گوجرانوالہ پولیس کا اقبال بلند ہو!
12 دسمبر 2019 2019-12-12

گوجرانوالہ سے میراتعلق یہ ہے میں گوجرانوالہ آتا جاتا بہت ہوں، میں نے فیصل آباد بھی جانا ہو میری کوشش ہوتی ہے براستہ گوجرانوالہ جاﺅں، اس نسبت سے اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں میں ”گوجرانوالیا “ ہوں ، اس شہر سے مجھے جو عزت اور محبت ملتی ہے وہ میری اوقات سے بہت زیادہ ہے، یہ مجھ پر میرے اللہ پاک کا خاص فضل اور کرم ہے، گوجرانوالہ میں میرے چاہنے والوں کا بس چلے وہ گوجرانوالہ کا نام بدل کر ”توفیقانوالہ“ رکھ دیں، .... ایک توفیق بٹ گوجرانوالہ میں بھی ہیں، وہ نون لیگ کے ممبر صوبائی اسمبلی ہیں، ایک روز وہ مجھ سے کہنے لگے ”میں اکثر بیرون ملک جاتاہوں اور کبھی کبھی اندرون ملک بھی دوست احباب دوسروں سے میرا تعارف کرواتے ہوئے ابھی صرف میرا نام ہی بتاتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں ”جی جی، ہم انہیں جانتے ہیں، یہ بہت اچھے کالم لکھتے ہیں۔البتہ ایک بار ایک صاحب نے مجھے بڑے غور سے دیکھا، اُوپر سے نیچے تک میری شخصیت کا مکمل جائزہ لینے کے بعد وہ مجھ سے کہنے لگے ”آپ اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں ؟“ ۔ اس پر مجبوراً مجھے اُنہیں یہ بتانا پڑا” میں وہ والا توفیق بٹ نہیں ہوں“ .... جواباً اُنہوں نے کہا ” آپ وہ والے لگ بھی نہیں رہے تھے“ ،.... ویسے کبھی کبھی اپنی کچھ خرابیوں کی وجہ سے میں بھی خود کو وہ والا توفیق بٹ نہیں لگتا جو کالموں میں نظر آتا ہے۔ پندرہ برسوں کی کالمی زندگی میں دوتین بار ایسے مواقع ضرور آئے جب لکھتے ہوئے قلم دیوار پر مارا، یہ سوچ کر کہ میں لکھ کیا رہا ہوں، اور کردار میرا کیا ہے؟۔ ایک بے شرم معاشرے نے میری پرورش نہ کی ہوتی میں چُلو بھر پانی میں ڈوب کر اب تک مرگیا ہوتا، .... بہرحال اب تو ”بٹوں“ میں بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ مختلف شعبوں میں اعلیٰ خدمات انجام دے رہے ہیں، پچھلے برس میں سی ایس ایس کرنے والوں کی فہرست دیکھ رہا تھا اُس میں بھی کئی ”بٹ“ مجھے نظر آئے، جس پر ایک لمحے کے لیے مجھے یوں لگا میری نظر کمزور ہوگئی ہے، .... گوجرانوالہ میں بھی ہمارے ایک چھوٹے بھائی عثمان طارق بٹ (پی ایس پی ) بطور ایس پی سول لائن اپنے فرائض بہت اچھی طرح انجام دے رہے ہیں، اپنے فرائض اچھی طرح انجام دینے میں اپنے اندر کے ”بٹ“ کو قابو میں رکھنے کے لیے اُنہیں کتنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا یہ وہی جانتے ہیں، تھوڑا تھوڑا میں بھی جانتا ہوں، اسی لیے میں اکثر ان سے کہتا ہوں جب بھی موقع ملے اپنے آرپی او گوجرانوالہ طارق عباس قریشی کے پاس جاکر بیٹھا کریں جو تحمل، بردباری،صبر اور برداشت کا ”کوہ ہمالیہ“ ہیں،.... فیروز والا میں بھی ہماری ایک بہن عائشہ بٹ بطور اے ایس پی کام کررہی ہیں، ان کی صرف شہرت ہی نہیں ان کے شوہر بھی اچھے ہیں، وہ ان دنوں اسلام آباد پولیس میں بطور ایس پی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ان کا نام بلکہ نیک نام عبدالوہاب ہے۔ شکر ہے وہ ”بٹ“ نہیں ورنہ ایک میان میں دو تلواروں کا رہنا اچھا خاصا مشکل ہو جاتا، ....کشمیری برادریوں میں سب سے بدنام ”بٹ برادری“ ہے، ان کی جو خامیاں سمجھی جاتی ہیں وہ کئی لحاظ سے ان کی خوبیاں ہیں، ایک تو وہ کھانے پینے کے معاملے میں بہت بدنام ہیں، دوسرے وہ جھگڑالو بہت ہوتے ہیں، کسی سڑک پر کسی کی کوئی لڑائی ہورہی ہو، کوئی بٹ وہاں سے گزر رہا ہو، وہ خوامخواہ اس لڑائی کو اپنے گلے میں ڈال لیتا ہے .... خوامخواہ لڑنے جھگڑنے کا شوق ان کشمیریوں میں نہ ہوتا نواز شریف شاید تاحیات وزیراعظم ہوتے، .... سوجس طرح ایک ٹی وی اشتہار کے مطابق ”داغ تو اچھے ہوتے ہیں “ اُسی طرح کبھی کبھی لڑنا جھگڑنا بھی اچھا ہوتا ہے، کہ اس کے نتیجے میں کچھ کرپٹ حکمرانوں سے جان چھوٹ جاتی ہے، اپنے اقتدار کے ”سہولت کاروں“ کے ساتھ لڑنا جھگڑنا ویسے بھی زیب نہیں دیتا، ہمارے وزیراعظم خان صاحب چونکہ ”بٹ“ نہیں لہٰذا اُمید ہے وہ خوامخواہ کے لڑائی جھگڑوں سے گریز کرکے اپنے اقتدار کی مدت آسانی سے پوری کرلیں گے، .... اب میں اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہوں جو میرے آج کے کالم کا عنوان بھی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کی خوش بختی یہ ہے کم ازکم گوجرانوالہ میں ایک ایسے شاندار پولیس افسر کو بطور آرپی او تعینات کیا گیا جو ایمانداری ، عاجزی وانکساری کی خصوصیات رکھنے کے ساتھ ساتھ ایسے علم یافتہ انسان ہیں آپ دنیا جہان کے کسی بھی موضوع پر ان سے بات کرلیں ایسی ایسی دلیل وہ نکال

کر لے آئیں گے، آپ کو حیران کردیں گے۔ وہ انتہائی اعلیٰ شعری ذوق کے مالک بھی ہیں، انسانیت کی خدمت ان کی فطرت نہ ہوتی، خود کو اس مقصد کے لیے وقف کردینے کا بھوت ہروقت طارق عباس قریشی کے سرپر سوار نہ ہوتا، اس میں سے تھورا سا وقت نکال کر وہ شاعری کرتے کمال کرتے ،بڑے بڑے نامور شاعروں سے آگے نکل جاتے۔ گوجرانوالہ میں گزشتہ دنوں اعلیٰ درجے کے انٹرنیشنل مشاعرے کا اہتمام بھی انہوں نے کیا۔ اس مشاعرے کی ایک خصوصیت اور کمال یہ تھا ، مجھے پتہ چلا مشاعرہ گاہ میں گوجرانوالہ کے کئی مشہور ومعروف ”پہلوان “ بھی موجود تھے، اُنہیں شاید خصوصی طورپر اس لیے مدعو کیا گیا ہوگا کہ گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے سامعین کسی اچھے شعر پر کسی شاعر کو داد نہ دیں تو اِن ”پہلوانوں“ کی ”خدمات“ سے استفادہ کیا جاسکے .... طارق عباس قریشی عاشق رسول ہونے کے ساتھ ساتھ عاشق اقبالؒ بھی ہیں، اور شاید اس لیے بھی ہیں کہ اقبالؒ خود بھی عاشق رسول تھے .... اِس نسبت سے اُنہوں نے گزشتہ ہفتے گوجرانوالہ کے چیمبر آف کامرس ہال میں ایک شاندار ” اقبال سیمینار“ کا اہتمام کیا، اس کے اصل مہمان خصوصی علامہ اقبالؒ کے نواسے میاں اقبال صلاح الدین تھے، اُن کے ساتھ دوسرا مہمان خصوصی بنا کر بیٹھنے کا اعزاز جناب طارق عباس قریشی نے مجھے بخشا، میاں اقبال صلاح الدین کی صورت ہی نہیں سیرت بھی نانا جیسی ہے، تقریب میں موجود کئی لوگوں نے مجھ سے کہا میاں اقبال صلاح الدین کو سٹیج پر بیٹھے دیکھ کر اُنہیں یہی محسوس ہورہا تھا جیسے اقبالؒخود سٹیج پر آکر بیٹھ گئے ہوں، اس موقع پر میاں اقبال صلاح الدین نے ایسی خوبصورت گفتگو کی مجھے یقین ہے اقبالؒ کی روح خوش ہوگئی ہوگی، یہ اقبال کے بارے میں کوئی ”روایتی گفتگو“ نہیں تھی جو ہم ایسے ”برائلر دانشور“ اقبال ڈے وغیرہ پر گونگلوﺅں سے مٹی جھاڑنے کے لیے کردیتے ہیں، وہ بہت تیاری کرکے آئے تھے ۔ اُنہیں شاید اندازہ تھا وہ ایک دانشور آرپی او کی ماتحت پولیس سے خطاب کرنے جارہے ہیں، جو اتنی بے ذوق ہرگز نہیں ہوسکتی جتنی بے ذوق کچھ دوسری رینجز میں تعینات آرپی اوز کے ماتحت پولیس ہوسکتی ہے، کچھ عرصہ پہلے ڈیرہ غازی خان میں تعینات ایک آرپی او نے اپنی پولیس سے خطاب کے لیے اسلام آباد کے ایک نامور قلم کار کو بلالیا، جتنی ”اُباسیاں“ (جمائیاں) اُس نامور قلم کار کے خوبصورت خطاب کے دوران پولیس والوں نے لیں تقریباً اُتنی ہی ”اُباسیاں“ آرپی او صاحب نے خود بھی لیں (جاری ہے)


ای پیپر