کالا کوٹ کالا قانون کا گہرا ہوتا تاثر
12 دسمبر 2019 2019-12-12

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں رونما ہونے والا سانحہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی وکلاء کے بعض گروہ جامے سے باہر نکلنے کی افسوسناک مثالیں قائم کر چکے ہیں،معافی تلافی کے بعد سب کچھ بھلا دیا جاتا رہا۔ لیکن یہ سانحہ اس قدر سنگین اور قابلِ مذمت ہے کہ اسے بھلانا ممکن نہیں۔ آئی سی یو پر بلوہ کی وجہ سے بروقت علاج نہ ملنے سے کتنی ہی جانوں کا ضیاع ہو گیا ان بیچاروں کا کیا قصور تھا۔چوہدری اعتزاز احسن نے واقعہ کے بعد چینل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء نے قائد کے کالے کوٹ کی بے حرمتی کی ہے۔ اور یہ ہے بھی درست کیونکہ وکالت قائدِ اعظم محمد علی جناح کا پیشہ تھا، جنہوں نے ممبئی میں پریکٹس کے دوران خوب نام کمایا اور ان کی تصاویر ملک کی ہر عدالت میں آویزاں ہیں۔ بطور قانون دان اپنے کیرئیر کے دوران انہوں نے پیشے کی شاندار روایات کو برقرار رکھا۔ ہر اس اصول کی پاسداری کی جو ہمیشہ ایک قانون دان کی بہترین صفات قرار پاتی ہیں یعنی سخت محنت، دیانت داری، قانون کا احترام اور سب سے بڑھ کر اپنے کلائنٹ کے ساتھ مخلص ہونا۔ وکلاء برادری کے موجودہ طرزِ عمل اور کالے کوٹ کی بے حرمتی پر قائد کی روح ضرور تڑپی ہو گی۔ افسوس کے قانون کے رکھوالے ہی قائدِ اعظم کی اس نصیحت کو فراموش کر بیٹھے جو انہوں نے لاء اینڈ آرڈر کی پابندی کرنے کی سختی سے ہدایت کی تھی۔

آج وکلاء نے وہی رویہ اختیار کیا ہوا ہے جو معاشرے کے دیگر طبقات اپنی بات منوانے کے لئے اختیار کرتے ہیں یعنی توڑ پھوڑ اور تشدد اور یوں انہوں نے خود کو ہر ذمہ داری سے مبرا کر لیا ہے۔ جسٹس (ر) افتخار چوہدری کی بحالی کے لئے خود ساختہ وکلاء تحریک کے بعد سے آئے روز وکلاء کی من مانیوں اور غنڈہ گردیوں کے واقعات سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ وکلاء نے ججوں کو تھپڑ مارے، اپنے ساتھیوں کی بد اعمالیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے احتجاج کیا اور تعاون نہ کرنے والے ساتھی وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ سائلوں کے ساتھ بد سلوکی اب تو آئے دن کا معمول ہے، جب کوئی سائل ان کے رویے کی شکایت کرتا ہے کہ اس کے مقدمے میں خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی جا رہی تو ایسے سائلوں پر بھی تشدد شروع کر دیا جاتا ہے۔

اس رویے کی بنیادی وجہ بار کونسلیں اپنے پیشے کا اعلیٰ معیار پر ریگولیٹ کرنے کے بجائے ساتھی وکلاء کی خواہش پر ہر ایک کو بار کی رکنیت دیتی رہی ہیں تا کہ وہ اپنا ووٹ بینک محفوظ بنا سکیں، بھلے اس شخص نے قانون کی ڈگری ناجائز ذرائع سے حاصل کی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ والدین بچوں کو ایل ایل بی پریکٹس کے لئے نہیں صرف معاشرے میں شیلٹر حاصل کرنے کے لئے کروا رہے ہیں۔ اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل معروف قانونی ماہرین اس صورت حال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے کی بجائے اس کا خیر مقدم کرتے ہیں تا کہ واجبی اہلیت کے حامل ساتھیوں پر ان کی برتری قائم رہے۔ حتیٰ کہ سینئر وکلاء اپنے جونئیر منتخب کرتے ہوئے نئے آنے والے وکلاء کی قابلیت کو مدِ نظر نہیں رکھتے بلکہ وہ ایسوں کو اپنے جونئیر رکھتے ہیں جو وقت پڑنے پر ان کے لئے اسلحہ بھی اٹھا سکتے ہوں۔

بڑے دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ایک ہسپتال اور وہ بھی ایک موذی مرض کا جہاں علاج کروانے والے بے چارے زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتے ہیں پر دھاوا بولنا، کیسے ان وکلاء کا دل مانا ہو گا کہ وہاں توڑ پھوڑ کریں۔ یہ تو سنگدلی کی انتہا ہے، میں تو کہتا ہوں ایسا کرتے ہوئے ان کے دل میں ذرہ بھی خدا کا خوف نہیں آیا ہو گا۔ وکلاء تحریک کے بعد ہم تسلسل کے ساتھ وکلاء کے اندر سے اس طرح کے واقعات دیکھ رہے ہیں جس کی کسی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اس پر خود وکلاء تنظیموں کو بھی اپنا احتساب کرنا چاہئے۔

اس بڑھتے خطرناک رجحان کا ادراک کرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان کو پرتشدد مطالبات کرنے والے وکلاء کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ بار کونسلوں کی مشاورت سے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ صرف وہی وکلاء رکنیت کے اہل ہوں گے جو اپنے پیشے اور کلائنٹ کے ساتھ مخلص ہوں۔ عملی طور پر وکلاء اپنے آپ کو قانون کی حکمرانی یا جوابدہی کے تابع کرنے کے بجائے اپنی مرضی، خواہش اور تعصب کی بنیاد پر چلانا چاہتے ہیں۔ جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک کے بعد سے وکلاء اپنے آپ کو کسی قانون کے تابع نہیں سمجھتے، انہیں سزا کا کسی قسم کا کوئی خوف نہیں ہے اور وہ ایسا سمجھنے میں ہیں بھی حق بجانب کیونکہ پاکستان میں ان کی قانون شکنی کے جتنے بھی ابھی تک واقعات ہو چکے ہیں کسی میں بھی ان کو سزا نہیں ہوئی۔ ماضی میں اگر وکلاء کے اس رویے پر کوئی مٔوثر احتساب کیا گیا ہوتا تو اس سے ان کے اندر اصلاح کا عمل ہو سکتا تھا۔ معاشرے کے ایک ایسے طبقے نے جو قانون کا رکھوالا بھی ہے نے اپنی من مرضی کی تو باقی طبقات کو بھی ہلہ شیری حاصل ہو گی۔ قانون کے محافظوں کو خود قانون شکنی سے ہر صورت گریز کرنا چاہئے۔

وکلاء کے اس طرزِ عمل سے معاشرے کے ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ حتیٰ کہ سینئر وکلاء تک بھی بہت پریشان ہیں۔ وکلاء کی انجمنوں کو اس قسم کے واقعات کی پیش قدمی کے لئے مٔوثر تدابیر اختیار کرنی چاہئیں تا کہ ان کے درمیان موجود نادان یا خود پسند ارکان کی حوصلہ شکنی ہو۔ وکلاء کو سمجھ لینا چاہئے کہ انہیں اپنے فرائض مسلمہ اخلاقی اور پیشہ ورانہ ضوابط کے تحت ادا کرنے چاہئیں۔ اس ذمہ داری سے انحراف انہیں بدنامی کی دلدل میں پھینک سکتا ہے۔ چند لوگوں کی منفی سرگرمیوں کے باعث پوری برادری کے منہ پر کالک ملنے کی کوشش بد نیتی پر مبنی ہے۔


ای پیپر