شروعات تو اچھی نہیں ہیں
12 اگست 2018 2018-08-12

تحریک انصاف کے چیئرمین اور ملک کے نئے متوقع وزیر اعظم نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی تقریر میں قوم سے بہت سارے وعدے کئے۔ اپنی اس تقریر میں انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ وہ ہر حلقہ کھولنے اور دھاندلی کی تحقیقات کے لئے تیار ہیں ۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ ’’آج سیاسی پارٹیاں دھاندلی کا الزام لگا رہی ہیں ۔ میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ موجودہ الیکشن کمیشن کی تشکیل دو بڑی سیاسی جماعتوں پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) نے کی تھی۔ یہ تحریک انصاف کا بنایا ہوا الیکشن کمیشن نہیں ہے۔ میں آج آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اگر یہ کہتے ہیں کہ کسی حلقے میں دھاندلی ہوتی ہے تو ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور مدد کریں گے کہ اسکی تحقیقات ہو‘‘۔
ابھی عمران خان کے الفاظ کی گونج باقی تھی کہ انہوں نے اپنا موقف تبدیل کر لیا۔جب ناکام امیدوار خواجہ سعد رفیق کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جناب جسٹس مامون الرشید نے حلقے میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کا حکم دیا تو اپنے وعدے کا پاس رکھنے کی بجائے انہوں نے فوراً سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور دوبارہ گنتی کے عمل کو رکوا دیا۔ عمران خان لاہور کے حلقے این اے 131 سے محض 676 ووٹوں کی برتری سے کامیاب ہوئے تھے۔ عمل وعدوں اور تقریروں سے اہم ہوتا ہے۔
مجھے نہ تو خواجہ سعد رفیق سے کوئی ہمدردی ہے اور نہ ہی ان سے کوئی تعلق ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی طرز سیاست کا ناقد ہونے کی وجہ سے میں ان کے رہنماؤں سے ذرا دور ہی رہتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں زندگی میں کبھی بھی ذاتی طور خواجہ سعد رفیق سے نہیں ملا۔ مگر یہاں معاملہ دو افراد کا نہیں ہے بلکہ اس اصولی موقف کا ہے جو عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں اپنایا تھا۔ خواجہ سعد رفیق کے وکیل نے سپریم کورٹ کے روبرو عمران خان کی تقریر کا حوالہ دیا اور گنتی جاری رکھنے کے حق میں دلائل دیئے۔
مگر سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے حکم کو معطل کر دیا جو کہ معزز اور قابل احترام سپریم کورٹ کا قانونی اور آئینی حق ہے۔ قابل احترام چیف جسٹس نے عمران خان کی تقریر کو سیاسی بیان قرار دیا۔
اب سوال یہ ہے کہ عمران خان اپنے حلقے میں گنتی کیوں نہیں ہونے دے رہے۔ اگر 25 جولائی 2018ء کے انتخابات ملکی تاریخ کے سب سے شفاف اور صاف انتخابات تھے تو انہیں دوبارہ گنتی پر اعتراض کیوں ہے؟ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور وکلاء کے پاس اس حوالے سے ہو سکتا ہے کہ بہت سارے دلائل اور منطق موجود ہو مگر یہ یقیناًاچھا آغاز اور شروعات نہیں ہیں ۔ ہمارے سیاستدان پتا نہیں کب اپنی کہی ہوئی باتوں پر کھڑا ہونا سیکھیں گے اور چھوٹے چھوٹے مفادات کے لئے اپنے اصول قربان کرتے رہیں گے۔ تبدیلی کے عملبرداروں اور روایتی سیاستدانوں میں کچھ تو فرق ہونا چاہئے۔
اسی طرح عمران خان اداروں کی مضبوطی اور تعمیر کا بہت ذکر کرتے ہیں اور اپنی تقریر میں بھی انہوں نے اداروں کو مضبوط کرنے کی بات کی۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی جماعت میں جمہوری ادارے بنانے اور ان کی تعمیر کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر خیبرپختونخوا اور پنجاب کے وزرائے اعلیٰ اور وزیروں کے فیصلے متعلقہ منتخب پارلیمانی پارٹیاں نہیں کر رہیں بلکہ بنی گالا میں عمران خان اور ان کی کچن کیبنٹ یہ فیصلے کر رہی ہے۔ عمران خان اس حوالے سے اسی سیاسی حاکمیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں جیسا کہ آصف زرداری اور شریف خاندان کرتے آئے ہیں ۔ عمران خان ان کے اس غیر جمہوری اور سیاسی آمرانہ طرز عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور دونوں جماعتوں کے لوگوں کو ذہنی سیاسی غلامی کے طعنے دیتے رہے ہیں مگر حکومت سازی کے اس سارے عمل میں وہ خود بھی یہی طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں ۔ سیاسی رہنما اور دیوتا میں فرق ہوتا ہے یہ فرق ہمیشہ برقرار رہنا چاہئے۔ عمران خان نے ہمیشہ آصف زرداری اور نواز شریف پر شاہانہ طرز عمل اور اپنی جماعتوں میں بادشاہت قائم کرنے پر تنقید کی اور اسے جمہوریت کے منافی قرار دیا۔ مگر ان کو خود کو ایسا طرز عمل اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ کوئی رہنما محض تقریروں اور باتوں کی وجہ سے دوسروں سے مختلف نہیں ہو سکتا جب تک اس کا عمل دوسروں سے مختلف نہ ہو۔
ہماری تمام بڑی سیاسی جماعتیں داخلی جمہوریت کے حوالے سے انتہائی کمزور ہیں ۔ سیاسی جماعتوں کے اندر باقاعدگی سے انتخابات نہیں ہوتے ، جماعتوں کے اندر موثر اور مضبوط ڈھانچے موجود نہیں ہیں ۔ انتخابی امیدواروں کے چناؤ میں نچلی سطح کی تنظیموں اور ڈھانچوں کا کوئی کردار نہیں ہے۔ جمہوری فیصلوں اور بحثوں کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ جماعتوں کے اندر قیادت کی جمہوری جوابدہی کا کوئی نظام نہیں نہیں ہے۔ دراصل قیادت خود کو ہی اصل پارٹی سمجھتی ہے۔ اسی طرح کا معاملہ حکومت سازی کے حوالے سے ہے۔ PTI کو اگرچہ 25 جولائی کے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل ہوئی تھیں مگر اسے مطلوبہ سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی۔ اسی لئے انہوں نے پرانے تعمیراتی سازوسامان سے ہی نیا پاکستان بنانے کا فیصلہ کیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ معاہدے کئے۔ پرانے پاکستان کی تمام علامتیں نئے پاکستان میں شامل ہیں ۔ ایم کیو ایم کے ساتھ سیاسی مفاہمت کی گئی۔ آزاد امیدواروں کے ساتھ وعدے و عید کئے گئے۔ مرکز اورپنجاب میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے وہ سب کچھ کیا گیا جو کہ پرانے پاکستان میں ہونا تھا۔ تحریک انصاف نے اکثریت حاصل کرنے کے لئے وہ سب کچھ کیا جو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کرتی رہی ہیں ۔ جہانگیر ترین کے ذاتی جہاز نے پورے ملک میں اڑان بھری اور آزاد امیدواروں اور چھوٹی جماعتوں کے رہنماؤں کو بنی گالا پہنچایا گیا۔ جہانگیر ترین کی جہاز یاترا نے چھانگا مانگا اور مری جیسے واقعات کی یاد تازہ کر دی۔ پنجاب اور مرکز میں بھی جب کبھی متحدہ حزب مخالف نے تحریک عدم اعتماد پیش کی تو آپ کو نئے پاکستان میں سے پرانے پاکستان کی سیاسی قباحتیں اور منفی روایات بنتی نظر آئیں گی۔


ای پیپر