پروکیورمنٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور شفافیت
12 دسمبر 2018 2018-12-12

تحریک انصاف کی حکومت شفافیت ، جوابدہی، بدعنوانی کے خاتمے، میرٹ اور احتساب کے نعرے بلند کر کے حکومت میں آئی ہے۔ عمران خان گزشتہ کئی سالوں سے اس بات پر زور دیئے ہوئے ہیں کہ تقرریاں میرٹ پر ہونی چاہئیں اور صحیح جگہ پر صحیح فرد کو ہونا چاہیے۔ اب تحریک انصاف کی حکومت کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اپنے ان نعروں کو حقیقت میں بدلیں اور موجودہ نظام کے نقائص اور خامیاں رد کرے اور اسے مؤثر اور بدعنوانی سے پاک نظام میں تبدیل کرے۔ تحریک انصاف کی حکومت پروکیورمنٹ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (PMIS) کے ذریعے پروکیورمنٹ کے عمل کو شفاف اور بدعنوانی سے پاک بنایا جا سکتا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید کمیونیکیشن کے ذرائع کی مدد سے پروکیورمنٹ کے پورے عمل اور نظام کو مؤثر، تیز رفتار اور شفاف بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان ابھی تک اس معاملے پر جنوبی ایشیا کے دیگر کئی ممالک سے پیچھے ہے۔ مثلاً بنگلہ دیش نے کئی ارب ڈالر خرچ کر کے ای پروکیورمنٹ (E-procurement)کے نظام کو رائج کیا ہے مگر پاکستان میں ابھی تک اس حوالے سے خاص پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

PMIS کا سسٹم نوجوان، متحرک اور ملک و قوم کے لیے درد دل رکھنے والے بیورو کریٹ شیخ افضال رضا نے تشکیل دیا ہے۔ میں افسر شاہی سے ذرا تھوڑا دور ہی رہتا ہوں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ بیورو کریٹس کی اکثریت انسان کم اور افسر زیادہ ہوتے ہیں اور افسروں سے ہماری بنتی ہی نہیں مگر جب ایک دوست صحافی نے PMIS سسٹم اور شیخ افضال رضا کے بارے میں بتایا تو صحافیانہ تجسس نے مجھے مجبور کیا کہ ان سے ایک بار ملنے میں کوئی حرج نہیں۔ اگر وہ محض گریڈوں کا حساب کتاب رکھنے والے سرکاری افسر نکلے تو یہ ان سے پہلی اور آخری ملاقات ہو گی۔ اصل مقصد تو اس پروجیکٹ کے بارے میں معلومات کا حصول تھا مگر جب ان سے ملاقات ہوتی تو وہ کہیں سے افسر نہیں لگے۔ نہ ہی ان میں شاہانہ کروفر اور نہ ہی تکبر بلکہ انتہائی ملنسار، سادہ اور نرم گفتار نوجوان بیورو کریٹ سے مل کر خوشی ہوئی۔ مجھے اچھے طرح اندازہ ہے کہ ان کو اس پراجیکٹ اور اس کی افادیت کے بارے میں سمجھاتے ہوئے کتنی دقت پیش آئی ہو گی کیونکہ میرا چھوٹا بھائی یہ سمجھتا ہے کہ مجھے جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں اتنا ہی علم اور آگاہی ہے جتنی کہ غار میں رہنے والے شخص کو اس دنیا کے بارے میں ہو سکتی ہے۔ بنیادی طور پر شیخ افضال رضا کا تعلق آڈٹ اینڈ اکاؤنٹ سروس سے ہے مگر وہ آج کل محکمہ زراعت پنجاب میں تعینات ہیں اور PMIS سسٹم کو اس محکمے میں رائج کر چکے ہیں۔ محکمہ زراعت پنجاب کے 720 کے قریب دفاتر میں پروکیورمنٹ کا یہ نظام رائج اور فعال ہے۔ اس نظام کے تحت سیکرٹری زراعت پنجاب اور اعلیٰ افسران اپنے دفاتر میں بیٹھ کر اپنے سمارٹ فوج یا کمپیوٹر کے ذریعے کسی بھی ذیلی دفتر کی پروکیورمنٹ کی تفصیلات جان سکتے ہیں۔ وہ مسلسل اپنے محکمے کی پروکیورمنٹ کے عمل پر نظر رکھ سکتے ہیں اور جہاں کہیں خامی یا کوتاہی نظر آئے اسے فوری طور پر مداخلت کر کے درست کر سکتے ہیں۔ یہ پراجیکٹ دراصل عالمی بینک (World Book)کی مدد سے مکمل کیا گیا ہے جس میں شیخ افضال نے پروکیورمنٹ ایڈوائز کے طو رپر کام کیا ہے۔ محکمہ زراع پنجاب میں کامیابی سے رائج کرنے کے بعد شیخ افضال اور عالمی بینک کی یہ خواہش ہے کہ PMIS کے سسٹم کو پنجاب کے دیگر محکموں اور دیگر صوبوں میں بھی رائج کیا جائے تا کہ پروکیورمنٹ کے پورے عمل میں موجود غیر شفافیت ، بدعنوانی اور سست روی کو دور کیا جا سکے اور اس پورے عمل کو شفاف، جوابدہ اور تمام خامیوں سے پاک کیا جا سکے۔

پنجاب حکومت نے پوری کوشش کی کہ ٹریننگ کے ذریعے پنجاب کے سرکاری ملازمین اور افسران کو تربیت فراہم کی جائے تا کہ پروکیورمنٹ کے نظام میں موجود خامیوں اور استعداد کی کمی کو دور کیا جا سکے۔ پنجاب حکومت سالانہ کروڑوں روپے اس مقصد کے لیے خرچ کر رہی ہے مگر ابھی تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹس میں مسلسل ایک ہی طرح کے اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔ ایک لاکھ سرکاری ملازمین اور افسران یہ ٹریننگ لے چکے ہیں مگر نتیجہ صفر۔ اگر پنجاب حکومت اپنے تمام محکموں میں پروکیورمنٹ کے لیے PMIS کا استعمال کرے تو ان غیر ضروری اخراجات کا خاتمہ کیا جا سکتاہے۔

PMIS میں پنجاب پیرا کے 70 رولز موجود ہیں۔ یہ نظام ڈیٹا انٹری کی غلطیوں سے روکنا ہے۔ اس کو استعمال کرنا انتہائی آسان ہے کیونکہ اس کے اندر رہنمائی کے ٹولز موجود ہیں۔ اس سسٹم کے اندر بڈنگ ڈاکومنٹ بھی موجود ہیں جو کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل اور ECNEC سے منظور شدہ ہیں۔ بڈنگ ڈاکومنٹس کی عدم دستیابی اور ان کا عدم استعمال سرکاری اداروں کے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ بڈنگ ڈاکومنٹس کا استعمال استعداد کار نہ ہونے کے باعث بھی کم ہے۔

PMIS نظام کو ضلعی حکومتوں کے نظام کو صاف ، شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ضلعی حکومتوں کو زیادہ ادارے منتقل کرنے کی مخالفت اس لیے بھی کی جاتی ہے کہ ضلعی حکومتوں کے پاس استعداد اور صلاحیت کی کمی ہے۔ اس حوالے سے شفافیت ، جوابدہی اور مانیٹرنگ کے جواز بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اگر اس نظام کو ضلعی سطح پر استعمال کیا جائے تو اس سے استعداد اور صلاحیت کے مسئلے پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے اور مانیٹرنگ اور احتساب کے مؤثر نظام کو بھی لاگو کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح اس نظام کو انسداد رشوت ستانی کے ادارے بھی استعمال کر سکتے ہیں اور پراجیکٹ کی تکمیل یا پروکیورمنٹ کے عمل مکمل ہونے کے بعد بدعنوانی اور احتساب کا عمل شروع کرنے کی بجائے PMIS کی مدد سے کسی بھی وقت پروکیورمنٹ کے عمل کی شفافیت کو جانچ سکتے ہیں۔ اسی طرح اعلیٰ سرکاری افسران بھی اپنے ذیلی دفاتر کی کارکردگی اور پروکیورمنٹ کے عمل کی مانٹرنگ کر سکتے ہیں۔

سرکاری دفاتر میں تین قسم کی پروکیورمنٹ ہوتی ہے۔ (1) پروکیورمنٹ آف گڈز یعنی اشیاء کی خرید جن میں ادویات، سکولوں کی کتابیں اور اجناس کی خریداری شامل ہے۔ (2) پروکیورمنٹ آف ورکس یعنی تعمیراتی کام اور پروکیورمنٹ آف سروسز یعنی مختلف شعبوں کے ماہرین اور کمپنیوں کی خدمات کا حصول۔ ہر سال سرکاری ادارے اربوں روپے کی پروکیورمنٹ کرتے ہیں اور ان میں وسیع پیمانے پر گھپلے ہوتے ہیں۔ PMIS کے نظام کے تحت اس بدعنوانی، اختیارات کے غلط استعمال اور دیگر خامیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔

میرے اس کالم کا مقصد محض اتنا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی حکومت بدعنوانی کے خاتمے، جوابدہی اور شفافیت پر مبنی نظام کو رائج کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے تو وہ PMIS سے استفادہ کر سکتی ہے۔ اس نظام کی مدد سے ہسپتالوں میں ادویات کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس طرح سکولوں میں کتابوں کی فراہمی اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے عمل کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ میں نے اپنی ملاقات کے دوران اس باصلاحیت افسر کے دل و دماغ میں کچھ کرنے کے عزم اور ارادے کو محسوس کیا۔ وہ اس ملک کے لیے کچھ کرنے کا عزم اور تڑپ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پروکیورمنٹ میں ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے اور اٹلی سے فارغ التحصیل ہیں۔ حکومت کو ان کی صلاحیتوں اور قابلیت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور انہیں موقع فراہم کرنا چاہیے کہ وہ PMIS کے نظام کو پورے صوبے اور پھر ملک میں رائج کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

پاکستان کو ای پروکیورمنٹ کی جانب بڑھنا چاہیے۔ پرانے اور فرسودہ طور طریقوں کو چھوڑ کر جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا چاہیے۔ ہمیں ملک کے باہر دیکھنے کی بجائے ملک کے اندر موجود ٹیلنٹ اور صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔


ای پیپر