خوب صورت عورتیں…
12 دسمبر 2019 2019-12-12

دوستو،شادی کے بعد دنیا کی ساری خواتین ہی اچانک خوب صورت نظر آنے لگتی ہیں۔۔ اگر آپ نے شادی نہیں کی تو ابھی آپ کو اندازہ نہیں ہوگا، لیکن جیسے ہی آپ قبول ہے،قبول ہے،قبول ہے کی تین بار گردان کریں گے اچانک ہی آپ کے دماغ اور دل میں نجانے کون سا ایسا وائرس سرایت کرجائے گا کہ آپ کو نکاح نامے پر دستخط کے بعد شادی ہال میں موجود نہ صرف اپنی بیوی زہر لگنے لگے گی بلکہ تمام لڑکیاں مس یونیورس اور مس ورلڈ لگیں گی۔۔یہ بات ہم پوری ذمہ داری سے کہہ رہے ہیں جس کسی کوبھی شک ہے وہ فوری طور پر شادی کے عمل سے گزرے پھر ہماری بات کو پرکھ لے۔۔چلیں آج اوٹ پٹانگ باتوں سے گریز کرتے ہیں اور آپ سے کچھ کام کی باتیں کرلیتے ہیں۔۔

شادی کے بعد دنیا کی دوسری عورتیں خوبصورت کیوں لگتی ہیں۔۔کسی صاحب نے ایک تجربہ کارعالم دین سے مسئلہ دریافت کرلیا۔۔کہنے لگا،شروع شروع میں جب میری بیوی مجھے پسند آئی تھی تو اس وقت وہ میری نگاہ میں ایسی تھی جیسے اللہ تعالی نے اس دنیا کے اندر اس جیسا کسی کو بنایا ہی نہیں۔ جب میں نے اسے شادی کا پیغام دیا تو اس وقت میری نگاہ میں اس جیسی کئی ساری لڑکیاں تھیں۔پھر جب میں نے اس سے شادی کر لی تو اس وقت اس سے زیادہ خوبصورت خوبصورت کئی لڑکیاں میری نظر سے گزریں۔ شادی کے چند سال گزرنے کے بعد مجھے ایسا لگنے لگا کہ دنیا کی تمام عورتیں میری بیوی سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ ۔عالم دین نے تسلی سے مسئلہ سنا اور کہا۔۔ کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عجیب و غریب چیز نہ بتاؤں؟ اس آدمی نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں!حضرت نے کہا۔۔ اگر تم دنیا کی ساری عورتوں سے شادی کر لو پھر بھی تمہیں ایسا لگے گا کہ گلی کوچوں میں پھرنے والے آوارہ کتے دنیا کی تمام عورتوں سے زیادہ خوبصورت ہیں۔ آدمی ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا۔۔ حضرت! آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟حضرت نے جواب دیا۔۔ اصل پریشانی تمہاری بیوی میں نہیں بلکہ اصل پریشانی یہ ہے کہ جب انسان کا دل لالچی ہو جائے، اس کی نگاہیں ادھر ادھر بھٹکنے لگیں اور انسان شرم و حیا سے عاری ہو جائے تو قبر کی مٹی کے سوا اور کوئی بھی چیز اس کی آنکھوں کو نہیں بھر سکتی۔سنو! تمہاری پریشانی یہ ہے کہ تم نگاہیں نیچے نہیں رکھ سکتے۔کیا تم اپنی بیوی کو دوبارہ دنیا کی سب سے زیادہ خوبصورت عورت بنانا چاہتے ہو؟ اس آدمی نے جواب دیا۔۔ جی ہاں!۔۔عالم دین نے کہا۔۔ پھر تم اپنی نگاہیں نیچی رکھو۔

ایک شخص گھر آیا تو اس کی بے حد حسین بیوی نے شکوہ کیا۔۔ہمارے غسل خانے کے پاس جو درخت ہے اسے کٹوا دو ، میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ جب غسل کررہی ہوں تو پرندوں کی نظر مجھ پر پڑے۔وہ بیوی کی اس بات سے بہت متاثر ہوا اور درخت کٹوا دیا۔وقت گزرتا رہا۔۔ایک دن وہ خلافِ معمول اچانک گھر آیا تو دیکھا بیوی کسی مرد کے ساتھ رنگ رلیاں منارہی تھی۔۔اسے بہت دْکھ ہوا۔ وہ اپنا گھربار چھوڑ کر بغداد چلا گیا۔ اور وہاں اپنا کاروبار شروع کرلیا۔اللہ نے کاروبار میں خوب برکت دی ، اور اپنے روز افزوں کاروبار کی بدولت وہ بغداد کے عمائدین میں شمار ہونے لگا۔ یہاں تک کہ بغداد کے کوتوال تک رسائی بھی حاصل کرلی۔ایک دن کوتوال کے گھرچوری ہوگئی۔پولیس نے مجرم کا سراغ لگانے اور پکڑنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی۔اس نے دیکھا کہ ایک شیخ کا کوتوال کے گھر آنا جانا ہے ، اور کوتوال ان کی بے حد تعظیم کرتا ہے۔لیکن ایک بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ شیخ آدھے پاؤں پر چلتے ہیں ، پورا پاؤں زمین پر کیوں نہیں رکھتے۔اس نے کسی سے وجہ پوچھی تو اسے بتایا گیا۔۔یہ پورا پاؤں زمین پر اس لیے نہیں رکھتے کہ کہیں کیڑے مکوڑے نہ کْچلے جائیں۔۔وہ شخص فوراً کوتوال کے پاس گیا اور اسے کہا۔۔جان کی امان ہو تو عرض ہے ، آپ کی چوری اِسی شیخ نے کی ہے۔۔جب تحقیق کی گئی تو مال مَسرْوقہ اْسی شیخ سے برآمد ہوا۔کوتوال نے حیرانی سے کہا،ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ شیخ بھی ایسا کرسکتے ہیں۔ تمہیں کیسے معلوم ہوا؟اس نے کہا۔میرے گھر میں ایک درخت تھا ، جس نے مجھے نصیحت کی تھی۔۔جو لوگ ضرورت سے زیادہ نیک نظرآنے کی کوشش کرتے ہیں ، وہ عموماً نیک نہیں ہوتے۔

ایک سردار جی کی اپنی بیوی سے لڑائی ہوگئی، تو تو میں میں اتنی بڑھی کہ سردار جی نے ہاتھ جوڑ کر کہا، "بس کر بس کر میری ماں۔۔۔ !!!! اب بیوی کو’’ ماں‘‘ کہہ دیا تو مذہبی معاملہ آگیا، دونوں اپنے گرو جی کے پاس گئے، تو گرو جی نے بڑی کتابیں’’ پھرول‘‘ کے انہیں بتایا کہاب تم دونوں کو چالیس دن تک چارسولوگوں کو کھانا کھلانا پڑے گا، پھر ہی تم دونوں کا میاں بیوی والا رشتہ بحال ہو سکتا ہے۔ بس جی ! بہت خرچہ ہوا، اور سردار جی نے گھر کی ایک ایک چیز پیچ کر چالیس دن کا چارسو لوگوں کا کھانا پورا کیا۔ اکتالیسویں دن دونوں میاں بیوی خالی گھر میں اکلوتی چارپائی پر بیٹھے۔۔ایک دوسرے کا منہ تک رہے تھے، کہ سردارنی بولی، سردارا ! ، ایہہ سب تیری وجہ نال ہوئیا !۔۔ سردار جی نے غصے سے اپنی گھر والی کو دیکھا، اور بولے۔۔۔فیر چھیڑنی پئی آپنے پیو نوں۔۔

ایک شخص سمندر کے کنارے واک کر رہا تھا تو اس نے دور سے دیکھا کہ کوئی شخص نیچے جھکتا ، کوئی چیز اٹھاتا ہے اور سمندر میں پھینک دیتا ہے، ذرا قریب جاتا ہے تو کیا دیکھتا ہے ہزاروں مچھلیاں کنارے پہ پڑی تڑپ رہی ہیں، شاید کسی بڑی موج نے انہیں سمندر سے نکال کر ریت پہ لا پٹخا تھااور وہ شخص ان مچھلیوں کو واپس سمندر میں پھینک کر ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔اسے اس شخص کی بیوقوفی پر ہنسی آگئی اور ہنستے ہوئے اسے کہا۔۔ اس طرح کیا فرق پڑنا ہے ہزاروں مچھلیاں ہیں کتنی بچا پاؤ گے۔۔؟؟ یہ سن کر وہ شخص نیچے جھکا، ایک تڑپتی مچھلی کو اٹھایا اور سمندر میں اچھال دیا وہ مچھلی پانی میں جاتے ہی تیزی سے تیرتی ہوئی آگے نکل گئی پھر اس نے سکون سے دوسرے شخص کو کہا ’’ اسے فرق پڑا ‘‘ ۔یہ کہانی ہمیں سمجھا رہی ہے کہ ہماری چھوٹی سی کاوش سے بھلے مجموعی حالات تبدیل نہ ہوں مگر کسی ایک کے لیے وہ فائدے مند ثابت ہو سکتی ہے۔۔لہذا دل بڑا رکھیں اور اپنی طاقت و حیثیت کے مطابق اچھائی کرتے رہیں اس فکر میں مبتلا نہ ہوں کہ آپ کی اس کوشش سے معاشرے میں کتنی تبدیلی آئی ؟؟ بلکہ یہ سوچیں کہ آپ نے اپنے حصے کا حق کتنا ادا کیا۔۔!!!خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر