قیام پاکستان اورمرحوم مجید نظامی
12 اگست 2018 2018-08-12

پاکستانی قوم کی طرف سے گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی چودہ اگست بھرپور انداز میں منانے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔ یہ ملک طویل جدوجہد اور لاکھوں شہداء کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ان قربانیوں کو یاد رکھنے اور وطن عزیز پاکستان کے دفاع کا پختہ عزم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم قربانیوں کے اِ ن واقعات کو جس قدر دھرائیں گے قیام پاکستان کے مقاصد کو اتنا ہی زیادہ سمجھیں گے۔ جب ہم قیام پاکستان کے مقاصد کو سمجھ گئے تو کشمیر سمیت وطن عزیز پاکستان کو درپیش تمام مسائل حل ہو جائیں گے ۔ اس سے ہمارا ملک ناقابل تسخیر ہو گااور دشمنان اسلام کی سازشیں ناکام ہوں گی۔ قیام پاکستان کے موقع پر دی گئی قربانیاں قصے کہانیاں نہیں ہیں بلکہ یہ وہ حقائق ہیں کہ انہیں بھولناقومی تشخص کو بھلا دینے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تحریک آزادی عروج پر تھی تو انگریز اور ہندو پاکستان کے سخت دشمن تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ مسلمان الگ وطن حاصل نہ کرسکیں اور وہ ہمیشہ ان کے غلام بن کر رہیں تاہم جب مسلمانوں کی بے پناہ قربانیوں کے نتیجہ میں یہ ملک حاصل کر لیا گیاتومسلمانوں کے قتل عام کی تیاریاں کی جانے لگیں۔ ہندوریاستوں کی اسلحہ ساز فیکٹریوں میں تقسیم ہند سے کئی ماہ قبل ہی تیزی سے اسلحہ بنانے کا عمل زور پکڑ گیا تھا۔یوں انگریز حکومت کی سرپرستی میں بھارتی فوج، پولیس اور لاکھوں کی تعداد میں ہندوانتہاپسند تنظیموں سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں نے نہتے مسلمانوں کا قتل عام اور وحشیانہ ظلم و بربریت کا کھیل کھیلا جبکہ دوسری جانب مسلمانوں کو پہلے ہی غیر مسلح کر دیا گیا تھا تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکیں۔مسلمانوں کا اس قدر وسیع پیمانے پر قتل عام کیا گیا کہ تاریخ انسانی میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ ہر طرف مسلمانوں کی لاشیں اور کٹے پھٹے اعضا بکھرے نظر آتے تھے۔ عفت مآب ماؤں، بہنوں او ربیٹیوں کی عصمت دری کی گئی‘ جن پاکباز بیٹیوں کو کبھی سورج کی کرنوں نے نہیں دیکھا تھا ان کی کٹی پھٹی لاشیں ندی نالوں میں بہتی دکھائی دیتی تھیں۔دیہاتوں کے دیہات اوربے شمار بستیاں ویران ہو گئیں۔ معصوم بچوں کو نیزوں اور تلواروں سے چھلنی کر کے لکھا گیا کہ ’’ یہ ہے مسلمانوں کا پاکستان ‘‘۔اس دوران ماؤں کے سامنے ان کے بچوں کو ذبح کیا گیااور پھر انہیں اپنے ہی بچوں کا خون پینے پر مجبور کیا گیا۔ بہت بڑی تعداد میں عفت مآب مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ایسی تھیں جنہوں اپنی عزتیں بچانے کیلئے دریاؤں میں چھلانگیں لگا دیں۔ اس طرح کے ہزاروں واقعات ہیں جنہیں قلم تحریر میں لانے سے قاصر ہے۔

مسلمانوں اور ہندوؤں کا تنازع اس بات پر تھا کہ برصغیر کے مسلمان ایک ایسا وطن چاہتے تھے جس کی بنیاد اسلام پر ہو اور مسلمان آزادانہ طور پر عبادات کا فریضہ سرانجام دے سکیں۔ ہندو بنیادی طور پر کم ظرف اور تنگ نظر ہے۔ اس کی فطرت میں تنگ نظری، خودغرضی اور احسان فراموشی شامل ہے۔ اسی طرح انگریز تاجروں کے روپ میں مسلمانوں کی دشمنی کے جذبات لیکر اس خطہ میں آئے اور پھر قابض ہو گئے۔ انگریز کے جانے کے بعد ہندوؤں کے عزائم مسلمانوں سے متعلق اچھے نہیں تھے۔ وہ کسی طور ان کا وجود برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس کی مسلم دشمن پالیسیوں کے نتیجہ میں قیام پاکستان کے مطالبہ نے زور پکڑااور کانگریس او رہندو کے تعصب و عداوت نے مسلمانوں کو بیدار و ہوشیار کر دیا۔انہیں معلوم ہو گیاکہ اگر انہوں نے اتحادویکجہتی کا مظاہرہ نہ کیا تو ان کا دین، عزت و آبرو اور مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔اس سوچ و فکر کی بنیاد پر مسلمان قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کی قیادت میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونے لگے۔ علامہ اقبال کے 1930میں دیے گئے خطبہ الہ آباد نے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی اور 23مارچ 1940 ء کو لاہور میں ہونے والے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس نے علیحدہ وطن مملکت اسلامیہ پاکستان کی صورت میں ان کی منزل متعین کردی ۔اگرچہ اس وقت مسلمان کمزور اور بکھرے ہوئے تھے لیکن لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر مسلمان باہم متحد ہوئے اور ناقابل تسخیر قوت بن گئے۔ یوں بالآخر 27رمضان (14اگست 1947)کا دن آن پہنچا اور وطن عزیز پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ آج71برس بعد ایک مرتبہ پھر یہ دن بھرپور جوش و جذبہ سے منایا جارہا ہے تو دو قومی نظریہ کے تحفظ کیلئے بے پناہ قربانیاں پیش کرنے والے محترم مجید نظامی بہت یاد آئے۔ نظریہ پاکستان کے جرنیل اور ہر مشکل وقت میں حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والے مجید نظامی ہر سال چودہ اگست کو پروقار تقریب کا انعقاد کیاکرتے تھے جس کے ذریعہ وہ اہل پاکستان کو دنیا کی سب سے بڑی نعمت آزادی کی قدر کرنے کا سبق دیتے اور آنکھوں دیکھے واقعات بیان کر کے انہیں مکارہندوبنئے کا اصل چہرہ دکھاتے۔چند برس قبل ایوان کارکنان پاکستان لاہور میں ایک ایسی ہی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں محترم مجید نظامی نے جو خطاب کیا وہ آج بھی ہمارے لئے انتہائی سبق آمیز ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے یوم آزادی کی مناسبت سے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایاکہ میرے ایک کلاس فیلو عبدالمالک ہوا کرتے تھے۔ ہم لوگ ایک دن جلوس لے کر موجودہ ایم اے اوکالج کے قریب پہنچے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے کہ اتنے میں دوسری طرف سے اینٹیں برسنا شروع ہو گئیں ہم نے بھی جواباً اینٹیں پھینکیں۔اسی دوران ایک اینٹ آکر عبدالمالک کو لگی اور وہ لہولہان ہو کر گر پڑے اور اللہ تعالیٰ کو پیارے ہو گئے۔ یہ اینٹ مجھے بھی لگ سکتی تھی اور میں بھی شہید ہو سکتا تھا لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں شہادت سے محروم رہا۔ مجید نظامی نے نوائے وقت کے کردار اور مشن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ مجھے میاں نوازشریف نے پاکستان کا صدر بننے کی آفر کی اورمحمد خان جونیجو نے مجھے گورنر پنجاب لگانے کی کوشش کی مگر میں نے معذرت کر لی۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے مجلس شوریٰ بنائی تو مجھے بھی اس میں شامل ہونے کو کہا لیکن میں نے انکارکر دیا۔اسی طرح اور بھی کئی ایسے واقعات انہوں نے بیان کئے جو ہماری نوجوان نسل کے لئے یقینی طور پر مشعل راہ ہیں۔ مجید نظامی کی تقریر ہمیشہ سبق آموز اور جرأت و استقامت کا درس دینے والی ہواکرتی تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم دیا ہے اور قرآن کی زبان میں ہمارے میزائل اور ایٹم بم ہمارے آج کے گھوڑے ہیں۔ ہمیں انہیں ہر وقت تیار ی کی حالت میں رکھنا ہو گا۔ ہم نے اقلیت میں ہوتے ہوئے بھی ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے اس لئے یہ بات طے شدہ ہے کہ مسلمان کبھی ہندو بنئے کے غلام بن کر نہیں رہ سکتے۔مسئلہ کشمیر کی وجہ سے محترم مجید نظامی کا مرد مجاہد پروفیسر حافظ محمد سعید سے بھی بہت گہرا دوستانہ تھا۔ وہ مسلمانوں کو باہم اتحادویکجہتی کا درس دیا کرتے تھے۔ آج ہمیں ان کی نصیحت آموز باتوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ ہمیں مظلوم کشمیریوں کو بھی تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ آزادی کشمیر کے بغیر پاکستان کی تکمیل کا خواب ادھورا ہے۔ پاکستان میں نئی حکومت بننے جارہی ہے۔ پاکستان کے متوقع وزیر اعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بات کی اور حال ہی میں انڈین ہائی کمشنر سے ملاقات میں بھی مسئلہ کشمیر اٹھایا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیریوں کی نسل کشی کے معاملہ کو دنیا بھر میں اجاگر کیا جائے ۔کشمیری قوم کا اعتمادبھی ہر صورتحال بحال کرنا چاہیے۔جنت ارضی کشمیر کی آزادی سے ہی مظلوم کشمیریوں کو غاصب بھارت کے پنجہ استبداد سے نجات ملے گی‘ پاکستان خوشحالی کے سفر پر گامزن ہو گااور وطن عزیز میں پانی و بجلی کی کمی کے مسائل بھی حل ہو سکیں گے۔


ای پیپر