یو ٹرن کا مقابلہ
12 اگست 2018 2018-08-12

پی ٹی آئی ہی نہیں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) بھی۔ متوقع حکومتی پارٹی ہی نہیں، اپوزیشن بھی اس چھوت کی وبا کی لپٹ میں ہے۔ جس کو عرف عام میں یو ٹرن کہا جاتا ہے۔یہ بیماری موجود تو تھی لیکن دریافت چند سال پہلے ہوئی۔ گزشتہ عام انتخابات کے بعد دھرنوں کے دوران اس کا بیکٹیریا ڈی چوک میں دریافت ہوا۔ دھرنا ختم ہوا تو یہ بیماری منظر عام پر آئی۔اب یہ لا علاج مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ متوقع حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سخت ترین مقابلہ جاری ہے۔ کون زیادہ تیزی سے کتنے یوٹرن لیتا ہے۔ دیکھتے ہیں۔اس کلوز فائٹ میں جیت کس کی ہوتی ہے۔ قلمکار کی ذاتی رائے میں مقابلہ برابر ہی رہے گا۔
کل کی حکومت آج اپوزیشن میں ہے۔اور جو کل اپوزیشن میں تھے وہ آنے والے چند دنوں میں اقتدار کی رو پہلی سفید براق گھوڑوں سے کھینچی جانے والی شاہی سواری کے سوار ہوں گے۔ویسے جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں سارے فریق قانونی طور پر برابر ہیں۔ لیکن آغاز تو پی ٹی آئی سے ہی ہو گا۔ جس کے دعوے جتنے بلند۔ جس کا پیڈسٹل جتنا اونچا۔جو جتنا بڑھا میرٹ کا دعویدار ہو گا۔جو تبدیلی کا علم اٹھائے ہوئے ہو گا۔ اس کے ساتھ قلمی نیازمندی کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک قلم ہاتھ میں اور یہ فورم میسر ہے۔ وہ اپوزیشن ہو یا حکومت وقت۔وہ زیر عتاب ہو یا شاہ زماں۔پی ٹی آئی اور اس کے قائد یو ٹرن نامی اس وبائے ناگہانی کے پہلے مریض تھے۔ دھرنے کے دنوں کا ذکر ہر گز مقصودنہیں۔ بس یاد دہانی کیلئے عرض ہے۔ اس میں سول نافرمانی،ہنڈی کے ذریعے رقوم کی منتقلی، بجلی کے بلوں کی عدم عدائیگی کا حکم جا ری ہوا۔عمل در آمد البتہ نہ ہو ا۔ ایمپائر کی انگلی کھڑی ہونے کی تاریخیں دی جاتی رہیں۔ بتایا گیا کہ بس اگلے چند گھنٹوں میں وزیر اعظم سے ا ستعفیٰ لے لیا جائے گا۔وقت گزر گیا تو بتایا گیا کہ ایمپائر سے مراد خدائی فیصلہ تھا۔ایک روز قائد محترم نے حکم جاری کیا کہ تمام ممبران قومی اسمبلی مستعفی ہو جائیں۔ پانچ باغی فطرت ارکان کے سوا باقی سب نے تعمیل کی۔صاف شفاف با اصول پارٹی نے سات ماہ بعد حکومت کے ساتھ این آر او کیا۔ ثالثی اور سہولت کاری کا فریضہ جناب خورشید شاہ نے سر انجام دیا۔ اس دوران اپوزیشن کا کوئی انقلابی ممبر اپنے استعفیٰ کی تصدیق کرنے خود نہ آیا۔ پارلیمنٹ لاجز میں الاٹ شدہ رہائش گاہیں بھی تصرف میں رہیں۔ قائمہ کمیٹیوں کے چیئر مینوں کے پاس سرکاری گاڑیاں بھی رہیں۔ قبلہ گاہی اسد عمر تو حکومت وقت کا تختہ الٹانے بھی سرکاری گاڑی میں ہی آیا کرتے۔ بہر حال سات ماہ بعد استعفیٰ واپس ہوئے، تنخواہوں اور مرعات کے چیک وصول کیے۔ پہلی دفعہ یو ٹرن کی تختی نصب ہوئی۔ اس کے بعد کوئی شمار رہا نہ کوئی گنتی یا د رہی۔ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنا تو پٹیشن پنکچر کا الزام واپس لیا گیا۔ اْ ردو بازا ر سے بیلٹ پیپر ز کی چھپائی کا مدعا بھی حذف ہوا۔ ایک کے بعد ایک پسپائی۔ 10 ارب روپے کی آفر کا مقدمہ تو لاہور کی کسی عدالت کی فائل میں تو بہ کا طالب ہے۔ لیکن ابھی تک اس کی باری نہیں آئی۔ فی الحال زیادہ ضروری امور پر صاحبان انصاف کی توجہ ہے۔ لکھتے وقت واقعات کی بھر مار ہے۔ سب کی گنجائش ہے نہ تکرار کی ضرورت۔ پی ٹی آئی تاریخ سیا ست کی خوش قسمت ترین جماعت ہے جو لتھڑے ہوئے ہاتھوں کے باوجود کلین جماعت ہے اور انتخابی معرکے میں فاتح رہی۔ کوئی اور جماعت ہوتی تو تاریخ کے کوڑے دان میں پڑی ہوتی۔ لیکن جس کے سائیں ’’ڈاہڈے‘‘ہوں اس کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ جیسے جیسے الیکشن قریب آتے رہے اصولوں کی سیڑھی سے قدم بہ قدم واپسی کا سفر جاری رہا۔ پھر اک روز اعلان کر دیا گیا کہ پیارے انصافی بھائیوں مقصد الیکشن جیتنا ہے۔ کوئی جہاد نہیں کرنا۔لہٰذا وہ میرٹ وغیرہ بھول جائیں۔ لہٰذا جو ترجمان پی ٹی آئی کے کارکنوں کو جانوروں سے تشبیہ دیا کرتا تھا۔وہ بھی قافلہ انقلاب میں شامل ہوا۔ جس کو چپڑاسی رکھنے پر بھی تیار نہ تھے وہ مشیر خاص بن گیا۔ بلکہ دو ٹکٹ تھما دیے گئے۔ جس کے ساتھ ٹی وی پروگراموں میں آن سکرین جھگڑے ہوتے رہے وہ وکیل بن گیا۔ لوٹوں کو الیکٹ ایبل کہہ کے بند دروازے کھول دیئے گئے۔وہ پیپلز پارٹی، وہ زرداری جس کا نام سننا گوارہ نہ تھا۔اس کے ساتھ تاریخ کا عجیب وغریب اتحاد ہوا۔ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی نے سینیٹ کی چیئر مینی کیلئے مسلم کیگ (ن) کیخلاف اتحاد کیا۔ اکثریت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تھی۔ لیکن پی پی،پی ٹی آئی اتحاد نے عاطف سنجرانی کو منتخب کر دیا۔عوضا نے کے طور پر پی ٹی آئی نے سلیم مانڈوی والا کو ڈپٹی چیئر مین کی سیٹ کیلئے اپنے مقدس ووٹ پیش کیے۔دستان بہت طویل ہے۔ٹکٹوں کی تقسیم،پارٹی میں شمولیت، لوٹوں کی آمد پر تو اتنی تیزی تھی کہ خود یوٹرن بھی ٹرن ہو گیا ہو گا۔ وہ سب تو سیاست تھی۔ الیکشن لڑنا تھا۔ لہٰذا جی ڈی اے سے اتحاد بھی قبول۔ مسلم لیگ (ن) سے ایڈجسٹمنٹ کو بھی ویلکم۔لیکن الیکشن کے بعد تو ایسی گرمی بازار ہے۔رفتار اتنی تیز ہے کہ سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ پہلے ہی غیر رسمی خطاب میں حلقے کھولنے کا اعلان کیا گیا۔ این اے 131 کی سیٹ نکلتے نظر آئی تو وکیل صاحب دوڑتے ہوئے گئے،حکم امتنا زع کی درخواست کی۔ عدالت نے جو فیصلہ کیا وہ قانون کے مطابق تھا۔ لیکن بعد از الیکشن تیزی سے موڑ مڑ نے کے نئے دور کا آغاز ہو گیا۔ اب پرویز الٰہی سپیکر پنجاب اسمبلی ہو ں گے۔ وفاقی وزارتیں بھی ملیں گی۔ ایم کیو ایم شریک اقتدار ہے۔ بی اے پی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا ہوا ہے۔ وہ آزاد ارکان جن کے متعلق خطاب فرماتے ہوئے گلے کی رگیں تن جایا کرتی تھی ان کے سوا گت کیلئے جہاز بھیجنے پڑے۔جیت آزاد ارکان کی ہوئی۔ ہار کپتان کے نظریے کی۔سرکاری رہائش گاہ نہ لینے کا دعویٰ، آج کل منسٹر انکلیو میں سرکاری رہائش گاہ ڈھونڈ رہا ہے۔ آئی ایم ایف سے قرض لینے کیلئے کشکول مانجھاجا رہا ہے۔ سعودی بنک سے امداد پر مبارکبادیں وصول کی جا رہی ہیں۔ سرکاری اداروں کی یخ کاری کیلئے لسٹ تیار ہو رہی ہے۔ دباؤ کا یہ عالم ہے کہ کپتان نے جس کو کے پی کا چیف منسٹر بنانا چاہا اس کا نام واپس لینا پڑا۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے جس کا نام کپتان لیتا ہے نام سے پہلے کچا چٹھا سوشل میڈیا پر آجاتا ہے۔ابھی تو ابتداء عشق ہے۔ ابھی نہ جانے کتنے سمجھوتے، کتنے کمپرو مائز کرنے پڑینگے۔لیکن یو ٹرن کا معاملہ صرف متوقع حکومتی پارٹی پر ہی توموقوف نہیں۔ صاحبان اپوزیشن بھی کسی سے پیچھے نہیں۔
انتخابی دھاندلی کے متعلق الائنس بڑے دھوم دھڑکے سے بنا۔ آصف زرداری خاموش، بلاول زرداری مہربلب اور شہباز شریف زیر زمین ہیں۔ خورشید شاہ سپیکر شپ کے امیدوار ہیں۔لیکن منتظر ہیں کہ اتحادی ان کے لئے ووٹ مانگنے کب نکلتے ہیں۔ شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے امیدوارہیں۔لیکن ووٹ مانگنے سے گریزاں ہیں۔ دارالحکومت کی فضاؤں میں دو سالہ گریس پیریڈ کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ اس عرصہ میں اپو زیشن شریف بچے کا کردار ادا کرے گی۔ البتہ ہلکی پھلکی چاندماری کی اجازت ہو گی۔ حلف اٹھاتے ہی پہلے سو د ن کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو جائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ پہلے سو دنوں میں یو ٹرن کا مقابلہ حکومت جیتے گی یا اپوزیشن۔


ای پیپر