خدارا نظام کو ڈی ریل نہ کرو
12 اگست 2018 2018-08-12

باخبر حلقوں سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ نیب کی جانب سے دبئی لیکس جاری ہونے کا امکان ہے جس میں پاکستانیوں کی دبئی میں موجود 10 کھرب روپے سے زائد مالیت کی جائیدادوں کا انکشاف کیا جائے گا۔ انسداِد بدعنوانی کے ادارے کی شکایت موصول ہونے پر نیب کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں پاکستانیوں کی دبئی میں موجود جائیدادیں افشا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ درخواست گزار کے مطابق 7 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کی متحدہ عرب امارات میں 10 کھرب روپے سے زیادہ مالیت کی جائیدادیں ہیں جس میں سابق اعلیٰ فوجی افسر، سیاستدان، سرکاری عہدیدار، میڈیا ہاؤسز کے مالکان اور صحافی شامل ہیں اس حوالے سے میڈیا میں گردش کرتی اطلاعات کے مطابق ’دبئی لیکس‘ نامی فہرست متحدہ عرب امارات کے حکام نے 2015 ء میں پاکستان کو فراہم کی تھی تاہم سابق حکومت نے ملکی دولت واپس لانے اور آف شور اثاثوں کے مالکان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لانے کیلئے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اس لیے کہ وہ خود آفشور کمپنیوں کے مالک تھے اور دگئی میں منی لانڈرنکگ کے لے انہوں نے ایک کمپنی قائم کر رکھی تھی۔ یہ امر عوامی حلقوں کے مسرت اور اطمینان کا باعث ہے کہ نیب دبئی میں موجود پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق مزید تفصیلات حاصل کرنے کیلئے دفتر خارجہ سے مدد لے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیب باہمی قانونی تعاون کے معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات کے حکام سے بھی خلیجی ممالک میں پاکستانیوں کی جائیداوں کی معلومات حاصل کرنے میں مدد لے سکتا ہے۔واضح رہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اس سے قبل متعدد مرتبہ دبئی کی حکومت سے ریئل سٹیٹ میں پاکستانیوں کی سرمایہ کاری سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی درخواست کرچکی ہے تاہم دبئی انتظامیہ یہ معلومات فراہم کرنے سے گریزاں ہے، بظاہر اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے دبئی حکومت سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نہیں کھونا چاہتی۔دوسری جانب ایمنسٹی سکیم کی مدت پوری ہونے پر ایف بی آر بھی ایکشن میں آ چکا ہے ۔ پہلے مرحلہ میں دبئی اور برطانیہ میں جائیدادیں رکھنے والے افراد کو نوٹسز بھیجوائے جا چکے ہیں ۔ نیب یقیناًیہ ایک بڑا کام کر رہا ہے ۔نیب چیئرمین کے مطابق اب نیب میں چہرے نہیں، کیس دیکھے جاتے ہیں۔
سب جانتے ہیں کہ او ای سی ڈی معاہدہ کے تحت ایف بی آر کو ملنے والی معلومات کے مطابق تقریباً700 ایسے افراد کی نشاندہی ہوئی ہے جنہوں نے ایمنٹسی سکیم میں اپنی جائیدادیں ظاہر نہیں کیں لیکن وہ ان جائیدادوں کے مالک ہیں اور ان کو کرایہ یا دوسری آمدن ہو رہی ہے۔ حقائق سے آگاہ پاکستان کا ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ ایف بی آر نے برطانیہ میں جائیداد رکھنے والے 250 اور دبئی میں جائیداد کے مالک 450 پاکستانی شہریوں کو نوٹس بھجوائے ہیں۔ یہ نوٹس ایف بی آر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی ونگ کی جانب سے بھجوائے گئے ہیں جس میں برطانیہ اور دبئی میں خریدی گئی جائیدادوں کے لیے سرمائے کا ذریعہ پوچھا گیا ہے۔ ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد کی جائیدادوں کی معلومات او ای سی ڈی کے پائلٹ پراجیکٹ کے تحت حاصل ہوئیں، اس معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد یکم ستمبر سے ہوگا، معاہدے کے تحت 101 رکن ممالک معلومات کے تبادلے کے پابند ہوجائیں گے۔ امید ہے کہ نئے وزیر اعظم جناب عمران خان کے حلف اٹھانے کے صرف 14دن بعد ایف بی آر بیرون ملک اکا ؤنٹس اور جائیدادیں رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کرے گا۔ عوامی خواہش ہے کہ یہ فول پروف اور نتیجہ خیز کریک ڈاؤن ہو اور 10کھرب روپے سے زیادہ مالیت کی جائیدادیں فروخت کرکے ان کا سرمایہ قومی خزانے میں جمع کرایا جائے ۔
آپ کو یہ جان کر مزید خوشی ہوگی کہ تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری اس عزم کا اظہار کرچکے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت قومی خزانہ لوٹنے والے تمام مگر مچھوں کو احتساب کے آہنی جال کی مضبوط گرفت میں لانے کے بھرپور کوشش کرے گی۔ میں امید رکھتا ہوں کہ پی ٹی آئی کے ترجمان جناب فواد چوہدری کا یہ بیان محض زبانی جمع خرچ تک محدود نہیں رہے گا۔وہ محض ریت میں ہل نہیں چلائیں گے۔ صد شکر پاکستان میں پہلی مرتبہ ایسی حکومت قائم ہوئی ہے ، جس نے پرانے دقیانوسی جدی پشتی موروثی سیاست کے ایوانوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور اس کی بساط مکمل طور پر لپیٹ دی ہے۔ پرانا فرسودہ پولیٹیکل آرڈر ٹوٹ چکا ہے۔ ضیاء دور میں جنم لینے والی دو بڑی سیاسی جماعتیں (ن) لیگ اور ایم کیو ایم عالم نزع میں ہیں۔ عالم یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے دور میں پاکستانی قرضے 95 ارب ڈالر سے بڑھ گئے جبکہ قیام پاکستان سے مارچ 2008ء تک 6 عشروں میں پاکستان کل 35 ارب ڈالر کا مقروض تھا، ان دونوں جماعتوں کے 10 برسوں میں60 ارب ڈالر قرضہ لیا گیا۔ اس کا نتیجہ ہے کہ آج پیداہونے والا ہر بچہ جب زندگی کی پہلی سانس لیتا ہے تو اس کا وجود ایک لاکھ 90 ہزا روپے کے قرض میں لپٹا ہوتا ہے۔عالم یہ ہے کہ ن لیگ کی ناقص معاشی منصوبہ بندیوں کے نتیجے میں گزشتہ تین ماہ سے ماہانہ دو ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا کر رہا ہے جبکہ گردشی قرضے 680 ارب تک پہنچ چکے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر ناگفتہ بہ حد تک کم ہو چکے ہیں۔ بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ (ن) لیگ کی حکومت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے عوام کو اعداد و شمار کے خوشنما گورکھ دھندے میں الجھائے رکھا جبکہ پاکستان کی داخلی معیشت مکمل طور پر تباہی کے دہانے پر پہنچا دی گئی ۔ ہر طرف کرپشن کا بازار گرم تھا۔ میگاپراجیکٹس کی آڑ میں انڈر دی ٹیبل ڈیل کر کے کک بیکس اور رشوت وصول کی جا رہی تھی۔ آشیانہ ہاؤسنگ سکیم میں کروڑوں کی خورد برد کی گئی۔ عوام کے 80 کروڑ روپے ہضم کر لیے گئے۔ 56 کمپنیاں بنا کر پنجاب حکومت نے اپنے نا اہل چہیتوں کو لوٹ مار کے لیے فری لائسنس دے دیا اور ان کمیٹیوں کے عہدیداران دو لاکھ، پانچ لاکھ،آٹھ لاکھ اور پندرہ لاکھ روپے ماہانہ تنخواہیں بٹورتے رہے جس کے وہ ہرگز حقدار نہیں تھے۔ کرپشن کے اکثر ریکارڈ جلا دیئے گئے۔ لاہور میٹرو بس کا ریکارڈ بھی دستیاب نہیں۔ میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ ایسی کرپشن اگر یورپ کے کسی ملک میں ہوتی تو اس کے حکمران اور ذمہ داران اب تک قرار واقعی سزا پا کر انجام کو پہنچ چکے ہوتے لیکن وہ یہاں سیاست اور دھاندلی دھاندلی کھیل رہے ہیں۔ آمدن سے زائد طرز زندگی رکھنے والے (ن) لیگ کے حکمران اور ان کے وزراء پر جب بھی ہاتھ ڈالا گیا وہ خطرناک بیماریوں کا بہانہ بنا کر بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کرتے رہے۔ سابق وزیر خزانہ جس نے پاکستان کے سرکاری اور قومی خزانے پر وہ ڈینٹ ڈالے ہیں کہ ان کی ڈینٹنگ پینٹنگ کے لیے پی ٹی آئی کی حکومت کو ایک سال تک زبردست معاشی منصوبہ بندی کرنا ہو گی اور کرپشن میں ملوث ان حکمرانوں کے راز دار سول بیورو کریٹس کو احد چیمہ اور فواد حسن فواد کی طرح احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہو گا۔ عوام امید رکھتے ہیں کہ نئے پاکستان میں کسی کو بھی قومی خزانے پر شب خون مارنے کی جرأت نہ ہو گی اور پی ٹی آئی پانچ سال میں داخلی معیشت کو اتنا مضبوط کر لے گی کہ اپنے انتخابی منشور کے مطابق بیروز گار تعلیم یافتہ اور ہنر مند جوانوں کو نوکریاں اور بے گھر غریب شہریوں کو 50 لاکھ گھر دینے کے وعدے کو پورا کر سکے گی۔ عوام کو یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت ایون فیلڈ فلیٹس کا معا ملہ برطانوی حکومت کے ساتھ اٹھانے کے لیے پر عزم ہے اور اس کا نقطہ نظر ہے کہ یہ فلیٹس قومی خزانہ لوٹ کر بنائے گئے ہیں اور اگلے چند برسوں میں یہ فلیٹس حکومت پاکستان کی ملکیت ہوں گے۔ جہاں تک دھاندلی کا شور و غل مچانے والے عوامی تائید سے محروم سیاستدانوں کا تعلق ہے تو ان کے بارے فواد چوہدری نے درست کہا ہے کہ وہ ایک کلو گوشت کے لیے پوری بھینس ذبح کرنا چاہتے ہیں۔ خدارا نظام کو ڈی ریل نہ کرو ۔


ای پیپر