کیا ”روح“ کے بارے میں آپ کو یہ پتہ ہے؟
12 دسمبر 2019 2019-12-12

قارئین محترم، میں نے سوچا، کہ سیاستدانوں پہ کالم لکھنے کے بجائے، جو اس دنیا میں رنگ وبو کی رعنائیوں میں ”مست والست“ ہوکر مگن رہتے ہیں ، میں نے امریکہ سے اُٹھی اس آواز پہ کہ انسان کی روح والا معاملہ چونکہ کمزور ایمان والوں کے فہم وادراک سے بالا ہے، اور اگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ، ان کو طویل عمر سے نوازتا ہے حالانکہ یہ انعام الٰہی ہے، کیونکہ ہمیں تو اسلام یہی بتاتا ہے، کہ ایک مسلمان کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کوئی نہیں ہے، کہ اس کی عمر طویل اعمال کے ساتھ ہو، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ نیکیاں روزآخرت کے لیے جمع کرسکیں اسلام کا مطلب ہے، امن، امن تو ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے، اس دنیا کے لیے بھی اور دائمی اور ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لیے بھی میرے ایک ہمسائے تھے، پراچہ صاحب، جو نہایت نمازی اور پابند صوم وصلوٰة تھے، وہ وہیل چیئر پہ مسجد آتے تھے، مگر نماز پڑھتے وقت وہ کوشش کرتے تھے کہ وہ کھڑے ہوکر نماز پڑھیں، مگر چونکہ وہ خاصے طویل العمر تھے، لہٰذا کھڑے ہوتے وقت ، ان کے منہ سے آہ نکل جاتی تھی، شاید انہیں درد ہوتا تھا اور وہ مسجد سے نکل کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے تھے، کہ اللہ اب مجھے موت دے دے ، میں نے ایک دن ان سے عرض کی، کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تلقین فرمائی ہے، کہ وہ موت کی دعا نہ مانگا کریں، یہ کفران نعمت ہے بقول سید مظفر علی شاہ

بے مزہ ہے، زیست اب

موت کو آنا ہے، کب

اک مسلسل یاس میں

کٹ رہے ہیں روز وشب

غیر سے مانگو نہ کچھ

روک لو دستِ طلب

بن کہے دامن بھرے

اور میرا رحمن رب

اگر بات کی جائے، کہ مسلمان دنیا میں محض اپنی ریاضت، عبادت کے طفیل جنت میں جائے گا، تو یہ یقین اس لیے باطل ہے، کہ دنیا میں آج تک چشم فلک نے دیکھا کر ہمارے آقا اور محبوب خلق حضرت محمد مصطفیٰ سے زیادہ عبادت گزار نہ آج تک اور کوئی ہستی آئی ہے نہ آئے گی، مگر جب ایک دفعہ صحابہ کرامؓ کو انہوں نے فرمایا، کہ کوئی مسلمان اپنی ریاضت کی بناءپر یہ دعویٰ نہیں کرسکتا، کہ وہ یہ کہے کہ میں نے دنیا میں اتنی عبادت کی ہے، لہٰذا مجھے بھی جنت میں جگہ دی جائے، جنت میں داخلہ محض اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ملے گا، ورنہ عبادت گزار تو شیطان بھی یہ سن کر صحابہؓ نے ان سے عرض کی، کہ ہمارے ماں باپ آپ پہ قربان، کیا آپ بھی، تو انہوں نے فرمایا جی میں بھی، محض اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بدولت جنت میں جاﺅں گا لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے، کہ خود اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے، کہ میں آپ کے والدین سے بھی ستر گنا زیادہ رحیم وکریم ہوں، تو پھر ایک مسلمان کو اس سے زیادہ کس یقین دہانی اور تسلی وتشفی کی ضرورت ہے؟ کیا خود خدا کی کہی بات پہ یقین نہیں ہے؟ اللہ تبارک وتعالیٰ دوزخ میں صرف اور صرف انہیں ڈالے گا، جو خدا کو واحد لاشریک نہیں مانتے، اور یہ نہیں کہتے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ بے شمار اعمال اپنے پیغام بر حضرت رسول پاک کے ذریعے مسلمانوں کو بتائے ہیں، کہ جن کے کرنے سے جنت میں جانے کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں، مثلاً ان میں سے ایک نہایت آسان اور سادہ نسخہ تو یہ ہے، کہ رات کو سونے سے پہلے مسلمان اپنے ہر دشمن اور ہرانسان کو معاف کرکے سوئے، اور یہ کہے کہ میں نے سب کو معاف کردیا، محض اے اللہ تیری رضا اور خوشی کے لیے، تو پھر اللہ تعالیٰ جنت کے سارے دروازے یعنی آٹھوں دروازے کھول دیتا ہے، اس کے علاوہ رات کو سونے سے پہلے سورة ملک پڑھنے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ روز محشر سورة ملک کو اللہ تعالیٰ زبان عطا فرمائے گا، تو وہ سورة ملک پڑھنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ سے کہے گی ، کہ اے اللہ تعالیٰ یا مجھے قرآن شریف سے نکال دے ،یا پھر اس شخص کو بخش دے۔

اس کے علاوہ ایک اور بات مسلمانوں کے لیے جو مشعل راہ ہی نہیں، زاد راہ بھی ہے، ایک دفعہ رسول پاک نے فرمایا، کہ مسلمان بزدل بھی ہوسکتا ہے چور بھی ہوسکتا ہے، مگر جھوٹ نہیں بول سکتا، جو شخص ہمیشہ سچ بولتا ہو، اور جھوٹ سے اجتناب کرتا ہو، تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت خاص ہوتی ہے، اس لیے انسان کو ہمیشہ اپنے اعمال اپنے ضمیر کے مطابق ادا کرنا چاہئیں ، کیونکہ ضمیر ایک ایسی کسوٹی ایک ایسا پیمانہ ہے، کہ جو ہمیشہ صحیح ہوتا ہے، اور دل ودماغ یہ گواہی دیتے ہیں، کہ صحیح کیا ہے، اور غلط کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کا فرمان ہے، کہ میں ہر کلمہ پڑھنے والے کو بخش دوں گا، مگر جس نے میرے علاوہ کسی اور کو میرا شریک بنایا، تو اس کو میں ہرگز نہیں بخشوں گا، مثلاً کافر اور ہندو، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ بھی فرمان ہے کہ چونکہ میں رب العالمین ہوں،لہٰذا ان کو رزق بھی میں ہی دیتا ہوں، اور آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں، اسے اس دنیا میں ہی ان کو دے دیتا ہوں، اسی طرح ایک دفعہ میں نے پڑھا تھا، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کو قیامت تک میں خوش حال رکھوں گا، اب روح کے موضوع پہ بات کرتے ہیں۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شہداءاپنے پروردگار کے ہاں زندہ ہوتے ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے، اور وہ اپنے پیچھے رہ جانے والوں سے خوش ہوتے ہیں اور نعمت خداوندی اور فضل الٰہی سے بھی خوش ہوتے ہیں۔ اس سے تین صورتوں میں روحوں کے آپس میں ملنے اور ملاقات کا ثبوت ملتا ہے، چونکہ انہیں رزق دیا جاتا ہے، اور وہ زندہ ہیں، اور وہ آپس میں ملتے جلتے ہیں اور اپنے بھائیوں کے آنے اور ان کی ملاقات پہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں ،ایک دفعہ رسول پاک سے ایک صحابیؓ نے پوچھا، کہ کیا مردے ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں اگر ایسا ہے تو کیا میں بشر مرحوم کو سلام بھیج دوں، فرمایا ہاں بشر کی والدہ، مردے ایک دوسرے کو اس طرح سے پہچانتے ہیں، جیسے درختوں پہ پرندے ایک دوسرے کو پہچان جاتے ہیں، تو پھر جو خاندان کا آدمی فوت ہوتا ہے، وہ بھی ایک دوسرے کو پہچان جاتے ہیں۔

عبیدبن عمیر فرماتے ہیں کہ ارواح دوسروں کے انتظار میں رہتی ہیں، پھر جب ان کے پاس کوئی مردہ آتا ہے، تو وہ ان سے دریافت کرتی ہیں کہ فلاں فلاں کس حال میں ہیں؟ یہ کہتا ہے کہ بالکل ٹھیک ہے، اور اگر وہ شخص جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہوتے ہیں کہتے ہیں، اگر مرگیا ہوتا، تو تمہارے پاس آگیا ہوتا ۔ قارئین کرام، یہ موضوع انتہائی طویل ترین ہے اور میری کوشش ہے کہ اس کو ایمانداری سے آپ کوپہنچاﺅں، ایک بات جو ہرانسان اور ہرمسلمان جانتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا بنا کر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنی روح پھونکی تھی، اور اس طرح سے سوال میرے ذہن میں آتا ہے، کہ کیا وہ روح، جواللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انسان میں پھونکی ہے، کیا اسے جہنم میں ڈال دے گا ؟ حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒنے یوں ہی نہیں اپنے فرزند جاوید اقبال سے کہہ دیا تھا، کہ

مومن پہ گراں ہیں یہ شب وروز


ای پیپر