امید کی نئی کرنیں
12 اگست 2018 2018-08-12

بھارت کے مقبول ترین نیوز اینکرز اور ٹاک شوز کے میزبانوں میں سے ایک شخص ارناب گوسوامی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اتوار کی صبح مختلف ٹی وی چینلز کو دیکھتے ہوئے انڈیا کے معروف ٹی وی چینل ’’انڈیا نیوز ٹوڈے‘‘ پر ایک مباحثہ دیکھنے میں آیا ،بین الاقوامی شہرت کے حامل بھارتی چینل پر ارناب گوسوامی دو مسلمان رہنماؤں اور ہندو قومیت پرستوں کے ساتھ براہِ راست شریک تھا۔ موضوعِ بحث یہ تھا کہ سکولوں اور سرکاری اداروں میں ’’بندے ماترم‘‘ پڑھنے پر مسلمان معترض کیوں ہیں۔ان میں سے ایک مسلمان رہنما وضاحت کر رہا تھا کہ بندے ماترم میں کچھ ایسے الفاظ بھی شامل ہیں جنہیں پڑھتے ہوئے سجدہ کی حالت میں جھکنا پڑتا ہے جو اسلام کی رو سے شرک ہے۔ اچانک تمام ناظرین اور ہندو مہمان طیش میں آکر مسلمان شرکاء کی توہین پر اتر آئے اور نا پسندیدہ کلمات ادا کرنے لگے۔ ٹی وی شو کے میزبان نے جلتی پر تیل کا کام کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر مسلمان بندے ماترم کا احترام نہیں کر سکتے تو انہیں ہندوستان چھوڑ دینا چاہیے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت کو پھر بھی یہ یقین ہے کہ دنیا اس کو سیکولر سماجی ریاست تسلیم کرتی ہے۔ جبکہ در حقیقت 70سال میں بھی اس حوالے سے کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ مذہبی ، سماجی اور عقیدوں کی تقسیم آج تک برِ صغیر کو متاثر کر رہی ہے۔پیسے اور زہریلی رقابت کا رقص آج تک جاری ہے۔ یہی وہ سخت اور پریشان کن رویے ہیں جنہوں نے اکھنڈ بھارت میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے باہمی احترام اور ملکیت کے جذبے کے تحت ساتھ مل کر رہنے کے خواب کو برباد کر دیا ہے۔ اس کے بر عکس پاکستان اس قسم کے رویوں کا کل بھی جواب تھا اور آج بھی ہے۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح اور ان کے ساتھیوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ناصرف مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے بلکہ ساتھ ساتھ ان لوگوں کے حقوق کی بھی پاسداری کریں گے جو مستقبل میں اس ملک سے وابستہ دیگر عقائد کے لوگ ہوں گے۔
نئے پاکستان کے تصور کے ساتھ تحریکِ انصاف کی جیت نے قائدِ اعظم کے امید اور بحالی کے خواب کو شرمندہ ءِ تعبیر کر دیا ہے۔ قائدِ اعظم نے اپنی بہت سے تقاریر میں بار ہا پاکستان کو مسلمان فلاحی ریاست بنانے کا حوالہ دیا ۔ ایک ایسا ملک جس کی نظریاتی بنیاد قرآن و سنت پر مبنی ہو گی اور جو بہترین جمہوری اور انتظامی صلاحیتوں کا حامل ہو گا۔ عمران خان نے 2018کے انتخابات میں تحریکِ انصاف کی فتح کے بعد اپنے خطاب میں پاکستان کو مدینہ کی ریاست کی طرز پر آپ ﷺ کے اسوہءِ حسنہ کے مطابق اور قائدِ اعظم محمد علی جناح کی خواہشات کی روشنی میں خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنانے کا عہد کیا ۔ پوری قوم انتہائی پر مُسرت اور پر اُمید ہے۔ بالآخر تبدیلی سامنے نظر آ رہی ہے۔ اسلام آباد کی ہوائیں اصلاحات اور بحالی کے نمونے کی نوید سنا رہی ہیں۔ ایم پی ایز اور ایم این ایز کا کردار قابلِ قدر ہونے جا رہا ہے۔ عمران خان نے بائیس سال تک وزیرِ اعظم بننے کا خواب دیکھا ۔ تاریخ اس قابلِ قدر کامیابی کی گواہی دے گی۔ ہر پاکستانی کو عمران خان کو کھلے دل سے خوش آمدید کہنا چاہنے اور اس کے بہتر مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنا چاہیے تا کہ وہ اپنے حقیقی ارادوں کو قابلِ عمل حقیقت میں بدل سکے ۔ وہ اس ملک کے غریب لوگوں کو ان کی بڑی ضروریات کے حصول کی طرف بڑھا سکنے کے لیے مسلسل کوشش کر سکتا ہے۔ اللہ کرے وہ ایک ایسے رہنما کے طور پر سامنے آئے جس کا ہم سب کو جانے کب سے انتظار تھا۔آمین
تاریخی نقطہءِ نظر سے دیکھا جائے تو پاکستان میں صرف ایک ایسا قومی رہنما تھا جو بین الاقوامی قدو قامت کا حامل تھا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان جیسے عظیم رہنماؤں کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ٹریجک ہیروز کی طرح اعلیٰ تعلیم یافتہ، ہر دلعزیز اور لائق رہنما تھا۔جو ارسطو کی بوطیقا جیسا، پاکستان کے لیے انتہائی مخلص رہنما تھا۔ لیکن اس نے انتہائی دردناک انجام کا سامنا کیا۔ اس کا کام اور نقطہءِ نظر ادھورا رہ گیاوہ سپر پاور کی سازشوں کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا پہنچا۔ فوجی ڈکٹیٹرز کو قومی رہنماؤں کے طور پر جانچنا بے معنی ہے کیونکہ وہ بطور وزیرِ اعظم یا صد ر قانونی کردار ادا کرنے سے ہمیشہ قاصر رہے۔ تاہم نواز شریف جیسے حکمران جمہوریت کی راکھ سے اُٹھے، وہ ان کرشماتی خصوصیات کے حامل نہ تھے جو ایک رہنما میں ہونی چاہئیں، جو ایک جہاز کے کپتان کی طرح ملک کو آگے لے جا سکیں البتہ کچھ سیاستدان انتخابی عمل میں جوڑ توڑ کے ماہر ضرور ہوتے ہیں۔ عمران خان کی تقریر سننے کے بعد ہر کسی کو ایسی قابل ،معزز اور ممتاز قیادت کی توقع پیدا ہو گئی ہے جو اس سے پیشتر ہمیں دستیاب نہیں تھی ۔
اپنی افتتاحی تقریر میں عمران خان نے پاکستان کے لیے اپنے نظریات کے خدو خال واضح کر دیے ۔ بہت سے لوگ اس تقریر کی تفصیلات جاننے کے لیے آنے والے دنوں کے منتظر ہیں۔ حالانکہ یہ بہت ضروری ہے کہ بہتری کی خواہش کے تحت مثبت سوچ اپنائی جائے۔ تحریکِ انصاف نے اپنی حکومت کے پہلے 100دن کی منصوبہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ جبکہ ٹیکس سسٹم اور قومی احتساب بیورو کے نظام کی اصلاح اور انہیں با اختیار بنانے کے لیے تفصیلی ایجنڈا بھی متعارف کروایا جا چکا ہے۔ پی ٹی آئی کی ٹیم اس حوالے سے پر عزم ہے کہ بد عنوانی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جاسکتااور حکمرانوں کا اہم کام عوام پر سرمایہ کاری کر کے انسانی وقار کو بحال کرنا ہے۔ میری نظر میں اس ایجنڈا کے یہ دو بنیادی نقاط اس قوم کی عظمت کی بحالی کے لیے خاطر خواہ ہیں۔
پاکستان کو بدعنوانی سے پاک اور ترقی پذیر ملک ہونا چاہیے اسی مقصد کو مدِ نظر رکھ کر حکومتی مشینری کو ہر قدم پر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن سے ’’تبدیلی‘‘جھلکتی نظر آئے۔ یہ امید کے ساتھ ساتھ خوشگوار تجسس بھی ہے۔ 80اور 90کی دہائی کو معیشت دان پاکستان کے مشکل ادوار سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن ان تاریک ادوار میں بھی پاکستان ایٹمی قوت بننے میں کامیاب ہوا۔ 1998میں ’’چاغی‘‘کے ایٹمی دھماکے انڈیا کا منہ توڑ جواب تھے جو اس نے آپریشن شکتی کے تحت ایٹمی دھماکے کر کے جوہری ٹیکنالوجی کے زور پر پاکستان کو زیرِ تسلط کرنے اور اس کی فوج کے حوصلے پست کرنے کی غرض سے کیے۔ انڈیا نے پلاننگ کی تھی کہ پاکستان کو عالمی سطح پر مہلک ایٹمی ہتھیاروں کے حامل ملک کے طور پر پیش کیا جائے جس کی فوج کو متنازعہ قرار دلوایا جا سکے۔ اس ملک کی جغرافیائی سرحدوں سے چھیڑ چھاڑ کرنا تو ممکن نہیں تھاتاہم اقتصادیات اور انسانی ترقی کے حوالے سے گزشتہ تیس سال سے یہ ملک مسلسل پستی کی طرف گامزن تھا۔ وقتاً فوقتاً ناکام مالیاتی نیٹ ورکس کو آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے بھاری قرضے اور بیل آؤٹ پیکیجز لے کر سہارا دینے کی ناکام کوشش کی جاتی رہی ۔ اس بد ترین صورتِ حال میں چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور معاشی مشکلات مین دھنسے ملک میں انقلاب کی صورت سامنے آیا۔ 60بلین ڈالرز سے زائد کی سرمایہ کاری معیشت کوجارحانہ سُرعت سے ہمکنار کر نے کے لیے تیار ہے۔ اب یہ پاکستانیوں پر ہے کہ وہ کس قدر اس سے فائدہ اٹھا کر ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک کی صف میں شامل ہوتے ہیں۔ سی پیک پاکستان کی علاقائی اہمیت ، جی ڈی پی میں دگنا اضافہ اور انسانی ترقی کا ضامن ہو گا۔ متوقع نئی حکومت میں شامل نئے چہرے نئے عزم کے ساتھ اُن مسائل کے حل کے لیے کام کریں گے جنہیں کئی دہائیوں تک نظر انداز کیا جاتا رہاہے۔ امید ہے کہ پی ٹی آئی کی نئی حکومت تمام انتظامی محکموں میں اہلیت و شفافیت کو سرفہرست رکھے گی۔قابلیت اور اہلیت ہی بگڑتے حالات میں ملک کو سہارا دے سکتے ہیں ۔ ناصرف اندرون بلکہ بیرون ممالک بسنے والے پاکستانی بھی تحریکِ انصاف کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک تاریخی تحریک ہے جس میں ملک اور بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کی تعمیر کے عمل میں حصہ دار بننے کے لیے تیار ہیں۔ تحریکِ انصاف کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ موروثی سیاسی جماعت نہیں ۔میں عمران خان اور ان کی ٹیم کے لیے انصاف ،انسانیت اور خود اعتمادی کی بحالی کے لیے نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ان کا بیس سالوں سے لگایا ہوا مقبول نعرہ اب پھل دار درخت بننے کو ہے۔
(مصنف جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں)


ای پیپر