نظریہ ضرورت اور عدلیہ میں شفاف تقرریاں
12 دسمبر 2019 2019-12-12

رواں سال 28 مارچ کو راقم الحروف کا کالم بعنوان “ عدلیہ میں تقرری کا عالمی طریق کار اور پاکستان ”سے شائع ہو چکا ہے۔ جس میں عدل پرور سمجھے جانے والے ممالک میں اعلی عدلیہ کے ججوں کی تقرری اور پاکستان میں مروجہ طریق کار کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے ماہرین کی آراءکی روشنی میں ترامیم کی چند تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ خوشی اس بات کی ہے کہ حکومت کی پارلیمانی کمیٹی نے انہی خطوط پر کام کرتے ہوئے پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری میں عالمی طریق کار کو اپنانے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ بلاشبہ موجودہ حکومت کے اب تک کے چند اچھے عملی اقدامات میں اٹھایا جانے والا یہ قدم ہمیشہ سر فہرست رہے گا کیونکہ عدلیہ کا تعلق براہ راست عوام اور ان کے بنیادی حقوق کے تخفظ سے جڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے بنیادی حقوق کے تخفظ کے لئے قابل اور دیانت دار ججوں کا تقرر ناگزیر سمجھا جاتا ہے. تاہم ماضی میں پاکستان کی اعلی عدلیہ شفاف تعیناتیاں نہ ہونے کے باعث ہماری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور قانون کی سربلندی کے لئے اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی۔ آئینی و قانونی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ ایمانداری، غیر جانبداری اور دباو¿ برداشت کرنے جیسی صلاحیتوں سے محروم نااہل افراد کی بطور جج تقرری اور حکومتوں کی براہ راست عدلیہ میں مداخلت کی وجہ سے ہی ہماری عدالتی تاریخ متنازعہ فیصلوں سے بھری پڑی ہے۔ 1954 میں پاکستان میں چیف جسٹس پاکستان کے عہدے پر پہلی من پسند اور خلاف ضابطہ تقرری جسٹس منیر کی ہوئی اور پھر اس تقرری کا خمیازہ پوری قوم کو کئی دہائیوں تک بھگتنا پڑا۔ اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے منصوبہ بندی کرکے اس وقت کے سینئر ترین بنگالی جسٹس اے ایس ایم اکرم اور دوسرے تیسرے نمبر پر ججوں ایم شہاب الدین اور اے آر کارنیلس کو نظر انداز کرکے جسٹس منیر کو چیف جسٹس پاکستان بنایا اور وہ 29 جون 1954 سے 2 مئی 1960 تک پاکستان کی عدلیہ کے سربراہ رہے۔ اسی تعیناتی کے نتیجے میں انہوں نے عدلیہ میں نظریہ ضرورت متعارف کروانے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ جسٹس منیر کے دور میں اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے پہلی دستور ساز اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ اس اقدام کو سپیکر قومی اسمبلی مولوی تمیزالدین نے سندھ چیف کورٹ میں چیلنج کر دیا اور سندھ چیف کورٹ نے فیصلہ مولوی تمیز الدین کے حق میں دیا۔ جس پر گورنر جنرل غلام محمد نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ جسٹس منیر نے دباو¿ میں آ کر فیصلہ گورنر جنرل کے حق میں دیا اور اسے نظریہ ضرورت قرار دیا۔ جسٹس منیر نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد خود اعتراف کیا تھا کہ ان کا " نظریہ ضرورت" کا فیصلہ دباو¿ کا نتیجہ تھا۔ قانونی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے نے ملکی قسمت کے دھارے کو موڑ دیا اور ہمارے ترقی کے بجائے زوال کے ایسے سفر کا آغاز ہوا کہ پھر کئی جسٹس منیر بنے اور ہر بار نظریہ ضرورت کا سہارا لیا جاتا رہا۔ اسی نظریے کی بنیاد پر ہر طالع آزما نے عدالتوں سے اپنے حق میں فیصلہ کروایا۔ اس کے بعد تاریخ میں ایسے جج کا ذکر آتا ہے جسے سینیارٹی کے باوجود چیف جسٹس ہائیکورٹ نہ بنانے کا خمیازہ بھٹو کو جان قربان کرنے کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ یہ بات سپریم کورٹ کے ریکارڈ پر ہے کہ بھٹو نے سینیارٹی رکھنے کے باوجود مولوی مشتاق کو دو مرتبہ نظر انداز کرتے ہوئے چیف جسٹس ہائیکورٹ بننے سے محروم رکھا۔ نظر انداز کیے جانے کے بعد مولوی مشتاق دو سال کی چھٹی لیکر سوئٹزرلینڈ چلے گئے تھے اور جب فوجی صدر ضیاءالحق نے اقتدار سنبھالا تو وہ ملک میں واپس آگئے۔ پھر ضیاالحق نے مولوی صاحب کو 12 جنوری 1978 کو لاہور ہائی کورٹ کے تحت پر بٹھا کر من چاہے فیصلے کروائے جن میں بھٹو کا عدالتی قتل بھی شامل ہے۔ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں 25مارچ 1978ءکو اپیل کی گئی لیکن اس سے قبل جنرل ضیاءایک بار پھر خلاف ضابطہ 22ستمبر 1977ءکو جسٹس یعقوب علی خان کے بعد اپنے پسندیدہ جج جسٹس انوارالحق کوچیف جسٹس پاکستان مقرر کر چکے تھے۔جنھوں نے وفاداری نبھاتے ہوئے بھٹو کیس کی شنوائی کی اور 6فروری1979ءکو سات رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا۔ تاہم یہ فیصلہ متفقہ نہ تھا.جسٹس محمد اکرم، جسٹس کرم الہیٰ چوہان اور جسٹس نسیم حسن شاہ نے چیف جسٹس کا ساتھ دیا. اس طرح چار ججوں نے بھٹو کو سزائے موت دینے کے حق میں فیصلہ دیا جبکہ تین ججوں،جسٹس دراب پٹیل،جسٹس حلیم صدیقی اور جسٹس صفدر شاہ نے بھٹو کی اپیل منظور کر لی اور اختلافی نوٹ دئیے۔ ان کے بعد جسٹس سجاد علی شاہ سینئیر ججوں کی حق تلفی کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان بنے۔ انہوں نے جوڈیشل ایکٹیوازم کا بھرپور استعمال کیا۔ فاروق لغاری نے بے نظیر حکومت کو ختم کیا تو جسٹس سجاد علی شاہ نے اس فیصلے کو درست قرار دے دیا۔ نواز شریف کی حکومت قائم ہوئی تو جسٹس سجاد علی شاہ کے حکومت سے اختلافات شروع ہوگئے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی منظور کردہ آئینی ترامیم کو منسوخ کیا۔ جس کے بعد ملک میں سنگین بحران پیدا ہوگیا۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف بغاوت کر دی، اور ملکی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ میں دو عدالتیں لگیں، جسٹس سجاد علی شاہ فیصلہ دیتے تو دوسری عدالت اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیتی۔ پھر جسٹس سجاد علی شاہ کی چیف جسٹس کی حیثیت سے تقرری کو چیلنج کیا گیا۔ جس کا فیصلہ دیتے ہوئے جسٹس سعید الزماں صدیقی کی سربراہی میں قائم بنچ نے جسٹس اجمل میاں کو قائم مقام چیف جسٹس مقرر کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ اس بحران کا نتیجہ جسٹس سجاد علی شاہ کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ تک رخصت کی صورت میں نکلا۔ ان کے بعد چیف جسٹس ارشاد حسن خان نے نہ صرف جنرل مشرف کے مارشل لاءکو جائز قرار دیا بلکہ اسے آئین میں ترمیم کا اختیار بھی دے دیا۔ ان چند مثالوں سے یہ بات واضح ہے کہ منصف کے عہدے پر ہونے والی ایک غلط تقرری کا خمیازہ ملک و قوم کو کئی دہائیوں تک بھگتنا پڑا لیکن ہم نے اس ایک غلطی سے سبق سیکھنے کے بجائے ان غلطیوں کا باقاعدہ رواج قائم کیا جس کے نتائج اور اثرات آج تک باقی ہیں۔ آئینی ماہرین یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہماری عدلیہ میں غلط تقرریاں نہ ہوتیں تو توشائد آج ہمارا شمار بھی عدل پرور ممالک میں ہوتا۔ بہرحال ججز تقرری میں پارلیمانی کمیٹی کے کردار کو فعال کرنے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ اب مصلحتوں یا وفاداریوں سے مبرا ہو کر صرف لائق اور دیانتدار افراد کو ان عہدوں پر فائز کیا جا سکے گا۔


ای پیپر