آزادی کا جشن کیسے منائیں !

12 اگست 2018

اختر سردار چودھری

قومی دن منانے کی روایت زندہ قوموں کی نشانی ہوتی ہے ۔قومی دن اتحاد کی علامت ہوتا ہے، شکر کا دن ہوتا ہے۔یہ تجدید عہد کا دن ہوتا ہے ،اپنے مقصد کی تجدید کا دن ۔ہماری قوم ۔14اگست کوقوم71 واں یوم آزادی منارہی ہے۔اور میں سوچ رہا ہوں ہم کس چیز کا جشن منانے جارہے ہیں ۔کیا ہم ایک زندہ قوم ہیں ۔کیا ہم میں اتفاق و اتحاد ہے ۔ہم کس چیز کی تجدید عہد کرنا چاہتے ہیں ۔کیا ہمیں اپنا مقصد یاد بھی ہے ۔کیا اللہ پاک نے ارض وطن میں جو نعمتیں عطا کی ہیں ان کا مناسب اور قوم و ملک کے مفاد میں استعمال کر رہے ہیں ۔سچ یہ ہے کہ ہم قیام پاکستان کا مقصد بھول گئے ۔کیاآپ کو یاد ہے ۔کیاہماری نئی نسل کو یاد ہے ۔بر صغیر کے مسلمانوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے ۔اللہ سے یہ وعدہ ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا۔ اس وعدے کو پورا ہم نے کرنا تھا ۔حقیقت یہ ہے کہ اس وعدے کا احساس تک ہم کو نہیں ہے۔ ہمارے قائد کو اس کا احساس تھا، انہوں نے فرمایا تھا ’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ محض زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہم اسلام کے زریں اصولوں کو آزما سکیں ۔‘‘اب یہ ہمارا فرض تھا کہ ہم تکمیل پاکستان ، پاکستان کو اسلامی ماڈل بنانے،شریعت کے نفاذ کی عملی کوشش کرتے اور پاکستان کی ترقی کے لئے دن رات محنت و مشقت کرتے اگر ہم نے اپنے یہ فرائض پورے کیے ہیں تو ہم آزادی کا جشن منانے کا حق رکھتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جشن کس بات کا منا رہے ہیں،کیا ہم کمر توڑ مہنگائی کا جشن منا رہے ہیں ،جس نے غریبوں سے جینے کا حق چھین لیا ہے ،ضروریات زندگی نصف آبادی کو میسر نہیں ہیں۔دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کو علم ہی نہیں کہ غربت کیا ہوتی ہے۔ نہ ہی وہ بے روزگاری کے عفریت سے آگاہ ہیں ،نہ ہی ان کو آٹا ،چینی،گھی ،دال،سبزی کی قیمتوں کا علم ہے ۔مہنگائی دور کر کے ،لوٹی دولت واپس لا کر ،لوڈشیڈنگ ختم کر کے ، بجلی سستی کر کے ،انصاف فوری اور سستا کر کے ، اسلامی آئین بنا کر یا جو آئین ہے اس کے نفاذ کی ہی کوشش کر کے ،تعلیم ،ہسپتال،ٹریفک نظام ،ٹریفک قانون پر عمل کرنے کے بعد،بے روزگاری کا خاتمہ کر کے جشن مناتے ، ایسے حالات میں جو عوام بنیادی حقوق کے لے ترس رہے ہوں ضرورت زندگی مناسب داموں خرید نہ سکیں ،ایسے میں تو ریاست اپنا مقصد ہی کھو دیتی ہے،بھلا وہ کس طرح آزادی کا جشن منائے؟ کیا ہم جشن لاقانونیت منا رہے ہیں ۔ملک میں قانون صرف غرباََ کے لیے ہے۔پیسے والا ،اختیار والا قتل بھی کر سکتا ہے اور اسے کو ئی خوف نہیں ہے ۔اس لاقانونیت سے ہمارے اخبار بھر ے پڑے ہیں ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔بے انصافی بکتی ہے (میں نے انصاف نہیں کہا )جس ملک میں عدالتوں میں انصاف نہ ہوتا ہو فیصلوں میں تاخیراتنی کہ زندگی گزر جائے ۔مقدمات کا فیصلہ نہ ہو۔ہم71سال میں اپنے ملک کا قراداد پاکستان کے مطابق آئین نہ بنا سکے عمل تو دور کی بات ہے اور دل جلانے کو جو آئین تھا اس کا نفاذ بھی انصاف سے نہ ہو سکا ۔ اگر ہم اردو کو سرکاری و عدالتی زبان بنالیتے۔ پاکستان سے رشوت خوری، چوربازاری اور اقرباء پر وری کا خاتمہ ہو جاتا تو پھر خوب آزادی کا جشن مناتے۔اللہ پاک نے پاکستان کو اپنی بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے یہاں ، وسیع میدان، پہاڑ، سمندر، صحرا ،جنگل ہیں ۔چاروں موسم ہیں، پاکستان کی جغرافیائی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں یہ ایک ایٹمی ملک ہے ، اس میں نمک کی دوسری بڑی کان،دنیا کی پانچویں بڑی سونے کی کان ،تانبے کی ساتویں ، دنیا کا دوسرا بڑا ڈیم، اور پیداوار کے لحاظ سے کپاس ،چاول ،آم ،مٹر خوبانی گنا میں خود کفیل اور دنیا میں دوسرے ،تیسرے ،چوتھے نمبر پر ۔پاکستان دنیا میں زرعی پیداوار کے لحاظ سے 25 ویں اور صنعتی لحاظ سے 55ویں نمبر پر ہے ۔پاکستان میں گیس کے وسیع ذخائر ہیں ۔ کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے زرعی ،صنعتی ،معدنی اورافرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ ساری نعمتیں اللہ نے پاکستان کو دی ہیں۔ ان سے خاطر خواہ فائدہ ہم نے نہیں اٹھایا ۔ملک مسائل کی آگ میں پھنسا ہوا ہے غیر ملکی قرض کے انبار ہیں ۔ایسے حالات میں ہم آزادی کا جشن کیسے منائیں ؟ ۔ کہا جاتا ہے معاشرے میں جو بگاڑ ہے؟ معاشرے میں بگاڑ کیوں ہے؟ اس کے اسباب کیا ہیں؟ اور اس کا حل کیا ہے؟ انہیں حل کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ کوئی علم نہیں ہے۔ سب ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال رہے ہیں ۔ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ افراد سے معاشرہ بنتا ہے اس لیے افراد کو پہلے سدھرنا ہو گا ،دوسرا نقطہ نظر ہے کہ اجتماعی نظام ہی بگڑ چکا ہے اسے ٹھیک ہونا چاہیے ۔اس کے لیے ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو صرف قوم و ملک کے لیے فیصلے کرے ۔ایک بات یہ بھی ہے کہ ان کے لیے جو کہہ رہے ہیں کہ اصلاح کا عمل تدریجی ہونا چاہیے کہ ہم نے غیر مسلموں کی اصلاح نہیں کرنی بلکہ مسلمانوں کی کرنی ہے اس لیے تدریج کی ضرورت نہیں ہے نفاذ کی ضرورت ہے ۔اسلامی قانون کے نفاذ کی جب نافذ ہو جائے گا ۔تو عمل بھی ہو جائے گا ۔جو اسلام کے دائرے میں ہے یعنی مسلمان ہے وہ تب تک اسلامی قانون نہیں توڑے گا اگر اس کو سزا کا خوف ہو گا۔کیونکہ برائی میں کشش ہے اس لیے برائی کی طرف انسان کا متوجہ ہو جانا شائد فطری ہے اور اگر اس پر آزادی ہو تو یہی انجام ہونا تھا جو ہوا ہے ،اسے آزادی کا نام نہیں دینا چاہیے ،نہ ہی یہ روشن خیالی ہے بلکہ یہ بغاوت ہے اسلامی قانون و شریعت سے۔کیا ہم اس کا جشن منائیں کہ اکہتر سال میں اسلامی نظام حکومت رائج نہیں کر سکے ۔موجودہ حالات میں تجدید عہد کا دن وہ بھی سادگی سے منانا چاہیے اور اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر ہم حقیقی آزادی کا جشن منانا چاہتے ہیں تاریخ کافخر بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے کردار و عمل کو اسلام کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ کیونکہ اسلام کے نفاذ کے لیے اسلامی قلعہ بنانے کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا ۔ اس لیے ہمیں چاہیے پہلے قیام پاکستان کے مقصد کو پورا کریں ۔قیام پاکستان کے تقاضے پورے کریں ۔پھر حقیقی آزادی کا جشن منائیں ۔

مزیدخبریں