Khalid Minhas, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
12 اپریل 2021 (11:41) 2021-04-12

پیروں کے نیچے سے ریت آہستہ آہستہ کھسک رہی ہے اور ایک وقت آئے گا کہ پیر جمانے کے لیے جگہ کم پڑ جائے گی۔ ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی سبکی ہوئی اور عوامی جماعت ہونے کا بت پاش پاش ہو گیا۔ ترین کے معاملے کو فی الحال ایک طرف رکھیں ۔ کیا عمران خان کے لیے یہ سوچنے کا مقام نہیں ہے کہ پنجاب اور وفاق میں ہوتے ہوئے وہ ضمنی الیکشن میں کیونکر ہار گئے اور خاص طور پر ان حالات میں جب سب کی نظریں اس الیکشن پر لگی ہوئی تھیں۔ ڈسکہ کے الیکشن کے بعد حکومت کے چلے جانے کی امید کرنا خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں ہے لیکن اس نے حکومت اور اس کے بیانیے کو بہت کمزور کر دیا ہے۔تمام تر حکومتی وسائل کے باوجو د پی ٹی آئی کا امیدوار جیت کی سیڑھی نہیں چڑھ سکا اور ۹۹ پر جا کر واپس صفر پر آ گیا۔ظاہرے شاہ اور ان کا خاندان ایک عرصہ سے یہاں سے جیتتے آ رہے ہیں لیکن پی ٹی آئی تو اس طرح کے جدی پشتی سیاست کو ختم کرنے آئی تھی۔ یہ سوچنا بھی ضروری ہے کہ سیالکوٹ میں پی ٹی آئی کے امیدوار مسلسل شکست سے کیوں دوچار ہیں۔ عثمان ڈار اور فردوس عاشق اعوان کا جادو سرچڑھ کر کیوں نہیں بول رہا۔ ٹی وی پر ان کے بلند بانگ دعوئوں کو پاکستان کے عوام کیونکر قبول کریں گے جبکہ خود ان کے حلقے کے عوام ان کو منہ لگانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔؎

اس نشست کے جیتنے سے قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی نشستوں کی تعداد میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو گا لیکن اس نشست کے آنے سے مسلم لیگ ن کے بیانیے کو تقویت ضرور ملی ہے اور مسلم لیگ ن ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو کیش کرانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ ن نے ڈسکہ کے عوام کو الیکشن سے پہلے ہی باور کرا دیا تھا کہ مسلم لیگ ن کی جیتی ہوئی نشست پر دھاندلی ہوئی ہے اور پولنگ کے عملے کو دھاندلی کے خوف سے چھپا دیا گیا تھا۔ تحریک انصاف اور عمران خان کو چاہیے کہ وہ ان اسباب کا جائزہ لیں جو اس حلقے میں شکست کا سبب بنے۔اگر گوجرانوالہ ڈویژن جہاں سے مسلم لیگ ن ہمیشہ اکثریتی پارٹی رہی ہے اگر تحریک انصاف کی ترجیح نہیں ہے تو پھر آئندہ بھی یہاں سے اسی قسم کا نتیجہ ہی برآمد ہو گا۔ صرف طفل تسلی کا دور گذر گیا اب کچھ کرنے کی تیاری کریں یا پھر رخت سفر باندھ لیں۔ ڈسکہ کے انتخابات کے بعد اپنی حکمت عملی کو دوبارہ سے ترتیب دیں۔اگر موجودہ حکومت صرف اس طبقے پر ہی اپنا انحصار کرنا چاہتی ہے جس کے لیے مہنگائی اور ترقیاتی منصوبے کوئی اہمیت نہیں رکھتے تو پھر عوام کے پا س جانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کریں۔ جب تک عوام کو ریلیف نہیں ملے گا کانوں کو خوش کرنے کی باتیں کسی کام کی نہیں۔ابرار الحق کے گانوں پر کچھ دیر کے لیے رقص تو کیا جا سکتا ہے مگر اس کے بعد پیٹ کھانے کے لیے مانگتا ہے۔ 

عمران خان اور تحریک انصاف کی حکومت مشکل میں ہے کوئی اسے تسلیم نہ بھی کرے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جہانگیر ترین کے معاملے نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ ترین کے حوالے سے بہت سی خبریں گردش کر رہی ہیں مگر حکومت کے ہوتے ہوئے جس طرح حکومتی جماعت کے اراکین نے جہانگیر ترین کا ساتھ دیا ہے اس سے لگ یہی رہا ہے کہ جہانگیر ترین کے ساتھ معاملات درست نہ ہوئے تو جہانگیر خان ترین پارٹی کے اندر ہی الگ گروپ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔تحریک انصاف کے منتحب اراکین اسمبلی اس بات سے نالاں ہیں کہ حکومت کو غیر منتخب مشیر چلا رہے ہیں اور انہیں کوئی پوچھتا نہیں۔اس گروپ کا گلہ ہی یہی ہے کہ تحریک انصا ف میں موجود پیراشوٹ گروپ تمام فیصلے کروا رہا ہے ۔جہانگیر خان ترین اور عمران خان کے رشتوں میں دراڑ پڑ چکی ہے اور ترین نے ٹی وی پر کہا ہے کہـ ہم دوست تھے اور دوست کو دشمن مت بنائیں۔اپنے خلاف ہونے والی کارووائی کوجہانگیر خان ترین انتقامی کارووائیوں سے تعبیر کر رہے ہیں اور صاف کہا ہے کہ ا ن کے خلاف ایف آئی آر ٹیلیفون پر ہدایات کی روشنی میں درج کی جا رہی ہیں۔ جہانگیر ترین کا تحریک انصاف میں موجود گروپ سیاست میں کوئی ہلچل مچاتا ہے یا کچھ عرصہ بعد چپ سادھ لیتا ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا مگر یہ بات طے ہے کہ جہانگیر خان ترین تحریک انصاف سے مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی کا انتخاب نہیں کریں گے۔ان کے کھانے اور ناشتے اگر جاندار اور شاندار رہے تو پھر وہ پارٹی کے اندر ہی پارٹی بن جائیں گے ۔ اس سارے عرصہ میں وہ پوری طرح جان چکے ہیں کہ پارٹی کو کس طرح چلانا ہے۔ ان کا جہازاگر حفیظ شیخ کو ہرانے کے لیے استعمال ہوا ہے تو دوسری طرف اسی جہاز کی سواری سے عمران خان ایوان اقتدار تک پہنچنے میں بھی کامیا ب ہوئے ہیں۔ سیدی ہارون رشید نے عمران اورجہانگیر خان ترین کی دوری کی وجہ جہاز کو ہی قرار دیا ہے۔

تحریک انصاف کا ورکر بہت مایوس ہے۔ کچھ تو اپنے آپ کو کوس رہے ہیں۔ عمران خان ان کی مشکل کو بھی سمجھیں۔ وہ وزیراعظم ہائوس سے بنی گالا کا سفر اپنے جن مصاحبین کے جلو میں کرتے ہیں وہ تو انہیں سب اچھا کی رپورٹ ہی دے رہے ہیں او ر حضور کا اقبال بلند ہو کے نعرہ مستانہ لگاتے ہیں لیکن ورکر تو عوام میں موجود ہیں وہ عوام کو کیا جواب دیں۔ سوائے مایوسی کے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔لنگر خانے اور پناہ گاہیں عوام کے لیے نہیں ہیں۔گھروں کی تعمیر کے لیے قرضوں کی اسکیم بھی عام آدمی کو ریلیف نہیں دے سکے گی کہ اس میں جو شرائط رکھی گئی ہیں وہ لوگوں کے لیے پورا کرنا مشکل ہے ۔روٹی کپڑا اور مکان محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک فلسفہ ہے جسے پیپلزپارٹی تو سمجھ نہ سکی عمران خان کیا سمجھیں گے۔عمران خان صرف روٹی پر ہی نظر رکھیں اور یہی کام کر لیں تو ان کے سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ روٹی صرف دس سے بارہ روپے کرنے کا نام نہیں بلکہ وہ حالات اور اسباب پیدا کرنے کا نام ہے جس میں کوئی بھوکا نہ سوئے۔حفیظ شیخ کی شکست تو اقتدار کی غلام گردشوںمیں ہونے والی محلاتی سازشوں کی وجہ سے ہوئی ہے مگر ڈسکہ کی شکست تو اپنے اعمال کی وجہ سے ہوئی ہے۔جہانگیر ترین کو کٹہرے میں کھڑا کیا تو ان لوگوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیجیے جو عوام کے لیے مشکلات کے اسباب پیدا کر رہے ہیں ورنہ میر تقی میر کے اس شعر کو یاد رکھیں 

عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا

جی کا جانا ٹھہررہا ہے صبح گیا یا شام گیا


ای پیپر