نبی کریم ﷺ سے متعلق توہین آمیز پوسٹ ،بھارت میں ہنگامے پھوٹ پڑے 
12 اگست 2020 (22:08) 2020-08-12

بنگلور: بھارت کے آئی ٹی حب بنگلورو میں فیس بک پرنبی کریم حضرت محمدﷺ سے متعلق توہین آمیزپوسٹ کے بعد ہنگامے برپا ہوگئے اور پولیس اور ہزاروں مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں4 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق پرتشدد واقعات گزشتہ روز 7 بجے شروع ہوئے اور کم از کم 5 گھنٹے تک جاری رہے جس کے بعد بدھ کی شام تک 110 افراد کو گرفتارکیا گیا ہے رپورٹ میں بتایا گیا کہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے مقامی پولیس نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جریدے نے بتایا ہے کہ کانگریس کے ایک ایم ایل اے اکھنڈا سرینواسا مورتھی کے قریبی عزیز کی جانب سے سوشل میڈیا سائٹ پر نبی کریم حضرت محمدﷺ کے بارے میں توہین آمیز پوسٹ کے بعد اشتعال پھیلا، تاہم اس کے بعد مذکورہ پوسٹ کو ڈیلیٹ کردیا گیا۔

اس گستاخانہ پوسٹ کے بعد ایک ہجوم مقامی قانون ساز کے گھر کے باہر پہنچا اور 2 گاڑیوں کو آگ لگادی پولیس کے مطابق مذکورہ معاملے میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی انڈیا (ایس ڈی پی آئی) سے تعلق رکھنے والے مزمل پاشا اور 6 دیگر لوگوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا گیادوسری جانب بنگلورو پولیس کے کمشنر کمال پنٹ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ پوسٹ کرنے پر ایم ایل اے کے عزیز کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ اس کے ساتھ فسادات اور آتش زنی پر تقریباً 100 افراد کو بھی پکڑا گیا ہے اور اب صورتحال قابو میں ہے۔

اس س قبل گزشتہ روز متشتعل مظاہرین نے تھانے پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجے میں 60 افسران زخمی ہوگئے جبکہ وہاں موجود گاڑیوں کو بھی آگ لگادی گئی تاہم پولیس کی جانب سے مشتعل ہجوم پر براہ راست فائرنگ کی گئی اور آنسو گیس کے شیل برسائے گئے. پولیس نے غیرملکی نشریاتی ادارے کو بتایا تھا کہ منگل ہوئے پرتشدد واقعے میں 3 افراد شدید زخمی ہوئے تھے جبکہ ایک رپورٹر بھی زخمی ہوگیا تھاٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین کی جانب سے قانون ساز کے عزیز کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا جبکہ ایل ایم اے کے رشتے دار نے دعویٰ کیا کہ ان کا فیس بک اکاؤنٹ ہیک ہوگیا تھا اور انہوں نے کوئی قابل اعتراض مواد پوسٹ نہیں کیا.


ای پیپر