مسعود ملک…چند باتیں چند یادیں
12 دسمبر 2019 2019-12-12

2003ء میں روزنامہ لیڈر میں کام کرتا تھا اسی دوران فیصلہ ہوا کہ روزنامہ لیڈر اسلام آ باد سے نکالا جائے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان واقع فیض آ باد میں آفس لیا گیا اور کام کا آغاز کیا گیا ایڈیٹر کے طور پر شہزاد فاروقی کو رکھا گیا راقم الحروف بطور گروپ ایڈیٹر فرائض انجام دے رہا تھا۔ایک روز جب میں اسلام آ باد پہنچا تو فاروقی نے میری ملاقات مسعود ملک صاحب سے کروائی جو بالکل سامنے والی بلڈنگ میں پریس لگا کر اسلام آ باد ٹائمز کے نام سے اخبار نکالنا چاہتے تھے ۔نوائے وقت کے نام سے مسعود ملک کا نام تو بہت سنا تھا لیکن ملاقات کا اتفاق نہیں تھا ۔پہلی ملاقات میں مسعود ملک نے مجھے متاثر کیا اور یہ ملاقات ایک مستقل دوستی میں بدل گئی ۔انھوں نے مجھے بتایا کہ کس طرح جنرل مشرف نے ان کا روزگار بندکر دیا ہے ۔مجھے کہانی جاننے کا تجسس تو تھا میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کے وہ نوائے وقت اسلام آباد میں چیف رپورٹرتھے اور وی وی آئی پی بیٹ کرتے تھے ۔ایک دن جب جنرل مشرف بھارت کے دورہ سے واپس آئے تو انھوں نے پریس کانفرنس کا اعلان کیا جس پر انکی ڈیوٹی لگ گئی ۔اس پریس کانفرنس میں مشرف نے کہا کہ میں نے بہت کوشش کی لیکن میں بھارت سے خالی ہاتھ لوٹا اس پر مسعود ملک نے سوال کر دیا کہ آپ سے پہلے دو وزراء اعظم بھارت گئے ذولفقار علی بھٹو اورنواز شریف بھٹو نوے ہزار قیدی واپس لے کر آیا اور نواز شریف کے دورہ کے جواب میں واجپائی پاکستان آیا اور مینار پاکستان گیا ،پاکستان کے وجود کو تسلیم کیا ۔اگر آپ کی جگہ کوئی سول وزیر اعظم اب بھارت جاتا تو کیا وہ بھی خالی ہاتھ لوٹتا سوال سن کر مشرف سیخ پا ہو گئے جو بھی وقتی جواب دیا وہ تو دیا لیکن جونہی مسعود ملک واپس دفتر پہنچے انکی نوکری ختم ہو چکی تھی اور مسعود ملک کے لئے تمام جگہ نوکری کے دروازے بند کرنے کا حکم صادر ہوچکا تھا ۔جنرل مشرف کے اس انتقام کے بعد مسعود ملک نے اپنا اخبار کھولنے کا پروگرام بنا لیا فیض آباد میں کسی دوست کی مدد سے پریس لگایا اور ڈیکلیئریشن اپلائی کر دیا لیکن اس کے متعلق تو احکامات تھے کہ وہ کوئی کام نہیں کر سکتے ۔

چند روز بعد جب میں اپنے دفتر گیا تو پتہ چلا کہ سامنے پریس پر چھاپہ پڑ چکا ہے اور پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس کے تحت پرچہ درج کرنے کے احکامات جاری ہو گئے اسی کشمکش میں انھوں نے تین برس گزار دئے مشترکہ دوستوں نے جنرل مشرف سے در گزر کرنے کی درخواست کی بالآخر انھیں نوکری کرنے کی اجازت بھی مل گئی اور ڈیکلیئرشن بھی مل گیا ۔اس دوران انھوں نے روزنامہ ایکسپریس ،روزنامہ اوصاف کے ایڈیٹر کے طور پر بھی فرائض سر انجام دیے ۔بعد ازاں انھوں نے اپنا اخبار بھی نکالا لیکن سرمایہ نہ ہونے کے باعث وہ زیادہ دیر تک اخبار نکالنے میں ناکام رہے ۔

نواز شریف حکومت آئی تو پہلے تو اس نے بھی مسعود ملک کو لفٹ نہ کرائی پھر انھیں ایم ڈی اے پی پی لگانے کا اعلان کیا گیا اس دوران بھی نامعلوم وجوہ کی بنا پر نوٹیفیکیشن میں غیر معمولی تاخیر کی گئی ۔اے پی پی کا کلچر انھوں نے بدلنے کی کوشش کی ان کی خواہش تھی کہ اے پی پی کے پلیٹ فارم سے ایک ٹی وی چینل بھی شروع کیا جائے جس پر انھوں نے کام بھی شروع کر دیا کسی حد تک کامیاب بھی ہو جاتے لیکن سرخ فیتہ آڑے آیا ۔لیکن جب بھی اے پی پی نے ٹی وی نکالا مسعود ملک کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔اے پی پی کی نوکری کے دوران ہی ان کی طبیعت خراب رہنے لگی جسے وہ معمول کی بیماری سمجھتے رہے۔ ۔بعد ازاں انکشاف ہوا کہ وہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہیں دو تین دفعہ اسلام آ باد ملاقات کے لئے گیا لیکن ان کی طبیعت خرابی کی وجہ سے ملاقات نہ ہو سکی ۔گزشتہ ہفتے ٹیلیفون پر بات ہوئی جس میں انھوں نے فون کرنے کا شکریہ ادا کیا اور دعا کرنے کے لئے کہا اتنے پیارے شخص کے لئے کون دعا نہیں کرتا ۔

2003 کے بعد جب بھی اسلام آباد جاتا مسعود ملک سے ملنے کا پروگرام ضرور بناتا اکثر ملاقات بھی ہوتی ۔منگل 10 دسمبر کو شہزاد فاروقی نے اطلاع دی کہ مسعود ملک ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔اب اسلام آبادجانے کا جب بھی پروگرام بنا پھیکا پھیکا لگے گا کیونکہ اس پروگرام میں مسعود ملک سے ملاقات شامل نہیں ہو گی۔


ای پیپر