائے گا....؟ کب تک امیر زادوں کے پیچھے تالیاں نعرے اور واہ واہ کرتا رہے گا کب تک مریم اورنگ زیب، مریم نواز اور فیصل واوڈا عمران خان کی خوشامد کرتے رہیں اگر تب تک جب تک وہ خود انتہائی امیر نہ ہو جائیں.... تو وہ کام بھی ہو چلا اب وقت اپنا فیصلہ سنانے کو ہے.... اے کارزار سیاست کے کوزہ گرو ڈرو کہ خوشامدیں تنقیدوں میں پلٹ جائیں غریب ووٹر اپنے بچے کی تعلیم اور صحت کے لئے اُٹھ کھڑا ہو اور تالیں.... ”پھکڑی“ بن جائیں....


ای پیپر