افرا طِ زر اور مہنگائی
12 دسمبر 2019 2019-12-12

افر اطِ زر کے حوا لے سے شماریات بیورو آف پاکستان نے تین دن تک معلومات روکے رکھنے کے بعد ما ہِ روا ں کی چا ر تا ر یخ کو افر ا طِ زر کے اعداد و شمار جاری کردیئے۔ نومبر میں افراط زر کی شرح 12.7 فیصد تک پہنچ گئی جوکم و بیش نو سال میں بلند ترین سطح پر ہے ۔سْن لیجیئے کہ یہ آٹھ سال اور آٹھ ماہ میں سب سے زیادہ افراط زر کی شرح تھی۔گو یا کہ یہ افرا طِ زر ہی کا کیا دھر ا ہے کہ ہر طر ح کے جتن کے با و جود بڑھتی ہو ئی مہنگا ئی تھمنے کانا م نہیں لے رہی۔ منڈیوں میں اشیائے ضرورت کی ڈھیر ساری چیزوں کے دام آسمان سے باتیں کرنے لگے ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں کے دام اور اس پر شرح منافع کی لوٹ کھسوٹ نے 9 سالہ ریکارڈ توڑ دیاہے۔ آخری بار مارچ 2011ء میں افراط زر 13 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ پرانے طریقہ کار، جسے حکومت نے تین ماہ قبل ختم کردیا تھا، کی بنیاد پر حاصل کیے جانے والے اعداد و شمار میں ہی مہنگائی اس سال ستمبر میں 12.6 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ گزشتہ سال کے اسی مہینوں کے مقابلے میں نومبر میں ٹماٹر کی قیمتیں 436.9 فیصد اور پیاز 156.1 فیصد بڑھ گئیں۔ ادارہ شماریات 35 دیہی منڈیوں میں 356 اجناس کی قیمتوں اور 27 دیہی منڈیوں میں 244 سامان کی نگرانی کر کے افراط زر کے انڈیکس کا حساب لگاتا ہے۔منڈیوں کے عمومی ملک گیر سروے سے پتہ چلا ہے کہ ہول سیل مارکیٹ پر آڑھتیوں کا قبضہ ہے۔ تھوک مارکیٹ پر مضبوط اجارہ داری کے باعث کوئی سبزی اور فروٹ منڈی میں خرید و فروخت کے چیک اینڈ بیلنس اور طلب و رسد کے میکنزم اور ایج اولڈ نظام زمین بوس ہے اور کاروباری ٹیل، مڈل مین، ایکسپورٹرز اور امپورٹرز نے فوڈ آئٹمز کی سیل کو باقاعدہ سرکاری نظام سے الگ رکھ کر غیرموثر کردیا ہے۔ اب جس کی طاقت اس کی بھینس کے اصول نے عام آدمی کے لیے صرف مہنگائی کا دروازہ کھول دیا ہے۔ شہریوں کو جو چیز ایک دو سال پہلے سستے داموں ملتی تھی اب اس کے دام دوگنے تگنے کردیئے گئے ہیں۔ حتیٰ کہ ادویات کی نارمل قیمتوں میں 300 سے 400 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ زندگی بچانے والی ادویات ناپید یا بہت مہنگی ہوچکی، معمولی کھانسی کا شربت 80 روپے سے بڑھ کر 160 کا ہوگیا ہے۔ اسی طرح ڈرموویٹ خارش کی ایک چھوٹی سی ٹیوب 33 روپے سے 74 روپے میں فروخت کی جارہی ہے۔ اسی طرح چینی، خوردنی تیل، ٹماٹر، ادرک، دالیں، مصالحہ جات، دہی، دودھ، برکی و گائے یا بچھئے کا گوشت، مچھلی، پھل، خشک میوہ جات شہریوں کی قوت خرید سے دور ہوچکے ہیں، صارف حیرت سے کھانے پینے کی چیزوں کے صرف دام سن کر دہل جاتا ہے۔

مہنگا ئی کا ا ثر جہا ں عو ا م کے سما جی حا لا ت پہ پڑ ر ہا ہے، وہیں عو ا م اپنی بگڑ تی صحت پہ سمجھو تہ کر نے پہ بھی مجبو ر ہو چکے ہیں۔ مثا ل کے طو ر پر دو دھ ہی کو لے لیجئے۔ گو ا لو ں کے لیئے مکمل خا لص دو دھ ایک سو تیس رو پے سے کم میں بیچنا ان کے وا رے میں نہیں آ تا۔ مگر دو سری جا نب دو دھ کی یہ قیمت کسی طو ر بھی عوا م کی پہنچ میں آ تی۔ نتیجتا ً عوا م غیر معیا ری دو دھ اسی رو پے کلو پہ لینے کے لیئے مجبو ر ہیں۔ یہ وہ مقا م ہے جہا ں حکو مت بھی جا نتے بو جھتے آ نکھیں بند کر لینے پہ مجبو ر ہو جا تی ہے۔ پھر دو دھ ہی کا رو نا نہیں، کم و بیش سب ہی اشیا ئے خو ر دنی کے با رے میں اسی قسم کی پیچید ہ صو رتِ حا ل کا سا منا ہے۔ ایک طرف اشیائے خورد و نوش کی ابتر صورتحال ہے، دوسری جانب طلب و رسد اور پرائسنگ کنٹرول کے ذمہ داروں اور حکومتی محکموں، مانیٹرنگ اداروں، ایگزامنرز کی مجبوری اور منڈیوں میں لاحاصل موجودگی اور قوانین اور میکنزم پر عملدرآمد میں ناکامی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کوئی آسمانی بلا یا قدرتی آفات نہیں۔ ہر دور حکومت میں مہنگائی رہی ہے، ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے صارفین اور خریداروں کو خوب لوٹا ہے لیکن جیسی دیدہ دلیری کے ساتھ عوام پر مہنگائی کا عذاب مسلط کیا گیا ہے اس کی اس سے پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔ حالانکہ میڈیا اور تھوک منڈی کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے اصحاب کا کہنا ہے کہ تھوک مارکیٹ کو جو اشیائے خورد و نوش، سبزیاں اور پھل سپلائی کیے جاتے ہیں ان ہی تھوک منڈیوں سے یہ اشیا ہر صوبے کی سبزی منڈیو ں میں بکتی ہیں، نیلامی ہوتی ہے، بڑے تجارتی اور کاروباری مراکز، عام تاجر، چھوٹے دکاندار اور ٹھیلے والے سبزی و پھل فروش یا پرچون فروش ان ہی تاجروں سے سٹاک خرید لیتے ہیں۔ لیکن سیلز اور پرچیز کا دستاویزی ثبوت کوئی نہیں رکھتا جبکہ مہنگائی کے پیش نظر اولین اقدام سبزی منڈیوں کے تھوک کاروبار پر پرچیز اور سیلز کا سخت ترین میکنزم لاگو ہونا چاہیے تاکہ جس جگہ کھیتوں اور فصلوں سے مال تھوک کے حساب سے منڈیوں تک سپلائی ہوتا ہے اس کے درمیان مڈل مین اور آڑھتیوں کو منڈی پر ’’پرچیز اور سیلز‘‘ کی حکمرانی کی اجازت نہیں ملنی چاہیے بلکہ سرکار کے متعین کردہ اداروں کے افسران اور اہلکار رسد و طلب اور خرید و فروخت ایک طے شدہ سسٹم کی نگرانی میں کریں اور منڈی سے ہی مال اٹھانے والے کو پتہ ہو کہ کس دام سے اس نے ٹماٹر اور دیگر سبزیاں، پھل اٹھائے ہیں اور کس دام سے اور انہیں کس منافع سے خوردہ فروش اور پرچون دکاندار صارفین کو فروخت کررہے ہیں۔ اسی مقام پر دیکھا جاسکے گاکہ گنے کے کاشتکاروں کو ان کے صحیح دام مل رہے ہیں؟ کون سی قوتیں اور شوگر مافیا غریب کاشتکار کو گڑ بنانے سے روکنے میں ملوث ہیں۔ لہٰذا اسی فعال میکنزم کو مجسٹریٹی نظام سے مربوط کرکے کمشنریٹ کی وسیع تر نگرانی اور علاقہ مجسٹریٹس کی عملداری میں چیک اینڈ بیلنس کے تحت لایا جاسکتا ہے۔ ضرو رت اس امر کی ہے کہ پرائس کنٹرولنگ اتھارٹی کو فعال کیا جائے، منافع خوروں کو موقع پر سزا دی جائے اور فوڈ انسپکٹرز بھی مہنگائی اور ملاوٹ کے ذمہ داروں پر کڑی نظر رکھیں۔ عوام کو ہوش ربا مہنگائی سے بچانے کا یہی واحد حل ہے۔ادھر ماہرین کی ایک چشم کشا رپورٹ بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مارکیٹ میکنزم اور منافع خوری میں کاروباری اخلاقیات میں بنیادی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ صارفین اور خریداروں نے بتایا ہے کہ نفع خوری کے ناسور نے اشیائے ضرورت کے تاجروں سے بنیادی مروت بھی چھین لی اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے بے تحاشہ آبادی کے پھیلائو کو کنٹرول نہ کیا تو پاکستان کو شدید فوڈ سیکورٹی کے ڈزاسٹر کا سامنا ہوگا۔یہا ں یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ بے شک مو جو دہ حکو مت کو انو اع و اقسا م کے چیلینجز کا سا منا ہے، مگر ضر ور ت اس امر کی ہے کہ وہ تابڑ تو ڑ بڑ ھتی ہو ئی مہنگا ئی کو ایمر جنسی کے طو ر پر لے۔ اب اْس کی عو ام میں مقبو لیت کا انحصا ر مکمل طو ر پر مہنگا ئی کے فیکٹر پر ہے۔


ای پیپر