یکدم دبئی
12 اگست 2018 2018-08-12



گھڑی کی سوئی نو پر آئی تو نو بج چکے تھے، ظاہر سی بات ہے نو ہی بجنے تھے ،بارہ تونہیں البتہ منہ پر بارہ ضرور بج گئے تھے ۔ کیونکہ رات دو بج کر تیس منٹ پر فلائیٹ لاہور سے پرتگال روانہ ہونی تھی اور ہم ابھی فیصل آباد سے لاہور کی طرف روانہ نہیں ہوئے تھے۔بیگم ابھی تک سامان پہ سامان اکٹھا کئے جا رہی تھیں۔ پانچ بیگ بڑے والے بھر چکی تھیں،اپنے لاتعداد کپڑوں سمیت ساگ ، سویاں، مٹھائی یہاں تک کے بیٹی کی نیپیاں ، اور جانے کیا کیا۔ جو چیزیں پرُتگال سے عام اور سستی دستیاب تھیں وہ سب سے زیادہ بکسوں میں ٹھونسی ہوئیں تھیں، جس نے جو چیز پکڑا دی اس کوتبرّ ک کے طو رپرساتھ رکھ لیا۔ میں یہ تماشہ بڑے انہماک سے دیکھ رہاتھا، ظاہر سی بات ہے دیکھنے کے سوا اور کر بھی کیا سکتا تھا ؟ خیر نکل پڑے لاہور کی طرف ، فلائیٹ دو گھنٹے دبئی رکنی تھی اور پھر سیدھا پرتگال ۔دو گھنٹے کی جگہ فلائیٹ دو دن دبئی رکنی ہوتی تو مزہ ہی آجاتا۔ ائیرپورٹ پہنچے تو پتہ چلا کہ جہاز آدھا گھنٹہ لیٹ ہے ۔ لاہور سے دبئی پہنچے تو جہاز سے نکلتے ہی ایک لمبے چوڑے شخص نے ہمیں روک لیا۔مجھے لگا کہ ساگ اور آلو میتھی کے پراٹھوں کی وجہ سے اس نے ہمیں روک لیا ہے۔ اس نے دو کارڈ ہمارے ہاتھ میں تھما دیئے۔ میں نے سوچا، یہ’’ سوٹڈ بوٹڈ ‘‘ منگتا ائیرپورٹ میں کیسے آگیا۔اس سے کہا ،بھائی! ہمارے پاس ٹائم نہیں، ہم نے ایک گھنٹے میں دوسرے جہاز تک پہنچنا ہے۔ کہنے لگا، جس جہاز تک آپ نے پہنچنا تھا وہ اب جانے کہاں پہنچ گیا ہے۔ میں نے کہا، کیا مطلب ہے آپ کا ؟ فرمانے لگے کہ جہاز اڑ چکا ہے۔لاہورسے آپکی فلائیٹ دیر سے پہنچی ہے ۔آپ کو چھبیس گھنٹے دبئی میں رکناپڑے گا،یہ کارڈ ہو ٹل کے ووچر ہیں،نیچے سے مفت میں ویزہ لگوائیں ، باہر ہو ٹل کی بس آپ کو فری میں ہوٹل پہنچا دے گی ۔ میں اندر سے فل بٹا فل خوش، پر اسے ظاہر کرہا تھا کہ اوہو فلائیٹ مس نہیں ہونی چاہیے تھی۔ آخر پر اس نے کہا کہ ہوٹل میں رہائش آپ کو فری ہے۔ میں ہلکا سا مسکرایاپر میرے سارے کے سارے دانت خودبخود باہر کو نکل آئے۔ میں نے کافی کوشش کی کہ اب مسکرانا بند کروں پر بتیسی اندر ہی نہیں جا رہی تھی ۔دل نے کہا ،اسے کہوں کہ ہوٹل فری والی بات آپ کو سب سے پہلے بتانی چاہیے تھی ۔ نیچے آئے ،ویزہ لگوایااور ’’شٹل بس‘‘ کا انتظارکرنے لگے۔ پورے ائیرپورٹ میں بنگالی ، پاکستانی، نیپالی اور اور بھی ممالک کے لوگ نظر آئے ،پر عربی نظر نہیں آرہے تھے ، البتہ ویزے کے سیکشن میں صرف عربی ہی بیٹھے تھے۔ایک شخص نے پاسپورٹ چیک کر کے فوراًویزہ لگا دیا۔شٹل بس ہر پندرہ منٹ بعد آرہی تھی، اس پر بیٹھے اور ہوٹل پہنچ گئے۔
ہوٹل ’’جی جی کو‘‘ میں تھا۔ بیگم ساتھ تھیں شاید اس لیے ہوٹل جی جی کو میں دیا۔ انہیں پتہ لگ گیا تھا کہ بندہ بیگم کے آگے جی جی ہی کرتا پھرتا ہے۔ کاؤنڑ سے چابی لی اور انہیں پوچھا کہ ہوٹل میں انٹرنیٹ ہے؟انہوں نے کہا کہ آپ کو ایک گھنٹے کیلئے انٹرنیٹ اور ساتھ پانچ منٹ کی انٹرنیشنل کال بھی فری ہے۔ناشتہ ،لنچ بوفے اور ڈنر بوفے بھی فری تھا، بھئی دبئی دبئی ہے۔ناشتہ چھ سے بارہ بجے تک کا ٹائم تھا، پہلے آٹھ بجے ناشتہ کیاپھر دس بجے کیا پھر بارہ بجے کے قریب دل کیا پر نہیں کیا ، مجھے یاد آیا کہ لنچ بھی فری ہے۔ لنچ کر کے باہر نکل پڑے، دھوپ نکلی ہوئی تھی ،ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ،دور کھجوروں کے درخت بڑا خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے، اوپرسے فری کا ’’ٹرپ‘‘ منظر اور خوبصورت دِکھنے لگا۔ ہوٹل کیساتھ ہی بس سٹینڈ تھا، تھوڑی دیر بس کا ویٹ کیا وہ (بس )نہ آئی تو ساتھ ہی میڑوبھی تھی،ہم اسکی طرف چل پڑے۔ میڑو پر بیٹھے اور جبل علی کی ڈائریکشن لی، راستے میں ورلڈٹریڈ سنڑ آیا تو دل کیا امریکہ بھی دیکھتے چلیں ۔شیخ زید روڈNew Yorkکی بلند ترین بلڈنگوں سے مماثلت رکھتی ہے، ویسے میں نے نیویارک دیکھا نہیں ہے، لیکن ایسے ہی تُکّا لگانے میں کیا حرج ہے؟فلموں میں تو دیکھا ہی ہے۔ دبئی مال سے برج الخلیفہ کو راستہ جاتا ہے،اور بقول کسی کے میڑو کے اندر سے ہی دبئی مال آجاتا ہے۔ اب یہ ہمیں یاد نہیں رہا پوچھنے کا کہ کتنی دیر بعد آجاتا ہے، کیونکہ ہم چلے جا رہے تھے اور چلے ہی جا رہے تھے۔ کسی سے پوچھتے تو وہ فرماتے کہ ہاں چلے تو ٹھیک ہی جارہے ہیں۔ کوئی دو کلو میڑ کا سفر طے کر کے دبئی مال کے آثار دکھائی دئیے، دبئی مال زیادہ وقت گزارنے کا من نہ کیا۔ ویسے بھی من برج الخلیفہ اور ڈانسنگ فاؤنٹین کی طرف تھا۔ برج الخلیفہ کو بھی چھوڑیں،ڈانسنگ گرل( فاؤنٹین) پہ دل اٹکا ہوا تھا۔ میرا تو دل چاہ رہا تھا کہ میں دبئی مال سے ہی ڈانس کرتا ہوا ڈانسنگ فاؤنٹین کے پاس جاؤں یہ گاتا ہوا’’ او بے بی اوبے بی میری گل کیوں نہیں سن دی ای ای ای (ذرا عربی انداز میں گنگنائیں)‘‘۔ایسی فاؤنٹین پہلی باردیکھی جو کمر لچکالچکا اورکبھی مٹکامٹکا کر عربی گانوں کی دھن پہ ناچ رہی تھی۔ ڈانسنگ فاؤنٹین کافی دیر عربی گانوں اور ایک آدھ انگلش گانے پر رقص کرتی رہی۔ برج الخلیفہ کو دیکھ کر لگا کہ فقط ایفل ٹاور ہی ایفل ٹاور نہیں برج الخلیفہ بھی برج الخلیفہ ہی ہے۔رات دیر سے ہوٹل پہنچے،بوفے ڈنر ابھی تک چل رہا تھا ،ہم نیند سے نڈھال ہو چکے تھے ۔میں نے بیگم سے پوچھا کہ تھوڑا سا ڈنر ہو جائے ،اُس نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کہ’’ توں کی چیز واں؟‘‘۔ سوتے ہوئے سوچا کہ صبح جلدی نہ اٹھوں، فلائیٹ کا ٹائم گزر جائے تو صبح اٹھ کر ہوٹل میں شور مچا دوں کہ میری فلائیٹ مس ہو گئی میری فلائیٹ مس ہوگئی(چھبیس گھنٹے مزید مل جائیں گے)۔


ای پیپر