زرداری بیدخل ہونے کو تیار ہیں؟
12 دسمبر 2019 2019-12-12

آصف علی زرداری کی گرفتاری غیر متوقع نہ تھی، ویسے ہی ان کی رہائی بھی غیر متوقع نہ تھی۔ شروع میں لگ رہا تھا۔ پہلے سابق وزیراعظم نوازشریف کو نااہل کرکے اقتدار سے رخصت کیا اور پھر احتساب عدالت نے انہیں جیل بھیجا، اس کے بعد زرداری کی باری تھی۔ مقتدرہ حلقوں کے نزدیک میاں صاحب کے مقابلے میںزرداری ’’کم خطرناک ‘‘ تھا۔ویسے بھی بیک وقت دو بڑی پارٹیوں کے خلاف کارروائی دانشمندانہ نہ ہوتی۔ نواز شریف کی بغرض علاج بیرون ملک روانگی اور مریم نواز کی ضمانت کی کوششوں کے بعد زرداری کی ضمانت یقینی تھی۔ ایک روز قبل چوہدری شجاعت حسین نے اپنا وزن ان کے پرانے اتحادی کے پلڑے میں ڈال دیا تھا۔چوہدری شجاعت نے ایسا بیان نواز شریف کے لئے بھی دیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر سابق صدر آصف علی زرداری کی ایک کروڑ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی ہے۔ انہیں نیب نے میگا منی لانڈرنگ ریفرنس میں زرداری ہائوس اسلام آباد سے رواں سال 10جون کو گرفتارکیا تھا۔ان کی فرمائش تھی کہ انہیں کراچی منتقل کیا جائے، اب تو ضمانت پر رہائی مل گئی ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف زرداری کو اپنی سیاسی زندگی میں مجموعی طور پر تین مرتبہ گرفتار ہوکر تیسری مرتبہ ضمانت پر رہائی کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ جب ان کی اسیری گزشتہ دوقید کے مقابلے میں کم رہی، وہ 185 دن سے نیب کی تحویل میں تھے۔

آصف زرداری نے مجموعی طور پر اپنی زندگی کے 3972 دن اسیری میں گزارے ہیں، پہلی مرتبہ وہ اکتوبر 1990ء کو گرفتار ہوئے، اور 27ماہ کی اسیری کاٹی ۔نومبر 1996ء کو جب صدر فاروق لغاری نے بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو برطرف کیا توآصف زرداری بھی ساتھ ہی گرفتار کرلیے گئے۔ ان پر اس موقع پر مجموعی طور پر 14مقدمے قائم کیے گئے تھے ۔اس کے بعد وہ نواز شریف اور مشرف دونوں کے دورحکومت میں قید رہے تاوقتیکہ نومبر 2004 میںسپریم کورٹ سے ان کے خلاف آخری مقدمے میں ضمانت ہونے پر رہا ہوئے۔ اس مرتبہ ان کی اسیری کی مدت 2967 روز پر مشتمل تھی۔ خیال رہے کہ سال میں 365 دن ہوتے ہیں۔

نواز شریف اور آصف زرداری پاکستان کی سیاست کے دو اہم اور لازم ستون رہے ہیں ۔ اگرچہ دونوں مکمل طور پر الگ سیاسی شناخت اور سیاسی پس منظر رکھنے والے سیاسی کردار ہیں، لیکن دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم ملزوم ہیں۔ ان میں سے کوئی حکومت میں ہو یا اپوزیشن میں ایک دوسرے کے مقابل بھی ہیں تو ایک دوسرے کے لئے لازمی بھی۔ دونوں تین تین مرتبہ اقتدار میں رہے، دونوں پر کرپشن کے الزام لگے۔ دونوں نے جیل دیکھی، مقدمات کا سامنا کیا، لیکن وقت نے پھر انہیں اقتدار پر بٹھا دیا۔

نواز شریف اور آصف زرداری دونوں کی سیاست کا آغاز ضیاء الحق دور سے ہوا۔ نواز شریف پنجاب حکومت میں وزیر بنے۔ آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو سے شادی کی تو سیاسی منظر پر ابھرے۔ بے نظیربھٹو کی موت کے بعد جیسے انہیں پیپلزپارٹی تحفے میں ملی ۔ دونوں کی اولادیں سیاست میں ہیں۔ دونوں کو آج یکساں صورتحال کا سامنا ہے۔ زرداری کے خلاف کارروائی کا آغاز دراصل 2015 میں ہو چکا تھا۔ لیکن ان کے خلاف مقدمات کی کارروائی نہ ہوسکی کیونکہ نواز شریف کا دور حکومت تھا۔ کہا جاسکتا ہے کہ میثاق جمہوریت کے دونوں نے ایک دوسرے کو ایک حد تک برداشت کیا۔ آصف علی زرداری کو جعلی اکائونٹس کیس کا سامنا ہے اور نوازشریف کو نیب کے مقدمات میں سزا سنائی گئی ۔

جنرل پرویز مشرف نے دسمبر 2000 میں کہا تھا کہ ’’ پورے ادارے کا فیصلہ ہے کہ بینظیٰر بھٹو اور نواز شریف تیسری بار وزیراعظم نہ بنیں۔ ‘‘ مشرف کی یہ بات بینظیر بھٹو اور پیپلزپارٹی کو میثاق جمہوریت پر لے آئی، 2017 اور 18 میں بعض غیر معمولی تبدیلیاں ہوئیں۔ عمران خان تیسری قوت کے طور رپر ابھرے اور دونوں کو آئوٹ کردیا گیا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایک فارمولہ اسکرپٹ کے تحت برتائو کیا جارہا ہے ۔مقصد ان دونوں کو ملکی سیاست سے آوٹ کرنا ہے۔ تجربہ کار سیاستدان اور پرانی سیاسی جماعتیں مقتدرہ حلقوں کے لئے مشکل پیدا کررہی ہیں۔

آرمی چیف کے تقرر کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے نے تھوڑی ایمرجنسی پیداکردی ہے، حالانکہ گزشتہ سال کے انتخابات سے پہلے ہی یہ بات سامنے آئی کہ اسٹیبلشمنٹ بعض آئینی تبدیلیاںچاہتی ہے اور چند حساس موضوعات پرسیاستدانوں کو دور رکھنا چاہتی ہے۔ جس طرح سے میاں نواز شریف کی انتخابات کے موقع پر بیرون ملک سے واپسی نے صورتحال کو بدل ڈالا تھا، اس مرتبہ ان کے بغرض علاج بیرون ملک جانے نے ایک نئی صورتحال پیدا کردی ہے۔ نوازشریف اور زرداری آئین و قانون میں مجوزہ تبدیلیوں کے لئے راضی نہ تھے ۔ ان کے خیال میں ان کا انکار ہی ان کی سیاسی زندگی کی بقا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف جیل کاٹنے کے لئے واپس آگئے تھے۔اور ابھی شدید بیماری کے باوجود بیرون ملک جانے کے لئے تیار نہیں تھے۔ بالآخر اہل خانہ کے اصرار پر باہر جانے پر راضی ہوئے۔ اب سیاسی میدان مائنس نواز شریف لگتا ہے جس سے خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ آسانی سے نمٹ سکتی ہے۔ جہاں تک زرداری کا معاملہ ہے، وہ مائنس نواز شریف منظر نامے میں باہر جانے کو ترجیح نہیں دیں گے۔ اس کے لئے زیادہ میدان کھلا ہے۔ ر زرداری کا انکار دونوں رہنمائوں کو سیاست سے بے دخل ہونے سے بچا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں نواز شریف بھی میدان میں رہنے کے جتن کریں گے۔ دونوں میں ایسا نہ کرنے والا تاریخ کی سزا سے ہرگز بچ نہیں پائے گا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے ترجمان مصطفی کھوکھرکا یہ کہنا اپنی جگہ پر کہ’ زرداری علاج کے بعد وہ سیاست کریں گے‘۔ اس سے اہم بات بلاول بھٹو کا موقف ہے کہ اب زرداری کھلاڑی کا شکار کریں گے۔ زرداری بیرون ملک جانے کے بجائے ملک کے اندر رہ کرعلاج بھی کرائیں گے اور پچھلی سیٹ پر بیٹھ کرسیاست بھی کریں گے۔


ای پیپر