Rana Sanaullah Big Statement about PDM
12 اپریل 2021 (17:26) 2021-04-12

لاہور :پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کا کہنا تھاپی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جو جماعتیں مل کر چلنے کو تیار ہیں ان کے ساتھ ہیں،ہماری پیپلز پارٹی اور اے این پی سے کوئی لڑائی نہیں،پیپلزپارٹی آئے اور کل صبح ہی صادق سنجرانی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائیں،دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔

رہنما مسلم لیگ ن رانا ثنا اللہ نے کہا بلاول بھٹو زرداری نے نوٹس پھاڑ کر اچھی حرکت نہیں کی،انہوں نے کہا یہ بات غلط ہے کہ (ن) لیگ پی ڈی ایم کو ٹیک اوورکرنا چاہتی ہے ، پی ڈی ایم میں تمام فیصلے مشاورت سے ہوئے،  پیپلزپارٹی کا موجودہ ردعمل بھی سمجھ سے بالا تر ہے ، پیپلز پارٹی کا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ لینا بے اصولی ہے، قائد حزب اختلاف کے عہدے کے لئے پیپلز پارٹی حکومتی اراکین کے ووٹ نہیں لے سکتی، یہیں سے بات بگڑی ہے، پی ڈی ایم حکومت مخالف تحریک جاری رکھے گی،رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ موجودہ سلیکٹڈ ٹولے کی پالیسی انتقام کے سوا کچھ نہیں، انھوں نے اب اپنوں سے بھی انتقام لینا شروع کردیا ہے، سلیکٹڈ ٹولہ جلد اپنے انجام کو پہنچے گا۔

 

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ موجودہ سلیکٹڈ ٹولے کی پالیسی انتقام کے سوا کچھ نہیں، انھوں نے اب اپنوں سے بھی انتقام لینا شروع کردیا ہے، سلیکٹڈ ٹولہ جلد اپنے انجام کو پہنچے گا۔

انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) اپوزیشن کی ایک بڑی جماعت ہے،ہم پہلے سے ارادے ظاہر نہیں کرتے،پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا تھا پہلے لانگ مارچ کیا جائے پھر استعفے دیئے جائیں،استعفوں کے معاملے پر پی ڈی ایم میں شامل 8 جماعتیں مل کر فیصلہ کریں گی،مولانا فضل الرحمٰن روبصحت ہوچکے ہیں وہ جلد ہی پی ڈی ایم کا اجلاس بلائیں گے،پیپلز پارٹی اور اے این پی کو چھوڑ کر باقی تمام جماعتیں اجلاس میں شرکت کریں گی،شیخ رشید روزانہ مسلم لیگ (ن) سے (ش) نکالا کرتے تھے،مسلم لیگ (ن) سے (ش) تو نہ نکلی مگر پی ٹی آئی کے اندر سے "ٹی" نکل گئی۔

 

مسلم لیگ ن کے رہنمائوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا 3 سال کے جبر کے بعد بھی مسلم لیگ (ن) عوام میں موجود ہے،مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ تمام ظلم و ستم کا 3 سال سے مقابلہ کر رہی ہے،حکومت نے تمام اداروں کو پولیٹیکل انجینئرنگ پر لگایا ہوا ہے،اپوزیشن کیخلاف انتقامی کارروائیوں کے علاوہ انہیں اور کوئی کام نہیں،یہ مسلم لیگ ن کا ہی اعزاز ہے جس نے اقتدار میں اور اپوزیشن میں رہ کر ملک و قوم کی خدمت کی ہے۔

 

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا صوبائی سطح پر مسلم لیگ (ن) کی تنظیم سازی مکمل ہوچکی ہے،ہم نے 2191 عہدیداران کو نوٹیفائی کیا ہے،ایک نئی ویب سائٹ بنانے جا رہے ہیں جس کا لنک اپ سب کو حاصل ہوگا،اس ویب سائٹ پر مسلم لیگ (ن) کے تمام عہدیداران کے رابطہ نمبر موجود ہوں گے،یہ تنظیم ایک پرامن جمہوری جدوجہد کیلئے ترتیب دی گئی ہے،یہ تنظیم پاکستان کے کاز اور عوام کے حق حاکمیت کیلئے جدوجہد کرے گی،ووٹ کو عزت سے مراد عوام کے حق حاکمیت کو منوانا ہے،ایسا ملک جو قانون اور آئین کے تابع ہو وہی عوام کیلئےفلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتا ہے،انہوں نے کہا جمہوری معاشرے کیلئے منظم سیاسی جماعتوں کا ہونا بہت ضروری ہے،ہم نے اپنی جماعت کی مضبوطی کیلئے کاوش کی ہے،پارٹی میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق اس ویب سائٹ پرمعلومات شیئر کی جائیں گی،ہمیں سیاسی جماعتوں کے جمہوریت میں کردار ادا کرنے پر بھی توجہ دینی چاہئے۔

 

مسلم لیگ ن پنجاب کے صدررانا ثنا اللہ نے کہا مسلم لیگ (ن) کی پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں،ہماری جدوجہد عوام کے حق حاکمیت کے اصول کیلئے ہے،ہماری جدوجہد سویلین بالادستی اور ووٹ کی عزت کیلئے ہے،پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جو جماعتیں مل کر چلنے کو تیار ہیں ان کے ساتھ ہیں،انہوں نے کہا پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے مسلم لیگ (ن) اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی،اب یہ واضح ہو چکا پیپلز پارٹی اور اے این پی پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے اپنا کردار ادا کرنے پر راضی نہیں۔

 

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا ہم ملک میں فری اینڈ فیئر الیکشن کا انعقاد چاہتے ہیں،جو جماعتیں پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں یا نہیں ہیں سب نے اپنا، اپنا الیکشن لڑنا ہے،انہوں نے کہا استعفوں پر ہمارا کوئی جھگڑا نہیں تھا،پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے یوسف رضا گیلانی کو الیکشن لڑایا گیا،یوسف رضا گیلانی کو پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نےکامیاب کرایا،پی ڈی ایم نےیوسف رضا گیلانی کو صادق سنجرانی کے مقابلے میں سینیٹ الیکشن لڑایا،صادق سنجرانی کو48 اور یوسف رضا گیلانی کو 49 ووٹ ملے،اپوزیشن کے 7 ووٹوں کو مسترد کردیا گیا جس سے صادق سنجرانی کامیاب ہوئے،بعد ازاں پیپلز پارٹی نے یوسف رضاگیلانی کو حکومتی اتحاد کے ووٹوں سے اپوزیشن لیڈر سینیٹ بنوایا،یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر سینیٹ بنانے میں اے این پی اورجماعت اسلامی نے بھی کردار ادا کیا،یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کیلئے حکومتی اتحاد سے سازباز کی گئی۔

 

انہوں نے کہا پی ڈی ایم نے پیپلز پارٹی اور اے این پی سے وضاحت طلب کی جسے شوکاز نوٹس قرار دیا گیا،اگر ہماری وفاداری پر شک کیا جا رہا ہے تو بلاول بھٹو پی ڈی ایم کی میٹنگ میں آکر بتائیں بی اے پی کے ووٹ کیوں حاصل کئے،اگر بی اے پی کے 4 ووٹ اپوزیشن اتحاد میں شامل ہوگئے ہیں تو ہماری اکثریت بنتی ہے،پیپلزپارٹی آئے اور کل صبح ہی صادق سنجرانی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لائے،رانا ثنا اللہ نے کہا اس روز بھی تلخی اس بات سے ہوئی جب آصف زرداری اندر میٹنگ کر رہے تھے اور باہر وہ نشر ہورہی تھی،نوازشریف کسی بھی وجہ سے ناراض نہیں ہیں،پیپلز پارٹی اگرسمجھتی ہے کہ پی ڈی ایم کا جھگڑا شو کرکے وہ بات چھپالے گی تو یہ چھپ نہیں سکتی۔


ای پیپر