Mushtaq Sohail, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
12 اپریل 2021 (11:47) 2021-04-12

پی ڈی ایم صرف 6 ماہ کی عمر میں اللہ کو پیاری ہوگئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ پیدائش کے وقت کیا جوش و جذبہ دیکھنے کو ملا تھا خوشیاں منائی گئیں، مٹھائیاں تقسیم ہوئیں۔ مولانا فضل الرحمان بزرگ تھے پرورش کی ذمہ داری ان کو ملی انہوں نے ہی کان میں اذان دی۔ درازی عمر کی دعا کی۔ مگر اللہ کو یہی منظور تھا۔ بن کھلے مر جھا گئی۔ سانحہ ارتحال افسوسناک، اپوزیشن حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ مولانا غم سے نڈھال، سربراہ تھے غم دیدنی، ناقابل بیان انہوں نے گھر میں اپنے آپ کو قرنطینہ کرلیا۔ پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی۔ کیا کیا باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی کومل جوئیہ نام کی شاعرہ کی غزل نظر سے گزری۔ مطلع حسب حال لگا ’’منسوب چراغوں سے طرفدار ہوا کے، تم لوگ منافق ہو منافق بھی بلا کے‘‘ پتا نہیں شاعرہ کا مخاطب کون تھا لیکن ساری علامات تو اپنوں میں ملیں۔ سیاست دان ادھر کے ہوں یا ادھر کے بغل میں چھری منہ پر بھائی جان، رات دن ایک دوسرے کو گرانے میں مصروف، پی ڈی ایم اے این پی کے علیحدگی کے اعلان سے اوندھے منہ گری تو تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا، اللہ بخشے بڑی پر جوش تھی سوچا تھا چند دن ہلا گلا رہے گا لیکن وہ تو ٹھس ہوگئی۔ ٹائیں ٹائیں فش، شیخ صاحب کی باچھیں کھل گئیں، آپا فردوس خوشی سے ’’پھولی نہ سمائیں‘‘ ایک محترم نے صدا لگائی حکومت گرانے نکلے تھے خود ہی گر گئے۔ ادھورے قافلے سے منزل کیسے ملے گی۔ بقول شاعر ’’دیے جلائے تو انجام کیا ہوا میرا، لکھا ہے تیز ہوائوں نے مرثیہ میرا‘‘ مرثیہ تمام ہوا لیکن حیرت نے پوچھا پی ڈی ایم یعنی پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ یعنی پاکستانی جمہوری تحریک واقعی ختم ہوگئی؟ امید نے کہا پتا نہیں پھر پوچھا کیا پی ڈی ایم اب تک باقی ہے؟ جواب ملا پتا نہیں، پتا کیا ہے؟ پتے کی بات یہ ہے کہ بقول غالب ’’ہاں کھائیو مت فریب ہستی، ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے‘‘ اے این پی علیحدہ ہوگئی۔ پیپلز پارٹی علیحدگی پر تلی بیٹھی ہے شاید کالم کی اشاعت تک آر پار ہوجائے جس کے ساتھ ہاتھ ہوا وہ حیرت میں گم جس نے ہاتھ کیا وہ اپنی ’’سیاسی پختگی‘‘ پر نازاں، علیحدگی کی فوری وجہ دونوں پارٹیوں کو اظہار وجوہ کے نوٹس کیوں دیے گئے۔ یعنی’’ سبک سربن کے بھی نہ پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو‘‘ سینیٹ انتخابات نے کچے اتحاد کی دیوار گرا دی۔ رضی اختر شوق نے کہا تھا۔ ’’دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی، لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے‘‘ یاروں نے اتحاد کے خاتمہ کے بینڈ باجے بجا دیے۔ ہر دوسرے ٹی وی چینل پر بھڑاس نکالی جا رہی ہے۔ ان انتخابات میں قائد حزب اختلاف کے چنائو سے بات بگڑی، پیپلز پارٹی نے سربراہ اجلاس کے فیصلے کے برعکس یوسف رضا گیلانی کو اپوزیشن لیڈر بنانے پر اصرار کیا۔ فیصلے کے مطابق چیئرمین سینیٹ پی پی اور اپوزیشن لیڈر ن لیگ سے ہونا تھا۔ بد قسمتی سے گیلانی چیئرمین کا الیکشن ہار گئے 7  ووٹ مسترد ہوئے شور مچا لیکن مسترد کیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیوں نہ کیا گیا۔ اس کے بجائے گیلانی کو قائد اپوزیشن بنانے کی ضد، حکمران اتحادی باپ کے 5 ووٹ لیے اور اپوزیشن لیڈر بن گئے۔ وفاقی وزیر کا پروٹوکول ملے گا ن لیگ 

منہ دیکھتی رہ گئی۔ مریم نواز نے لکیر کھینچ دی پیپلز پارٹی اپنے گھر خوش، بلاول بھٹو کامیابی پر اتنے جذباتی ہوئے کہ اکیلے موجودہ حکومت سے لڑنے کو تیار، یوسف رضا گیلانی نے جانے کیسے کہہ دیا کہ ضرورت پڑی تو حکومت کی بھی آواز بنیں گے۔ شاید 5 ووٹوں کا قرض چکانا چاہتے تھے یہیں سے دراڑ پڑی۔ مولانا نے پی پی اور اے این پی کو شوکار نوٹس دیے۔ یہی نوٹس علیحدگی کی وجہ بن گئے۔ کیسا شاندار اتحاد تھا کہ شامل پارٹیاں جو مرضی کریں ان سے پوچھا نہ جائے کہ آپ کے منہ میں دانت کتنے ہیں۔ اور ان دندان آز سے کس کس کو کاٹ رہے ہیں۔ پی ڈی ایم میں شامل سارے جغادری اور بقول شخصے دس ہزار سال قبل مسیح کے بزرگ لیڈر کم عقل، 32 سالہ نوخیز لیڈر آئن اسٹائن کہا کہ جمہوری انداز میں تحریک کیسے چلانی ہے۔ یہ صرف ہم جانتے ہیں پنجاب میں سلیکٹڈ وزیر اعلیٰ کو گرا کر آگے بڑھتے اور اسلام آباد پہنچتے ہی حکمران خود بھاگ جاتے۔‘‘ جذباتی فیصلے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ پنجاب میں 6 ارکان اسمبلی وزیر اعلیٰ کو کیسے گرائیں گے۔ شہنائی کے شور میں طوطی کی آواز، دیکھیں، ’’سلیکٹڈ وزیر اعلیٰ‘‘ کو کب اور کیسے گراتے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ کوئی جواب نہیں، اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ۔ اپنے اپنے مفادات اپنے اپنے رابطے، سب کچھ سیاسی پسپائی کا نتیجہ، کھیر پکائی جتنوں سے دلیہ بن گیا۔ پی ڈی ایم مفادات کے حصول کے لیے بنائی تھی؟ مفادات حاصل ہوگئے۔ سارا فائدہ پیپلز پارٹی نے اٹھایا، اول آخر نقصان ن لیگ کو ہوا۔ ن لیگ ہی ہمیشہ نقصان کیوں اٹھاتی ہے؟ بابا جی سے پوچھا بولے ن لیگ کا بیانیہ بڑی حد تک نظریاتی، آئینی تقاضوں کے مطابق لیکن رویہ غیر لچکدار دور اندیشی کی کمی، وقت پر فیصلے کرنے کی سمجھ نہیں، سیاست کو ہمیشہ بازیچہ اطفال سمجھا اور نقصان اٹھایا۔ عوام شخصیت سے پیار ضرور کرتے ہیں لیکن شخصیت منظر سے غائب ہوجائے تو مایوس بھی جلد ہوجاتے ہیں اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگتے ہیں۔ جن کے ہاتھ باگ ڈور ہے وہ جھکانے کی کوششوں میں لگے ہیں لیکن بقول ن لیگی لیڈروں کے اب کیا جھکیں گے تین بار زمین چاٹ چکے ہر بار یہی ہو رہا ہے۔ دو تہائی اکثریت سے حکومت بنائی تینوں بار بیک جنبش قلم توڑ دی گئی۔ کبھی ہائی جیکر کبھی غدار اب تا حیات نا اہل اور اشتہاری، سزا دینے والا دبائو کے اعترافات کے بعد اللہ کو پیارا ہوگیا۔ سزا باقی، بابا جی بولے پتر ایسا کیسے چلے گا۔ بابا جی پرانے دور کے بزرگ 2018ء کے بعد سے تو ایسا ہی چل رہا ہے۔ پی ڈی ایم کی شکل میں اپوزیشن نے بھاری پتھر گرانے کی کوشش کی تھی حکومت چند دن پریشان رہی مگر بیل منڈھے نہ چڑھ سکی کسی مالی نے تنے پر ضرب لگائی اتحادیوں میں فساد پھیل گیا۔ اب اپنے اپنے گھر کے باہر بیٹھ کر ’’سلیکٹڈ‘‘ کے خلاف نعرے لگائیں گے۔ غلطی کس کی ہے؟ کسی کی بھی ہو پوری اپوزیشن خمیازہ بھگتے گی، نیب نے تمام اپوزیشن لیڈروں کے کیسز ٹیبل پر رکھ لیے ہیں کہنے کو جہانگیر ترین بھی ریڈار پر ہیں لیکن آپا فردوس کو یقین ہے کہ انہیں جلد ہی کلیئرنگ سرٹیفکیٹ مل جائے گا۔ ویسے بھی پنجاب اسمبلی کے بائیس اور قومی کے آٹھ ارکان ان کے پیچھے ہیں۔ انہیں کچھ ہوا تو تحریک انصاف پیچھے رہ جائے گی۔ بعض بہی خواہوں کا خیال ہے پی ڈی ایم اللہ کو پیاری نہیں ہوئی دو دھڑوں میں بٹ گئی ہے یہ اوربھی برا ہوا بے ضرر بنا دی گئی۔ پی ڈی ایم سے دو جماعتیں بیک آئوٹ کر گئیںاب پانچ جماعتیں اپنے 27 سینیٹروں کے ساتھ آزاد گروپ کی شکل میں سینیٹ میں موجود رہیں گی۔ دونوں جماعتوں ن لیگ اور جے یو آئی کے پاس افرادی قوت موجود ہے پانچ جماعتوں کی پی ڈی ایم ایک طرف دو جماعتوں پیپلز پارٹی اور اے این پی کی ترقی پسند پی ڈی ایم دوسری طرف حکومت کا کیا بگڑے گا اول آخر نقصان اپوزیشن کا ہوگا۔ جلتی پر تیل چھڑکنے والے مسلسل اسپرے کرنے اور آگ بھڑکانے میں لگے۔ حافظ حسین احمد نے بھی ایک بوتل اٹھا رکھی ہے ان کے نزدیک غیبت حرام سگے بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف لیکن ’’سیاسی غیبت‘‘ جائز بلکہ ضروری، صورتحال دھماکہ خیز عقل و دانش سے کام لیا جائے ورنہ ’’دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی اگر کچھ رابطے باہم نہ ہوں گے۔ اپوزیشن لیڈروں کو اطمینان سے بیٹھ کر بلکہ لیٹ کر آنکھیں بند کر کے سوچنا چاہیے کہ ’’سفر میں کچھ نہ کچھ تو بھول ان سے بھی ہوئی ہے، جو پیچھے تھے وہ سب آگے نکلتے جا رہے ہیں۔ عدم اعتماد اور حکومت گرانے کے افرادی فیصلے بھیانک خواب ثابت ہوں گے جن کی تعبیر صرف پشیمانی ہوتی ہے۔ جہاں تک حکومت کے گرنے کا تعلق ہے وہ اپوزیشن سے نہیں اپنے بوجھ سے گرے گی کب گرے گی جب حکم ہوگا۔ 


ای پیپر