دو قومی نظریہ۔۔۔تقسیم ہند کی بنیاد
12 اگست 2018 2018-08-12

ماؤنٹ بیٹن کو تقرری کے وقت ذمہ داری دی گئی تھی کہ وہ کیبنٹ مشن پلان کی بنیاد پر ایک متحدہ ہندوستان کے لئے متفقہ حل تلاش کرے ، لیکن آمد کے فورا بعد ایسے حالات اور پارٹی لیڈروں کا رویہ سامنے آیا کہ ایک متحدہ ہندوستان اور ایک متفقہ فارمولا کا امکان نہیں رہا ۔ چنانچہ اسے وزیراعظم کے بیان کے مطابق منصوبہ تیار کرنا پڑا۔اپنے مشیروں کی مدد سے ماؤنٹ بیٹن نے انتقال اقتدار کا ایک خاکہ بنایا جس کے تحت اقتدار کی قطعی منتقلی سے پہلے صوبوں کو فیصلہ کرنا تھا کہ وہ ، صوبوں کی فیڈریشن میں شامل ہو ں گے۔

یہ خاکہ مینن کو دیکھنے ، اور اس میں ضروری ترامیم اور منتقلی اقتدار کا ایک سرسری ٹائم ٹیبل بنانے کے لئے دیا گیا۔مینن نے حکم کی تعمیل کی مگر اس کی رائے میں یہ ’’ منصوبہ‘‘بہت برا تھا اور یقیناًناقابل عمل تھا۔مکمل منصوبہ گورنرزکانفرنس میں رکھا گیا اور منظور ہو گیا۔پھر اسمے اور جارج ایبل ، وہائٹ ہال کی منظوری کے لئے منصوبہ لے کر لندن روانہ ہو ئے۔وائسرائے کی خواہش تھی کہ حکومت برطانیہ اس کی منظوری کی اطلاع دے کیونکہ وہ لیڈروں کی رائے اس کے بارے میں وہ جاننا چاہتا تھا۔

منصوبہ لندن چلا گیا اور ماؤنٹ بیٹن سر ایرک میویل اور مینن کے ساتھ شملہ چلا گیا۔ وہاں پہلی بار مینن کو وائسرائے کے ساتھ کھل کر ، اور تفصیل سے بات کرنے کا موقعہ ملا۔ اس نے لندن بھیجے گئے منصوبہ کے خلاف اپنے دلائل پیش کئے اور کہا کہ یہ ناقابل عمل ہے۔ پھر نہرو اور کرشنا مینن وہاں آگئے ۔نہرو کو بیٹن نے اپنے ساتھ ساتھ رہنے کی دعوت دی ۔ مقصد اسے ہر قسم کے فیصلے اور حالات سے باخبر رکھنا تھا۔ یہ اس منصوبہ بندی کا حصہ تھا جس کے تحت قائداعظمؒ اور مسلم لیگ کو بآور کروانا تھا کہ متحدہ ہندوستان اور حقوق کاّ آئینی تحفظ ہی حالات کا موزوں ترین حل تھا۔وائسرائے نے مینن سے کہا کہ نہرو سے اس منصوبے کی بابت بات کرے جو اس نے متبادل بنایا تھا۔مینن نے اپنا منصوبہ نہرو کو بتایا جس کے تحت صوبوں یا صوبوں کے گروپوں کی بنیاد پرنہیں بلکہ ڈومین سٹیٹس کی بنیاد پر دو ہندوستانوں کو اقتدار منتقل کرنا تھا، یعنی ہندوستان اور پاکستان۔ بیٹن، مینن، میوئل اور نہرو نے اس پر تبادلہ خیال کیا،یہ بات چیت ’’وائسرائے منٹس‘‘میں ریکارڈ کی گئی اور گورنمنٹ آف انڈیا ریکارڈ کا حصہ بنا دی گئی۔

وائسرائے کو لندن سے وہ منصوبہ موصول ہوا جو کیبنٹ کو بھیجا تھا، اسے بعض تبدیلیوں کے ساتھ منظور کر لیا گیا تھا۔شام کو بیٹن، نہرو کو ڈنر کے بعد اپنے سٹڈی روم لے گیا ، اور وہ منصوبہ دکھایاجو سلطنت برطانیہ نے منطور کیا تھا۔نہرو نے اسے پڑھا،اس کاپارہ چڑھ گیااور اس نے بیٹن کو بتا دیا کہ اس منصوبہ کو وہ نہ خود ،نہ ہی کانگرس اور نہ ہی ہندوستان قبول کرے گا۔اب لارڈ بیٹن پریشان تھا، اسے مینن کا خیال آیا،اسے بلایا اور نہرو کے ردعمل سے آگاہ کیا اور پوچھا! اب کیا کریں؟۔مینن نے فورا جواب دیا ،’’میرا منصوبہ‘‘ مجھے امید ہے کہ منطور کر لیا جائے گا ، میرا منصوبہ ہندوستان کی ایکتا قائم رکھے گااور جو ساتھ نہیں رہنا چاہتے ، انہیں الگ ہونے کا حق دے دے گا۔چنانچہ یہ منصوبہ جسے کانگریس کے حمایتی ہندو، مشیر نے نہرو اور شائد کرشنا مینن کے ساتھ مل کر بنایا تھا، منظور ہو گیاجس نے برطانوی ہندوستانی اقتدار اور دنیا کا نقشہ بدل دیا۔

اہم بات یہ ہے کہ جناح سے اس منصوبہ کے بارے میں نہ تو مشورہ لیا گیااور نہ ہی اتنی برق رفتار تبدیلیوں کے بارے میں باخبر کیا گیا۔انہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔جون 1948ء سے پہلے اقتدار منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا، اسی سال پارلیمنٹ کے اجلاس میں اقتدار کی منتقلی کے لئے ڈومین کی بنیاد پر قانون سازی کی گئی ۔سات لیڈر کا اجلاس وائسرائے نے نہرو،پٹیل، کرپلانی ، جناح، لیاقت، نشتر اور بلدیو سنگھ وہیں منصوبہ رکھا اور منظور کیا ۔۳ جون کو منصوبہ منظرعام پر آیا۴ جون کوبیٹن نے پریس کانفرنس کی اور جھوٹ بولا کہ ہر سٹیج پر اور ہر قدم پر لیڈروں کے ساتھ ملکر کام کیا اور یہ منصوبہ ان کے لیے (shock)یا حیرانی نہیں تھی۔اُسی دن 15اگست اقتدار کی منتقلی کی تاریخ طے کی گئی۔ مسلم لیگ کونسل ۰۱ جون کے اجلاس میں محمد علی جناح ؒ کو اختیار دیا گیا منصوبے کے بنیادی اصولوں کو ایک سمجھوتے (comprmise) کے طور پر قبول کرلیا جائے۔مولانا آزاد نے کہا جغرافیہ، پہاڑوں اور سمندروں نے جس طرح ہندوستان کا نقشہ بنایا ہے کوئی انسانی طاقت اس کی صورت تبدیل نہیں کرسکتی اور نہ ہی اس کہ حتمی مقدر میں حائل ہوسکتی ہے۔ہندو مہا سبہا نے کہا ہندوستان ناقابلِ تقسیم ہے جب تک اس کے الگ الگ حصے انڈین یونین میں واپس نہیں لائے جاتے ، اور اس کا اٹوٹ انگ نہیں بن جاتے یہاں امن نہیں ہوگاگاندھی نے 15 اگست کو اعلان کیا کہ وقت آئے گا جب تقسیم ٹوٹ جائے گی ۔کانگریس کے حامی ہندوستان ٹائمز کے اداریہ میں لکھا اچھی بات یہ ہے کے جونہی تقسیم کا نشہ اُتر جائے گا قومی قوتیں سامنے آئے اور پھر اکھنڈتا ہوگی ۔منصوبے کے خالق وی پی مینن نے کہا کہ اگست 1947ء کی تقسیم کا مقصد یقیناًاُن تعلقات کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا نہیں تھا جنہوں نے ہندوستان کو 150 سال سے اکٹھا رکھا تھا۔دراصل انگریز ہندو گٹھ جوڑ مسلمانوں کے اس نظریے کا متضاد تھا جو قیام پاکستان کا موجب بنا۔یہ نظریات کی جنگ تھی۔ہندو اور انگریز رہنماکی چالبازیاں ان کے مشترکہ نظریے کاثبوت ہے ۔

ہندوستان کی تقسیم بنیادی طور پر دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ہوئی ۔ دو قومی نظریہ کو سمجھنے سے پہلے لفظ قوم کی تشریح ضروری ہے۔ ریاست ،قوم، اوروطن تین علیحدہ تصورات ہے ۔یہ مشترکہ اور آزادانہ طو پر اپنا وجود برقرار رکھتے ہیں۔ اکتوبر 1956ء کی قومی اسمبلی میں چودھری محمد حسین چٹھہ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ برطانوی سامراجی دور سے آزادی کے بعد ہم نے ذہنی غلامی سے تاحال آزاد ی حاصل نہیں کی مغلوب ذہنو ں میں انگریزی الفاظ کے ترجمے ذہنی کیفیت کے مطابق کیے گئے۔ لفظ NATIONانگریزی زبان میں تین مختلف ذہنی خیال سے ماخوذ اور مختلف حالات میں مختلف معانی وضع کرتا ہے۔ لفظ NATION کا استعمال اگرLEAGUE OF NATIONآ یا UNITED NATIONکے لیے استعمال ہو تو اس کا سادہ مطلب ریاست ہے کوئی شہری یا علاقہ ان اداروں کا رکن نہیں دوسری جانب لفظ ENGLISH NATIONکسی علاقے یا شخص کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ لوگوں کی ایک دوڑ ہے جو دنیا کے کئی ممالک میں سکونت رکھتے ہیں وضع کرتا ہے۔بالکل اس طرح جیسے ARAB NATIONیا ARAB STATESسے باہر بھی پائی جاتی ہے لہٰذہ یہاں NATIONسے مراد HUMAN RACEاسی طرح برصغیر کی تقسیم سے پہلے کی تقسیم سے پہلے INDIAN NATION ایک ریاست کا تصورکھتی تھی جو جغرافیائی طور پر مختلف مذاہب کا مجموعہ تھی لیکن برصغیر کی تقسیم جغرافیائی نہیں نظریاتی قوم کی بنیاد پر ہوئی۔ قوم مذاہب نظریات اور جغرافیہ کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے جب ہندوستان تقسیم نہیں ہوا تھا تو مسلمان آزادی اور علیحدہ وطن کی جنگ لڑ رہے تھے جہاں وہ اپنی مرضی سے اپنے دین کے ابدی اصولوں پر ایک معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے حضرت قائد اعظمؒ کی قیادت میں دس کروڑ مسلمانوں نے آزادی کی جنگ لڑی یہ دس کروڑ مسلمان ایک نظریے پر متحد تھے اور جغرافیائی طور پر اپنے نظریات کو آزمانے کا تجربہ حاصل کرنا چاہتے تھے لہذا برصغیر میں مسلمانوں پسماندگی اور مشکلات نے ایک علیحدہ سیاسی جماعت قائم کرنے کے محرکات پیدا کیے جو صرف بر صغیر میں موجود قوم یعنی مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہو ۔


ای پیپر