مہنگائی، عوام اور حکومت کی ترجیحات!!!
12 اپریل 2019 (00:26) 2019-04-12

حافظ طارق عزیز:

اسٹیٹ بینک کی حالیہ ششماہی رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا تسلسل درست سمت میں نہیںہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی قومی پیداوار ہدف سے تقریباً آدھی(3.5 فیصد)، مہنگائی گزشتہ چار برسوں میں دگنی(8.2 فیصد)، محصولات کی وصولی میں بڑی کمی(331ارب روپے)، قرض کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات میں اضافہ اور ترقیاتی پروگرام کے لئے نصف سے زیادہ کٹوتی، روپے کی ڈالر کے مقابلے میں بے قدری اب 143روپے سے بھی کہیں آگے رواں۔ پھر بھی بجٹ خسارا بڑھتا ہوا۔ دوستوں کی گیارہ بارہ ارب ڈالرز کی سودی خیرات کے باوجود توازنِ ادائیگی خستہ حال اور 3300ارب روپے کے مزید قرضے۔ پھر بھی حکمران اشرافیہ کے چار بڑے حصہ دار سول و ملٹری، نوکر شاہی، سرمایہ دار اور زمیندار) اپنی استحصالی ہٹ پہ قائم اور بلکتے عوام پہ مزید بوجھ ڈالنے پہ کمربستہ۔ تنخواہیں اور مزدوری وہی پرانی، لیکن روپے کی بے قدری سے قوتِ خرید ایک سال میں 38فیصد کم۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئیں، لیکن تیل، گیس کی قیمتوں کا بم پھر بھی عوام پہ گرا دیا گیا۔ گیس کی قیمت 140فیصد بڑھانے کی تیاری ہے۔ اور پھر سوچیے مہنگائی کیا اودھم مچانے والی ہے۔ تمام تر آسائشوں اور رعایتوں کے باوجود صنعتی پیداوار میں اضافے کی نصف کمی اور زراعت کی خبریں اچھی نہیں۔ اوپر سے آئی ایم ایف چھریاں لیے تیار۔ وہ کیوں مفت خوروں کی معیشت کے خساروں، غیر پیداواری اللے تللوں یا پھر کرایہ (حرام) خوروں کے بے انت شکموں کو بھرے۔ چونکہ چار مفت خوروں پہ مشتمل حکمران اشرافیہ اپنی مالیاتی مشکیں کسنے سے رہی یا پھر حقیقی اصلاحات پر تیار نہیں۔ لہٰذا بیرونی و اندرونی خسارے اُن غریبوں سے ہی پورے کیے جائیں گے، جن کے 43فیصد بچے بھوک کے ہاتھوں سوکھے کا شکار ہیں یا ذہنی و جسمانی طور پر مفلوج۔ جن کے بچوں کے لئے اسکول ہیں نہ اسپتال اور جن کی مائیں مسلسل زچگیوں اور کم خوراکی کے ہاتھوں مری جاتی ہیں۔ یہ سب چیزیں ایک طرف لیکن حکومت کا فوکس پوائنٹ وہیں کا وہیں ہے کہ ”چوروں“ سے پیسے وصول کیے جائیں۔

اس حوالے سے ایک مثال دیتا چلوں کہ فلمیںیا ڈرامے اکثر اوقات ہمارے معاشرے کے عکاس ہوتے ہیں، ان میں اکثر کہانیاں ماضی سے لی جاتی ہیں ،جن کا ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ یہ ذہن میںہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی ہیں، ماضی کی ان کہانیوں پر بننے والی فلمیں بزنس بھی خوب کرتی ہے۔ تحقیق سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عوام کا رجحان کرائم سین کی طرف زیادہ ہوتا ہے اور ایسی فلمیں جن میں ”چور“ اپنا ”ٹیلنٹ“ دکھاتا اور پولیس کو بے وقوف بناتا ہے وہ زیادہ ہٹ ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک فلم بالی ووڈ نے کچھ سال قبل ریلیز کی جس کا نام Den of Thievesیعنی چوروں کا اڈا ہے۔ اس فلم کا ہر ایکشن کمال کا ہے، اس فلم کی کہانی بینک ڈکیتی کی منصوبہ بندی کرتے ایسے چوروں کے گِرد گھومتی ہے جو گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں، جو بینک ڈکیتی میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں، اُن میں سے کچھ پکڑے بھی جاتے ہیں، عدالتیں اُنہیں سزائیں بھی دے دیتی ہیں مگر وہ پھر چھوٹ جاتے ہیں۔ سب کو علم ہوتا ہے کہ وہ چور ہیں، ادارے چیختے چلاتے ہےں کہ اُنہیں کیوں چھوڑا گیا ہے؟ مگر اُن کی لابی کام دکھا دیتی ہے اور جن کے لیے وہ کام کرتے ہیں وہ انہیں ہر ”شر“ سے بچا لیتے ہیں ۔

ویسے میں فلمیں دیکھنے کا زیادہ شوقین نہیں مگر کبھی کبھی کیبل پر ”چینل گردی“ کرتے وقت کوئی اچھی مووی سامنے آجائے تو اُسے ”ممنوعہ“ قرار بھی نہیں دیتا۔ خیر یہ فلم مجھے اس لیے یاد آگئی کہ ہمارے وزیر اعظم بار بار یہ بات دہرا رہے ہیں کہ وہ چوری کا پیسہ نکلواکر ہی دم لیں گے ،گزشتہ روز بھی عمران خان گھوٹکی میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے کہ ”نواز شریف اور آصف زرداری اکٹھے ہوجائیں پھر بھی انہیں نہیں چھوڑیں گے ،یہ قوم آپ کو معاف نہیں کریگی، آپ کے پاس ایک ہی راستہ ہے قوم کا پیسہ واپس کر دیں،ہم انہیں چھوڑ دیں گے۔“ اب میں اس تفصیل میں نہیں جاﺅں گا کہ مذکورہ بالا فلم کا اس بیان سے کیا تعلق ہے کیا نہیں!

مگر عمران خان کے لیے یہی تنبیہ کافی ہے کہ انہیں کچھ نہیں ملنے والا۔ یہ بات میں چند ماہ قبل بھی اپنے کالم میں واضع کر چکا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ کرپٹ عناصر اپنے آپ میں ایک ادارہ بن چکے ہیں انہیں وقتی طور پر پریشان تو کیا جاسکتا ہے مگر اُن کا بال بھی بھیکا نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے وہ یہ راگ الاپنا چھوڑ دیں کہ وہ پیسہ وصول کرکے رہیں گے۔ اگر عمران خان اس ملک کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کام ضرور کر جائیں کہ آئندہ کے لیے کوئی کرپشن نہ کر سکے یا ایسا سسٹم بنا جائیں جس میں کرپشن کے چانسز صفر ہوں، تو یہ آپ کا اس ملک پر احسان عظیم ہوگا۔ لیکن اگر وزیراعظم یہ چاہتے ہیں کہ وہ ان سیاستدانوں سے پیسہ وصول کرلیں گے یا سابق حکمران عمران خان کی جھولی میں دو چار ارب ڈالر رکھ دیں گے تو ایسا دیوانے کے خواب کے سوا کچھ نہیں ہے!

درحقیقت پاکستان میں کرپشن سے زیادہ بڑا مسئلہ احتساب کا منصفانہ، شفاف اور بلا امتیاز نظام کا نہ ہونا ہے۔ اب ہمیں یہ بات کھل کر تسلیم کرنا ہوگی کہ پاکستانی ریاست میںایک جینیاتی (GENETIC) نقص ہے۔ ایسا نقص جس میں کرپٹ عناصر کا احتساب نہ ہو سکے یا کرپٹ عناصر اس قدر طاقت ور مافیا بن چکے ہوں، وہاں آپ کیسے تصور کر سکتے ہیں کہ اُن سے لڑ کر جیت سکیں گے؟ سب جانتے ہیں کہ عمران خان ان کرپٹ عناصر کے خلاف بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں ، پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن اگر وہ پہلے سسٹم ٹھیک کر لیں اور پھر ان عناصر کی طرف آئیں تو شاید انہیں کامیابی مل سکتی ہے ورنہ بظاہر وہ ابھی تک ناکام نظر آرہے ہیں ۔

حکومت سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم کے عزائم یہ تھے کہ شریفوں اور زرداریوں کو جیل میں ٹھونس کر دم لیں گے۔ وہیں پڑے، وہ سڑتے رہیں گے۔ شریف آزاد ہیں اور ابھی تک زرداری بھی۔ ریاست کو بلیک میل کرنے کی ان کی صلاحیت باقی ہے۔ وہ اربوں، کھربوں ان کی جیبوں میں ہیں، اقتدار میں جو انہوں نے دیدہ دلیری سے حاصل کیے۔ جن میں سے بیشتر سمندر پار محفوظ ہیں۔ ایک کمپنی، اس کے اندر سے پھوٹنے والی دوسری، تیسری اور چوتھی کمپنی۔ سراغ لگانا مشکل نہیں، بعض صورتوں میں نا ممکن۔ کہنے کو آج کی دنیا ناجائز دولت کے لیے غیر محفوظ ہے۔ جن ممالک میں مگر یہ دولت پڑی ہے، واپسی کے لیے وہ ایک کمزور حکومت سے کیوں تعاون کریں۔ کشکول اٹھائے جو ایک کے بعد دوسرے دروازے پر دستک دیتی ہے۔ پھر ان کے چاہنے والے اور خیر خواہ بھی ہر ملک میں موجود ہیں جو دوسری حکومتوں کو بھی تعاون سے روک دیتے ہیں۔ اور جب انہیں احتساب کے ادارے یا عدالتیں پکڑ لیں تو پھر ان کی بیماریاں بھی عروج پر پہنچ جاتی ہیں، تاریخ گواہ ہے کہ جب جب ہمارے رہنما ، قائدین یا بیوروکریٹ قانون کی پکڑ میں آتے ہیں تو دنیا اُن کی بیماریوں کے بارے میں بھی جان جاتی ہے۔ عبدالحمید بھاشانی جنہیں ”سیاسی بیماری“ کا بانی مانا جاتا ہے کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا وہ جب بھی ملک میں ہنگامی صورتحال ہوتی تو اکثر بیمار پڑ جاتے تھے اور ہسپتال میں داخل ہوکر سیاسی مصیبت کے ٹلنے کا انتظار کرتے تھے اس طرح پکڑ دھکڑ سے بھی بچ جاتے تھے۔ اُنہوں نے آنے والی سیاست میں ایسا رنگ بھرا کہ پھر اگلی کئی سیاسی پیڑیاں اُن کی مرید ہوگئیں۔

ان کی دیکھا دیکھی دیگر سیاست دانوں نے بھی سیاسی بیماری اپنا لی۔ ضیا ءالحق کے دور میں جب بیگم نصرت بھٹو گھر میں قید تھیں تو پروفیسر نیک محمد نے ان کے کان کی بیماری کی تشخیص کی کہ ان کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے۔ تو ان کو علاج کیلئے بیرون ملک روانہ کر دیا گیا۔اس کے بعد ان کا کیا علاج ہوا یا نہیں کسی کو نہیں معلوم۔ البتہ ضیا ءالحق کے جہاز کے حادثے کے بعد جب پی پی پی کی حکومت برسراقتدار آئی تو پروفیسر نیک محمد کو محترمہ بے نظیر بھٹو نے ڈائریکٹر ہیلتھ بنا دیا۔ پھر سابق صدر آصف علی زرداری کو 2مرتبہ لمبی قید کاٹنا پڑیں تو ان کا زیادہ وقت ان کے دوست ڈاکٹر عاصم کے اسپتال یا پمزمیں گزرا۔ رہائی کے بعد ڈاکٹر عاصم وزیر پٹرولیم پھر سینیٹر ،چیئرمین پاکستان میڈیکل سرجن وغیرہ وغیرہ سے نوازے گئے، اگر چہ وہ بعد میں عتاب میں بھی آئے مگر انہوں نے پی پی پی کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ اسی طرح مشرف جو غداری اور لال مسجد جیسے مقدمات میں مطلوب ہیں، عدالتوں کی اجازت سے بیرون ملک علاج کے لیے گئے اور پھر واپس نہ آئے۔ آپ نواز شریف کو دیکھ لیں۔ خودان کا کہنا ہے کہ انہوں نے آج تک پاکستان میں علاج نہیں کرایا وہ جب بھی جیل جاتے ہیں ان کی بیماری چند ہی دنوں میں واپس آجاتی ہے۔ اس سے قبل بھی وہ کئی مرتبہ لندن اپنے اور مرحومہ بیگم کے علاج کے سلسلے میں جاتے رہے ہیں اور انہوں نے بائی پاس بھی وہاں کے نجی اسپتال میں کروایا اور خوب اپنے چاہنے والوں سے ہمددریاں سمیٹیں۔ مگر جب وہ پاکستان کی جیل میں قید ہوئے تو انہیں دنیا کی کئی بیماریاں لاحق ہوگئیں۔

ان کے سمدھی اسحاق ڈار بھی علاج کیلئے لندن گئے اور وہ آج تک بیمار ہیں۔ حنیف عباسی کو دیکھ لیںانہیں بھی جیل میں کافی صحت کے مسائل کا سامنا ہے، میاں منظور وٹو نے 1992ءمیں مسلم لیگ سے بغاوت کر لی تھی تو اُس وقت وہ بیمار ہوگئے مجھے یاد ہے میں خود اُن کی ”تیمارداری“ کے لیے جایا کرتا تھا۔ اسی طرح سا بق وزیر اعظم محمد خان جونیجو مرحوم کی بیماری بھی یاد ہوگی۔ سابق صدر آصف علی زرداری اپنے لئے ملکی حالات ناساز دیکھ کر ”علاج “کیلئے بیرون ملک روانہ ہوجاتے ہیں اور پھر حالات اُن کے حق میں ہونے پر وہ واپس آجاتے ہیں۔ شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصم اور بیشتر رہنماسیاسی بیماریوں کا شکار رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام مریضوں کو ، اگر کوئی یقین دلا دے کہ وہ اپنا کھیل کھل کر کھیلیں،کوئی گرفت نہیں ہو گی تو کل ہی سب کے سب ہٹے کٹے دکھائی دیں گے۔ ان کے لیے ماحول ساز گار بنانا چٹکیوں کا کھیل ہے۔ یہ اپنی ذات کی خاطر پیسہ پانی کی طرح بہانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ۔ لہٰذا ابھی عمران خان اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ ان عناصر سے نبردآزما ہوسکیںاور جب ملک کی بڑی بڑی عدالتیں ان سے پیسہ نہیں نکلوا سکیں تو وہ کیسے نکلوا سکتے ہیں؟

ان سب سے ہٹ کر آپ اندازہ لگائیں کہ تفتیش کرنے والوں اور جن سے تفتیش کی جا رہی ہے اُن کا آپس کا موازنہ کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک مڈل کلاس تفتیشی ان کھرب پتی افراد کی تفتیش کر سکے؟ کتنے تفتیشی افسران اس ”کھیل“ میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ پھر اداروں نے زرداری کو گیارہ سال تک جیل میں رکھا ، اُن کا نام مسٹر 10پرسنٹ رکھ دیا گیا ، تو کیا اُن سے آج تک ایک فیصد بھی نکلوایا جا سکا ہے؟سسٹم کی کمزوری کا اندازہ یہاں سے لگا لیں کہ سینکڑوں جعلی اکاﺅنٹس پکڑے گئے ہیں مگر آپ کچھ نہیں کر سکتے۔

ہمیں زمینی حقائق سے نظریں نہیں چرانی چاہیئں اور ان عناصر پر مزید اربوں کھربوں روپے خرچ کرکے، اپنی توانائیاں برباد کرکے پیچھے ہٹنے سے بہتر ہے کہ عمران خان اور اُن کی ٹیم اپنا تمام تر زور عوامی فلاح پر لگائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے کیوں کہ بقول شخصے آنے والے دن تحریک انصاف کے لیے کٹھن ترین دن ثابت ہوں گے!!!


ای پیپر