احساس تمہیں ہے کہ نہیں !
12 اگست 2018 2018-08-12

مولاناامین عثمانی اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیاکے اہم اور سرکردہ افراد میں سے ہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ سے ان کی پرانی دوستی ہے ۔ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ کی ساری دینی تعلیم انڈیا کے مختلف اداروں میں ہوئی اور تب سے یہ ایک دوسرے سے واقف ہیں ۔ڈاکٹر ابراہیم موسیٰ نے مدرسہ ڈسکور س کے نام سے جو پروجیکٹ شروع کیا اس کی تحریک اور مشاورت میں مولانا امین عثمانی صاحب کی بڑی مساعی ہیں ۔نیپال میں ہونے والی ورکشاپ میں امین عثمانی صاحب لیکچر کے لیے انڈیا سے تشریف لائے اور بڑی جامع اور پر اثر گفتگو کی ۔ان کی گفتگو میں ربط اور تسلسل تھا۔ آواز میں درد اور عالم اسلام کی فکری و نظریاتی پستی کا نوحہ تھا ۔ گفتگو کا اندازنہایت شائستہ اور باوقار تھا۔ اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ، اب تک تقریبا د و سو سے زائد نئے زندہ مسائل پر تحقیق و اجتہاد کی روشنی میں فیصلے کیئے جا چکے ہیں۔ورکشاپ میں شریک انڈین طلباء اور مولانا امین عثمانی صاحب کی گفتگو سن کر اندازہ ہوا کہ پاکستان اور انڈیا دونوں ممالک کے مسلمانوں کے مسائل تقریبا یکساں ہیں۔ خصوصا دینی طبقات ، مذہبی سیاسی جماعتیں اور دینی مداراس کا نصاب و نظام دونوں جگہوں پر ایک جیسے مسائل، ایک جیسی فکر اور قیادت کی غفلت نمایاں ہے ۔ مذہبی سیاسی جماعتوں میں جیسے یہاں لوگ بٹے ہوئے ہیں انڈیا میں بھی یہی صورتحال ہے ۔مودی صاحب بڑی مہارت اور شاطرانہ چالوں سے مسلمانوں کو سائیڈپر لگانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں لیکن دینی قیادت ہنوز دلی دور است کا راگ الاپ رہی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ انڈیا میں 2019میں ہونے والے الیکشن بہت اہم ہیں اور اس الیکشن میں مسلمانوں کی تقدیر کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اس وقت مسلمانوں میں شدید بے چینی اور کرب کی صورتحال موجود ہے لیکن قیادت میں انتشار ، مستقبل کا عدم ادراک اور منصوبہ بندی کا فقدان ہے ۔ دینی مدارس میں بھی قدیم و جدیداور نصاب و نظام کی جو بحث اور مسائل یہاں ہیں باالکل یہی صورتحال انڈیا میں ہے ۔ مدارس کے فارغ التحصیل قومی اداروں میں قابل قبول نہیں ، انہیں درس نظامی کے ساتھ باقاعدہ عصری تعلیم بھی حاصل کرنی پڑتی ہے ۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کا جو رجحان یہاں چل پڑا ہے وہاں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ۔میں نے چند مماثلتیں واضح کی ہیں آپ اس کو بڑی سطح پر قیاس کر سکتے ہیں ۔

امین عثمانی صاحب نے فقہ اکیڈمی انڈیا کی مختلف الجہات کوششوں کا تعارف کروایا ،آئندہ کی منصوبہ بندی واضح کی اور بتایا کہ انہوں نے فقہ اکیڈمی کے تحت دینی مدارس کے طلباء کے لیے متنوع پروجیکٹ شروع کیے تھے لیکن بوجوہ ہم انہیں جاری نہ رکھ پائے ۔ سب سے پہلے ہم نے مدار س کے فضلا ء کے لیے دوسالہ پروگرام شروع کیا جس میں منتخب علماء کو عصری علوم کے ساتھ عصری انداز میں ان کی تربیت کی جاتی تھی، یہ کورس انڈیا کے پانچ مختلف مقامات پر شروع کیا گیا لیکن فنڈز کی کمی کی وجہ سے یہ پروگرام رک گیا۔ اس کے بعد ہم نے مدارس کے طلباء کے لیے کیمپ قائم کیے جس میں چار پانچ دن کے لیے انہیں ایک مقام پر اکٹھا کیا جاتا تھا اور مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ مختلف موضوعات پر لیکچرز دیتے تھے لیکن یہ پروگرام بھی رک گیا۔ پھر ہم نے محاضرات کا سلسلہ شروع کیا ، مختلف یونیورسٹیوں کے منتخب اساتذہ کو مدارس میں بلا کر عصری موضوعات پر ان کے لیکچرز ہوتے تھے لیکن ایک عرصے بعد یہ پروگرام بھی رک گیا ۔ اس کے بعد ہم نے ورکشاپس کا سلسلہ شروع کیا ، مدارس کے منتخب فضلا ء کو عصری موضوعا ت پر ورکشاپس میں اکٹھا کیا جاتا تھا ، مختلف موضوعات پر ڈسکشن ہوتی تھی اور اس ڈسکشن کی باقاعدہ نگرانی کی جاتی تھی لیکن یہ پروگرام بھی رک گیا۔ پھر ہم نے مدارس کے فضلا ء سے مختلف موضوعات پر مقالے لکھوانے شروع کیے ، یہ مختلف عصری موضوعات پر مقالے لکھتے تھے اور ان کی اشاعت کا اہتمام کیا جاتا تھا لیکن یہ پروگرام بھی رک گیا ۔ اس کے بعد ہم نے مدارس کے نصاب کی بہتری کے لیے سیمینارز کا آغاز کیا ، یونیورسٹیز اور مدارس کے اصحاب علم نے اس موضوع پر بھرپور مقالے پیش کیے، بحثیں ہوئیں اور طے ہوا کہ سال میں ایک بار بڑے مدارس کے علماء اکٹھے ہو کر نصاب کی بہتری کے لیے تجاویز مرتب کریں گے لیکن کسی نے سنجیدگی نہیں دکھائی اور یہ پروگرام بھی رک گیا ۔ یہ سب ہماری کوششیں تھیں لیکن بقول مولانا امین عثمانی کے ہمارا تجربہ کیا رہے اور ہم کس نتیجے پر پہنچے وہ کچھ یوں ہے ۔ ہمارے ہاں وسعت فکری کا فقدان ہے اور ایک دوسرے کی رائے کو سنا نہیں جاتا۔فرق مخالف کی کتب سے استفادے کا رجحان نہیں ۔ ہمارے علماء کا مطالعہ جانبدار ہوتا ہے جس سے توازن برقرار نہیں رہ پاتا اور وہ فکر نہیں بنتی جس کی ضرورت ہے ۔تجدید کے جو مسائل ہیں ہمارے علماء اس سے گھبراتے ہیں کہ کاش ہمیں ان کا کوئی حل نہ ہی ڈھونڈنا پڑا اور ایسے ہی چلتا رہے۔ امت کی بہتری اور ترقی کے لیے جو فکر اور تڑپ نظرآنی چاہئے وہ کہیں نظر نہیں آتی اور اس کی وجہ کوئی بھی ہو سکتی ہے ۔ مثلا منصوبہ بندی کا فقدان ، معاش کی فکر یا فکری نا پختگی۔ہمارے علماء میں غلبہ رائے کا رویہ کہ صرف میری رائے صحیح اور باقیوں کی غلط ہے ۔ فکر و عمل کا تضاد، ہم بول اور لکھ کچھ اور رہے ہوتے ہیں اور ہمارا عمل کچھ اور ہوتا ہے ۔ ہمیں ایشو سے دلچسپی نہیں ، یعنی ہمیں یہی نہیں معلوم کہ ہمارا ایشو اور مسئلہ کیا ہے ، جب اصل مسئلے اور ایشو کا ہی نہیں پتا تو اگلی باتیں تو فضول ہیں۔ تقابل ادیان کے میدان کے لیے علماء دستیاب نہیں اور انہیں شعور بھی نہیں ۔ دینی قیادت اور مدارس عالمی سطح پر ہونے والی دینی ریسرچ اور تحقیق سے ناواقف ہیں۔اسی طرح سوالات کیا اٹھ رہے ہیں، ان کی علمی بنیادیں کیا ہیں اوراور ہمیں کیا پوزیشن لینی ہے اس کا بھی ادراک نہیں ۔ ہماری کوئی جامع منصوبہ بندی اور فیوچر پلاننگ نہیں ۔ نہ کوئی پالیسی ہے نہ تھینک ٹینک۔ قیادت میں انتشار اور امت میں بکھرا ؤ ہے ۔ غیر مسلم طاقتیں دیکھتی ہیں کہ یہ تو آپس میں ہی الجھے ہوئے ہیں۔ اکیسویں صدی کا عالم کیسا ہونا چاہئے ان کے الفاظ یہ تھے : انسانیت دوست ہو ، یعنی انسانیت کی ہمدردی اور مختلف اقوام و ملل کے ساتھ کام کرنے کا ملکہ رکھتا ہو۔ قوت برداشت ہو ، دوسروں کی بات سن کر بلند حوصلگی اور اعلیٰ ظرفی سے اسے برداشت کرے اور دلائل سے اس کا جواب دے۔ دیگر مذاہب کی تاریخ ، ان کی زبان اور ان کی مذہبی کتب سے واقفیت اور ان کی تاریخی اہمیت سے واقف ہو۔ مکالمہ بین المذاہب کے حوالے سے یہ چیز بہت اہم اور ضروری ہے ۔ گہرائی ہو ، چیزوں اور ماحول کی گہری واقفیت اور ان کا ادراک رکھتا ہو۔صورتحال کو دیکھ کر اور مشاہدہ کر کے تجزیہ کرنے اور مناسب پالیسی اپنانے کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ زمانے کے تقاضوں سے واقف اور اپنے زمانے کی سوجھ بوجھ رکھتا ہو۔ زبان ، محاورہ ، نفسیات اور معاشرے کے فیبرک سے واقف ہو ۔ یہ ان کی گفتگو کے اہم نکات تھے ۔ اس کے علاوہ میں نے نجی مجالس میں بھی مختلف موضوعات پر ان سے گفتگو کی ، ان کے جوابات فکر انگیز تھے ۔ خصوصا ہندو اور غیر مسلم قوتیں کس منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں اور ہم کس قدر خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ، موقعہ ملا تو آئندہ یہ صورتحال بھی واضح کروں گا۔


ای پیپر