داغدار الیکشن، داغ داغ اپوزیشن
12 اگست 2018 2018-08-12

حیرت ہے پی ٹی آئی کے سوا تمام سیاسی پارٹیوں نے انتخابات میں دھاندلیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دیدیا۔ اس رات پی ٹی آئی اقتدار کے موٹروے پر120میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگتی رہی اور صبح دم اقتدار کی پگڑی سرپر سجانے اسلام آباد پہنچ گئی جہاں سب انتظامات مکمل تھے۔ سندھ کو چھوڑ کر باقی تین صوبوں میں بھی اسی کی حکومت ہوگی۔ کتنے پاپڑ بیلے گئے؟ یہ مستقبل قریب یا بعید میں تاریخ کی کسی کتاب میں درج ہوگا۔ کتنے مہرے ادھر ادھر کرنے پڑے، تب کہیں چمن میں ’’ دیدہ ور‘‘ پیدا ہوا۔2018ء کے انتخابات اپنے پیچھے تلخیاں چھوڑ گئے۔2013 کے الیکشن میں تو صرف چار حلقوں میں دھاندلی کا الزام لگا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے126دن کا دھرنا دیا گیا۔126دن کے شوروغوغا کے باوجود دھاندلی کا الزام ثابت نہ ہو سکا۔ اسی دوران35پنکچرز کا شور بلند ہوا یہ بھی الزام ہی رہا ۔ قانونی نوٹس ملنے پر چپ سادھ لی گئی۔ سبھی پر دھاندلی کے الزامات شکوک و شبہات نے کیسے جنم لیا۔25جولائی کی رات9بجے کے بعد انتخابی نتائج اچانک رک گئے۔ اسی دوران سیاسی پارٹیوں نے شور مچایا کہ7بجے کے بعد انکے پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ اسٹیشنوں سے باہر نکال دیا گیا۔ سرکاری عملہ گنتی کرتا رہا۔ انہیں فارم45بھی نہیں دیا گیا۔ رات ایک بجے کے بعد سیکرٹری الیکشن کمیشن کہیں سے نمودار ہوئے اور کہا کہ آر ٹی ایس ( رزلٹ ٹرانس مشن سسٹم) بیٹھ گیا ہے۔ اسی وقت نادرا کی جانب سے جس نے یہ سسٹم فراہم کیا تھا اعلان کیا گیا کہ سسٹم بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے۔ اس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک کیس کی سماعت کے دوران تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تین بار چیف الیکشن کمشنر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر شاید وہ سو رہے تھے۔ ایک ماہر کی رائے میں الیکشن کمیشن کو دوسرا، تیسرا متبادل رکھنا چاہئے تھا۔ سب کچھ نہیں ہوا۔ ’’ گھوڑے بک گئے تھے اسلئے سو گئے‘‘ آر ٹی ایس کے معاملہ میں پتا نہیں کون سچ بول رہا ہے۔کمال ہے کہ پوری قوم انتخابی نتائج کے انتظار میں جاگ رہی تھی، جن کی ذمہ داری تھی وہ سورہے تھے۔ ایک سیانے نے کہا ’’ ذمہ داری پوری کرکے ہی سوئے ہونگے‘‘ شکوک توابھریں گے، سوالات تو ہوں گے۔ سپریم کورٹ میں سیکرٹری الیکشن کمیشن سے پوچھا گیا کہ آر ٹی ایس کریش ہوگیا تھا، بولے کریش نہیں ہوا سست ہوگیا تھا۔ یعنی ادھیڑ عمر آرٹی ایس کھڑے ہونے کے قابل نہ رہا بیٹھ گیا۔ لیکن اسکے بیٹھنے پر تمام سیاسی جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔21ارب خرچ کرکے بھی نتائج متنازع اور غیر تسلی بخش۔ ن لیگ کا کہنا تھا38حلقوں میں دھاندلی کے ثبوت مل گئے۔ مہر لگے بیلٹ پیر کراچی اور پشاور کے نالوں اور کچرا کنڈیوں میں پائے گئے۔ خیر گزری کہ تحریک انصاف دھڑا دھڑ کامیاب ہوتی چلی گئی۔ آر ٹی ایس نے بیٹھتے بیٹھتے پی ٹی آئی کی کامیابی کے ڈنکے بجا دیئے۔ خدانخواستہ اگر ن لیگ برے دور سے نہ گزر رہی ہوتی اور پنجاب میں جیت جاتی تو وہ غدر مچتا کہ الامان والحفیظ ، دنیا دیکھتی مقتدر قوتیں دکھ محسوس کرتیں اور شائد کوئی صاحب دل انگلی بھی کھڑی کر دیتا۔ اچھا ہی ہوا پی ٹی آئی آگئی۔ آئی آئی پی ٹی آئی کے نعرے کامیاب رہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہنگ پارلیمنٹ سے مزہ کرکرا ہوگیا۔ اپوزیشن کی ساری بڑی پارٹیاں ( کبھی ہوا کرتی تھیں) یکجا ہو گئیں۔ ون پوائنٹ ایجنڈے پر متحد لیکن دلوں میں میل، فاصلے برقرار ، اوپر والے سب سمجھتے ہیں۔126دن کے دھرنے والوں کو پارلیمنٹ ہاؤس تک آنے کیلئے کتنی آسانی سے پروانہ راہداری مل گیاتھا، چائے پانی کے انتظامات کئے گئے تھے۔ اپنے چوہدری نثار نے دل کھول کر دوستی کا اظہار کیا تھا لیکن اب اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا تو اجازت نہ ملی۔ خار دار تاریں، کنٹینرزکے راستے بند کر دئے گئے۔ لیکن شاہراہ دستور پر ’’ گریبانوں‘‘ کے ڈھیر نہ لگ سکے۔ نگرانوں نے دیوانوں کو الیکشن کی عمارت تک پہنچنے ہی نہ دیا۔
کامیاب ہو گئے تو آجانا ابھی گھروں یا جیلوں میں آرام کرو، جلدی کیا ہے۔ اپوزیشن والے شاہراہ دستور پر نعرے بازی کا شوق پورا کرکے چلے آئے، نعروں پر بھی اعتراض، دہشتگردی کے مقدمات قائم، اپوزیشن احتجاج میں سنجیدہ نہیں، سنجیدہ ہوتی تو440گرنیڈ ٹوٹل کے ساتھ ’’ نتھ‘‘ ڈال دیتی۔ ایک طرف دھاندلی دھاندلی کا شور دوسری طرف جمہوریت کے استحکام کیلئے پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ۔ گونگلو وں پر سے مٹی جھاڑی جارہی ہے۔ پہلے دن احتجاج کرنے نکلے، کارکن پہنچ گئے، لیڈر غائب، شہباز شریف نے خراب موسم کا بہانہ بنایا، زرداری ’’ اچھے موسم‘‘ کو خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ گزشتہ5سال حبس اور تپش کا مقابلہ کرتے رہے۔ ٹھنڈی پھوار پڑنے کی آس امید لگی ہے تو درجہ حرارت میں اضافہ کیوں کریں۔ بلاول فرماں بردار بیٹا ابا کی اجازت کے بغیر کیوں شرکت کرتا۔ اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی۔ مولانا فضل الرحمان والے اداروں کی شان میں ’’ گستاخیاں‘‘ کر رہے تھے۔ بلاول نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ گستاخیاں‘‘ کرنے والوں کا انجام دیکھ چکے۔ نانا قربان ہوگئے، انکل نواز شریف مریم کے ساتھ جیل میں پڑے ہیں۔ مولانا کے ساتھ کیسے کھڑے ہوتے۔ داغ داغ اپوزیشن کے فلاپ مظاہروں سے ذمہ داروں کے کانوں پر جوں نہ رینگی۔ اگر اسی قسم کا احتجاج کرنا تھا تو بہتر ہوتا عمران خان کی حمایت کرکے دو چار وزارتیں ہتھیا لیتے۔ چوہدری پرویز الٰہی کچھ پلے نہ ہونے کے باوجود پنجاب اسمبلی کے سپیکر نامزد ہوگئے۔ زبردست پلے کرینگے۔ جمہوریت کا تحفظ یوں بھی ہوسکتا تھا۔ اپوزیشن کی جانب سے’’ عمران کھپے کھپے‘‘ کا نعرہ بلند ہوجاتا تو ٹارگٹ پورا کرنے میں آسانی ہو جاتی۔ اسکے باوجود یقین دہانی کرائی گئی کہ اطمینان اور دلجمعی سے کام
کرو۔ کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اللہ نجومیوں کو ہدایت دے۔ الیکشن ہوگئے انکے برج اور ستارے ہی قابو میں نہیں آرہے۔ الیکشن سے پہلے خطرناک نتائج کی نشاندہی کر رہے تھے الیکشن کے بعد10سالہ اقتدار کی نوید سنانے لگے ہیں۔ نجومی جھوٹے موکل فراڈ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ وقت کے پردوں سے کیا رونما ہونے والا ہے۔ نعرے لگ رہے ہیں کہ ایک مہذب معاشرے کی بنیاد رکھنے کا وقت آگیا ہے۔ کیا واقعی؟ مدینہ جیسی ریاست قائم ہوگی؟ جب بہت کچھ کیا جائیگا، دوسروں کی طرح ایک حساس شاعر خورشید عالم کو بھی جانے کیوں یقین نہیں آرہا۔ انکا کہنا تھاکہ
خبر سچی نہیں لگتی نئے موسم کے آنے کی
مری بستی میں قائم ہے ہوا پچھلے زمانے کی
چہچہانے والے سارے پرندے پرانے ہیں۔ ان ہی راستوں پر چل کر گلے آن ملے ہیں یا گلے آن پڑے ہیں۔ آزاد پرندوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جو موسم بدلتے ہی اڑان بھر کر دور فضاؤں میں گم ہو جائیں گے، پھر کیا ہوگا؟ اللہ ہی جانے


ای پیپر