لاک ڈاو¿ن کا حل : مشترکہ سماجی ذمہ داری
12 اپریل 2020 2020-04-12

کیا یہ ملانصیرالدین والی صورتحال نہیں کہ جب انہوں نے ایک مقدمے میں مدعی کی بات سنی تو کہا، تم درست کہتے ہو۔ ملزم نے اپنا مدعا پیش کیا توبولے، تُم بھی ٹھیک کہتے ہو اور جب کسی سیانے نے مُلا سے پوچھا، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک مقدمے میں دونوں فریق ہی درست ہوں تو مُلا تُرنت بولے، تُم بھی ٹھیک کہتے ہو۔ بات یوں ہے کہ میں طبی ماہرین کی باتیں سنتا ہوں، چین امریکا برطانیہ اٹلی اسپین اور ایران سمیت نجانے کہاں کہاں سے آنے والی خبریں سنتا ہوں تو کہتا ہوں کہ لاک ڈاو¿ن کو نہ صرف برقرار بلکہ مزید سخت ہونا چاہئے اور جب اپنے اقتصادی ماہرین اور تاجروں کو سنتا ہوں تو کہتا ہوں کہ لاک ڈاو¿ن کو ختم ہونا چاہئے، یک دم نہیں ہوتا تو کم از کم مرحلہ واراور بتدریج تو ضرور ہونا چاہئے۔

لاک ڈاو¿ن کی حمایت یا مخالف کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے کہ اسے حکومت کی حمایت یا مخالفت سمجھا جائے کہ اگر یہ سمجھا جائے کہ حکومت عمران خان کی ہے تو پھر عمران خان تو لاک ڈاو¿ن کے حامی ہی نہیں ہیں مگر اس کے باوجود لاک ڈاو¿ن موجود ہے، عمران خان نے جب یہ کہا کہ وہ لاک ڈاو¿ن ختم کرنا چاہتے ہیں تو اسی روز انہی کے ایک وزیر نے اس میں دس سے بارہ روز کی توسیع کر دی لہذا یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ لاک ڈاو¿ن پر حکومت کی کوئی پالیسی ہی نہیں ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر گالی گلوچ بریگیڈکو علم ہی نہیں ہے کہ اس نے لاک ڈاو¿ن کی حمایت کرنے والوں کو گالیاں نکالنی ہیں یا مخالفت کرنے والوں کو۔ ان بچاروں کو یہی کنفیوژن جہانگیر ترین کے معاملے میں بھی رہی اور وہ آخرتک کوئی ’ٹرینڈ‘ نہ بنا سکے۔

طبی ماہرین کہتے ہیں کہ جب تک کرونا کی ویکسین ایجاد نہیں ہوتی تب تک فرد سے فرد کا فاصلہ برقرار رکھنا ہی بچاو¿ کا واحد طریقہ ہے مگر سو فیصد تو یہ بھی کام نہیں کرتا۔ مجھے اکیڈمی آف فیملی فزیشنز کے صد ر طارق محمود میاں، میو ہسپتال لاہور کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر اسد اسلم خان اور وائے ڈی اے پنجاب کے پیٹرن انچیف ڈاکٹرعاطف مجید چوہدری جیسے سیانوں نے کنفرم کیا ہے کہ اگر ایک کرونا پیشنٹ کسی جگہ چھینک کر چلا جاتا ہے تواس کا وائرس تین گھنٹے تک وہاں فضا میں معلق رہتا ہے اور آنے جانے والے صحت مند افراد کو بیمار کرسکتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کیا ہم سعودیہ کے شاہی خاندان سے زیادہ محتاط ہوسکتے ہیں جنہوں نے کرونا سے ڈرتے ہوئے اللہ رب العزت کے گھر کو بھی بند کر دیا مگر وہ پھر بھی محفوظ نہ رہ سکے۔ امریکی میڈیا کے مطابق شاہی خاندان کے ڈیڑھ سو افراد کرونا پازیٹو ہوچکے۔ برطانوی وزیراعظم آئی سی یو میں جا کے واپس آ چکے اور کرونا کے خلاف سے سب سے متحرک حکومتی عہدے داروزیراعلیٰ سندھ اپنے بہنوئی کی کرونا سے ہلاکت کے بعد ان کی نماز جناہ پڑھ چکے مگر ان مثالوں کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم نے احتیاط نہیں کرنی، خود کوبیماری کے سامنے بطور تحفہ پیش کردینا ہے۔اس امر کی عقلی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی کہ آپ چلتی ہوئی ٹرین کے آگے لیٹ جائیں اور کہیں کہ اگر اللہ نے بچانا ہوا تو بچا لے گا۔ یہ شان اللہ کی ہے کہ وہ بندے کو آزمائش میں ڈالے، یہ مقام بندے کانہیں کہ وہ رب کا امتحان لے۔

میں اقتصادی ماہرین اور تاجروں کی باتیں سنتا ہوں تو میرا دل دہل جاتا ہے۔ ہمارے دروازے پر بدحالی اور غربت دستک دے رہی ہے۔ہم بار بار غریب اور مزدور کی بات کرتے ہیں مگر وطن عزیز میں حکومت کی ناقص ترین پالیسیوں کی وجہ سے گرتی ہوئی جی ڈی پی اور گروتھ ریٹ کے بعد لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی مڈل کلاس ہوگی جس نے گذشتہ بائیس، تئیس برسوں میں رفتہ رفتہ خوشحالی اور استحکام حاصل کئے۔ میں ملا نصیرالدین کی طرح سمجھتا ہوں کہ طبی ماہرین بھی درست کہتے ہیں اور اقتصادی ماہرین کی باتیں بھی درست ہیں۔ طبی ماہرین ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا خدشہ بیان کرتے ہیں کہ پچیس اپریل تک پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد پچا س سے اسی ہزار تک ہو سکتی ہے اور اقتصادی ماہرین کہتے ہیں کہ اگر لاک ڈاو¿ن جاری رہا تو اب کوئی کارخانہ دار اور تاجر اپنے ملازم کو تنخواہ نہیں دے سکے گا ۔ ہوسکتاہے کہ لوگ کرونا سے بچ جائیں گے مگرانہیں بھوک اور غربت کا شیش ناگ نگل لے گا۔

ریاست ( یا زیادہ واضح الفاظ میں ) حکومت کے لئے آگے کنواں اور پیچھے کھائی والی صورتحال ہے۔ کراچی اور لاہور کے متعدد تاجر رہنما پندرہ اپریل سے کاروبار دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں اور یوں بھی حکومت نے کاروبار کی اجازت دینے کے حوالے سے اک منافقانہ حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے۔ ہر روز کچھ صنعتوں یا کاروباروں کے لاک ڈاو¿ن سے استثنیٰ کے نوٹیفیکیشن جاری کر دئیے جاتے ہیں اور ان میں باقاعدہ فیکٹریوں کے نام درج ہوتے ہیں یعنی ایک ہی کاروبار میں کچھ کو اجازت ہے توباقیوں کو نہیں ہے ۔ ہمارے بہت سارے دوست کہتے ہیں کہ ان اجازت ناموں میں بڑی ہیر پھیر ہے، بڑا مال بنایا جارہا ہے۔ کرونا بہت ساروں کو غریب اور بہت ساروں کو امیر کرنے کے لئے آیا ہے۔ جیسے ظفر مرزا اینڈ کمپنی کے مشہو ر زمانہ معاملات۔ یہ وہ حکومتی عمائدین ہیں جنہوں نے پہلے ماسک بیرون ملک سمگل کروائے اور جب یہ خبر عالمی سطح پر پھیلی کہ اینٹی ملیریل میڈیسن کرونا میں موثر ہے تو تین اپریل کو اس کی ایکسپورٹ پر لگائی گئی پابندی کو چھ اپریل کو اچانک ختم کر دیا۔ اس مرتبہ اینٹی ملیریل میڈیسن اور ان کا خام مال جہازوں کے جہاز بھر کے بھیجا گیا اور چار روز کے بعد ووبارہ پابندی کا اعلان کر دیا گیا۔

بہرحال آپ نااہل کہیں یا کرپٹ، ہمیں فی الوقت اسی انتظامیہ کے ساتھ آگے بڑھنا ہے اور میرے پاس کوئی جواز نہیں کہ میں کھمبیوں کی طرح ابھرنے والے یوٹیوب صحافیوں کی ان اطلاعات پر یقین کروں کہ عمران خان اسمبلیاں توڑنے کے لئے ایڈوائس صدرمملکت کو بھیج چکے ہیں۔ اب راستہ یہی ہے کہ ہم طبی اور اقتصادی ماہرین دونوں کو ہی اپنی اپنی جگہ سچا سمجھیں اور بیچ کا راستہ نکالیں۔ بیچ کا یہ راستہ ’سوشلی شئیرڈ رسپانسبی لیٹی‘ کے ذریعے ہی نکل سکتا ہے یعنی ہم اپنی سماجی اور کاروباری تنظیموں کو اپنا ساتھی اورمدد گار بنائیں۔ مثال کے طور پرکسی بھی مارکیٹ میں نمائندہ تاجر تنظیم اس امر کو یقینی بنانے کی ذمہ داری اٹھائے کہ وہاں سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے گا، جراثیم کش سپرے ہوگا، ہر دکاندار صابن اور سینی ٹائزر کی فراہمی یقینی بنائے گا اور ماسک کے بغیر مارکیٹ میں انٹری ممنوع ہو گی تو وہاں کاروبار کھول دیا جائے۔ افسوس ہم بلدیاتی اداروں اور مقامی حکومتوں سے محروم ہیں جبکہ بیوروکریسی کے چنگل میں پھنسی ہوئی بڑی حکومتیں عوام سے بہت فاصلے پر ہوتی ہیں۔وکلا کی تنظیمیں ماتحت اور اعلیٰ عدالتوں میں ذمہ داریاں لیں اوراسی طرح محکمہ صحت میں ڈاکٹروں نرسوں اور پیرامیڈکس کی تنظیموں کو اپنے ساتھ ملایا جائے جس سے نہ صرف کاروبار زندگی بحال ہوگا بلکہ ایک دوسرے پر نظر رکھنے سے چیک اینڈ بیلنس بھی آئے گا ۔حاصل کلام یہ ہے کہ جو کام آپ ڈنڈے سے لینا چاہتے ہیں وہی کام آپ پیار، محبت، اعتماد کے ساتھ ذمہ داریاں تقسیم کر کے بھی لے سکتے ہیں۔

اگر طبی ماہرین کہتے ہیں کہ لاک ڈاون ہی واحد حل ہے تو وہ درست ہی کہتے ہوں مگر ہمیں اس کے ساتھ ساتھ اپنی معیشت کو بھی دیکھنا ہے۔ جب امریکا جیسے ملک کا سربراہ ریکارڈ مریضوں کے باوجود کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے ملک کی معیشت کھولنے کا فیصلہ کرنے جا رہا ہے توہمارے جیسے غریب ملک لاک ڈاو¿ن جیسی عیاشی کب تک برداشت کرسکتے ہیں۔ ہمیں مشترکہ سماجی ذمے داری کو اپنانا اورلاک ڈاو¿ن کو صرف متاثرہ علاقوںتک محدود کرنا ہوگا۔ ہم سوشلی شئیرڈ رسپانسی بیلیٹی کافریم ورک بنانے میں جتنی تاخیر کریں گے عملی طور پر جناب عمران خان کی ان باتوں کو درست ثابت کرنے کے سوا کچھ نہیں کرپائیں گے جو وہ وطن عزیز میں کروناسے ممکنہ تباہی اور بربادی بارے فرمارہے ہیں۔ آپ ہی بتائیے، ہمیں اپنے وزیراعظم کے بیانات کے بعد بدخواہی کے لئے کیاکسی دشمن کی ضرورت رہ جاتی ہے ؟


ای پیپر