ساون۔ حبس۔ سیلاب اور ہمارا نظام 
12 اگست 2020 2020-08-12

سیاح نے دیہاتی سے پوچھا :”کیسی گزررہی ہے“؟

دیہاتی بولا: جناب! مزے میں گزررہی ہے۔ مجھے درخت کاٹنے تھے کہ اتنے میں زبردست آندھی اور طوفان آیا اورسارے درخت گرگئے۔ میں نے اپنا بقیہ کام مکمل کرلیا اور بڑی زحمت سے بچ گیا۔ “ 

سیاح : ”بہت خوب بھئی واہ واہ “ 

دیہاتی: یہ تو کچھ بھی نہیں، ایک بار مجھے گھاس جلانی تھی، بجلی گری اور ساری گھاس جل گئی اور مجھے تکلیف نہیں کرنی پڑی۔ “

سیاح :”ماشا اللہ ! اب کیا ارادے ہیں۔؟“

دیہاتی :” اب مجھے زمین سے آلو نکالنے ہیں زلزلے کا شدت سے انتظار ہے“ 

عزیز قارئین !ہے تو یہ گھسا پٹا لطیفہ سا مگر ہم غورکریں تو ہماری سوچ بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ بارشیں ہرسال آتی ہیں مگر ہم عین بارش میں غورکرتے ہیں کہ نکاسی¿ آب کے لیے ہمیں برساتی نالے صاف کرنے ہیں اور ان شہر کے اندر برساتی نالوں کی صفائی کا کام سرانجام دینا ہے۔ پانی نکالنے کے لیے نصب پمپ اور دیگر آلات کو درست کرنا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جس وقت آفت یا مصیبت ہمارے سرپڑتی ہے تو ہم حرکت میں آتے ہیں۔ پھر ہمارے خادم حکمران ہوں یا ”نادم “ وزیر مشیر لمبے بوٹ پہن کر پانی میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور نکاسی¿ آب کے لیے کام کی نگرانی میں مستعد ہو جاتے ہیں۔ ذرا سی بارش ہوجائے تو ہماری سڑکیں ندی نالوں بلکہ دریاﺅں کا روپ دھارلیتی ہیں۔ ٹریفک کا براحال ہوجاتا ہے۔ لوگوں کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ آندھی اور طوفان سے ہمارا برقی نظام تباہ و برباد ہو جاتا ہے لوگ ”حبس“ میں لُو کی دعا مانگنے لگتے ہیں۔ ہم تو اپنی شاعر برادری پر حیران ہیں کہ ”ساون “ کی قصیدہ خوانی میں زمین وآسمان کے قلابے ملا دیتے ہیں۔ اردوشاعری ساون رُت کے گیتوں سےنجانے کیسے بھری ہوئی ہے؟ کم ازکم میں نے توساون میں جُھولے پڑے کبھی نہیں دیکھے جب کہ شاعر ہجر وفراق میں کہتے ہیں : 

تری دوٹکیا کی نوکری مرا لاکھوں کا ساون جائے

یاپھر :

”ساون میں پڑے جھولے “ جیسے گیت گاتے ہیں۔ ساون میں میں حبس اور گرمی سے جان پر بن آتی ہے۔ بجلی کا نظام تو ہمارے ہاں پہلے لوڈشیڈنگ کے بہانے مانگتا ہے۔ سڑکوں گلیوں میں بلکہ گھروں کے اندر پانی ہی پانی دکھائی دیتا ہے اور بقول شہزاد احمد :

میں کہ خوش ہوتا تھا دریا کی روانی دیکھ کر 

 کانپ اٹھتا ہوں گلی کوچوں میں پانی دیکھ کر 

ہمارے وزیراطلاعات شبلی فراز کے والد محترم احمد فراز کا شعر ہے 

ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز

کچا ترا مکان ہے کچھ تو خیال کر 

خیر یہ تو جملہ معترضہ کے طورپر یاد آگیا ہم کہہ یہ رہے تھے کہ برسات کا موسم ہر سال آتا ہے مگر ہم ہمیشہ اس کی آمد پر ہی اس سے نمٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

کراچی میں پچھلے کئی برسوں سے پیپلزپارٹی کی حکومت رہی ہے مگر نجانے حکومتیں اپنے فرائض سے غافل کیوں ہوتی ہیں؟ کیا گلی کوچوں کے پانی نکالنے یا برساتی نالوں کی صفائی کا کام بھی ہم نے فوج ہی سے لینا ہے۔ زلزلہ ہو سیلاب ہو، بارشیں ہوں یا کوئی اور آفت ہمارے پاس ایک ہی ادارہ منظم ہے جو بروقت پہنچ کر عوام کو مشکلات سے نکالتا ہے۔ کیا جمہوری حکومتیں صرف کرپشن کے لیے ہی رہ گئی ہیں۔؟

مولانا فضل الرحمن اب دونوں اپوزیشن پارٹیوں کو ملا کر حکومت گرانا چاہتے ہیں کیا ان لوگوں کو بھی اس طرح کے عوامی اور فلاحی کاموں کی سوچ کبھی آئی ہے؟ کبھی عوام کے مسائل پر بھی یہ سب، اپوزیشن والے اکٹھے ہوتے ہیں ؟۔ پھر مولانا انہی حکومتوں کے ساتھ بھی رہے ہیں۔ ایم کیوایم بھی کراچی کراچی کرتی ہے کیا اس شہرکے لیے یا صرف نکاسی آب کے لیے کبھی کوئی کارنامہ سرانجام دیا ہے؟ بلاول نے کبھی اپنے شہر کراچی کے یہ ندی نالے نہیں دیکھے؟۔ ہم ایک کام بڑی آسانی سے کرتے ہیں۔ اور وہ ہے تنقید ....ہم میں سے ہر شخص فوج کو گالی دے کر اپنے ”لبرل“ ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ ٹھیک ہے فوج سے بھی ”کوتاہیاں“ ہوسکتی ہیں مگر وطن عزیز میں کوئی بھی، ”معاملہ تنازعہ“ ہوتو سب سے پہلے فوج پر ہی تنقید ہوتی ہے۔ تنقید کی ، آزادی ضرور ہو مگر محض ریٹنگ لینے کے لیے ہمیں لوگوں میں انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ یہ شہروں کے مسائل حل کرنے کے لیے جو ادارے موجود ہیں انہیں منظم کیجئے۔ ہرشخص اپنے گلی محلے کی صفائی کے لیے اپنے حصے کا کردار ادا کرے۔ سب سے آسان کام تنقید ہے جو ظاہر ہے حکومت پر ہوتی ہے۔ نظام بہتر بنانے کے لیے ہمیں سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔ البتہ اس کے لیے ”صوبے دار“ یعنی ہرصوبے میں ایک تگڑاوزیراعلیٰ درکار ہے۔ عمران خان کو بھی تگڑے وزرائے اعلیٰ کی ضرورت ہے ورنہ : 

اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں 


ای پیپر