نواز شریف کے سیاسی مستقبل کا بڑا فیصلہ تیار
12 اپریل 2018 (22:02) 2018-04-12

اسلام آباد:جہانگیر ترین بھی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل ہوئے تھے، نواز شریف پہلے فیصلے پر سیاست اور پارٹی صدارت سے فارغ ہوئے تھے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق کیس کا فیصلہ جمعہ کو سنائے گی۔ سپریم کورٹ نے 14 فروری کوفیصلہ محفوظ کیا تھا۔ یاد رہے کہ آئین ے مذورہ آرٹیل ے تحت سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور پی ٹی آئی رہنما جہانگیر خان ترین و بھی نااہل یا گیا تھا۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 14فروری 2018 کو آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے اپنے دلائل مکمل کیے تھے جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ کل کاسپریم کورٹ کا فیصلہ نوازشریف اور جہانگیر ترین کی سیاسی مستقبل کا حتمی فیصلہ کر ے گا کہ وہ الیکشن لڑ سکیں گے یا نہیں۔

وزیراعظم نواز شریف اور تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو آئین کی اسی شق یعنی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہل کیا گیا تھا۔ جس کے بعد اس بحث کا آغاز ہوا کہ آیا سپریم کورٹ کی جانب سے ان افراد کو تاحیات نااہل قرار دیا گیا یا یہ نااہلی کسی مخصوص مدت کے لیے ہے۔ اس شق کی تشریح کے حوالے سے سپریم کورٹ میں 13 مختلف درخواستوں پر سماعت جاری ہے۔ سپریم کورٹ میں یہ درخواستیں دائر کرنے والوں میں وہ اراکینِ اسمبلی بھی شامل ہیں، جنہیں جعلی تعلیمی ڈگریوں کی بنیاد پر نااہل کیا گیا۔ ان درخواستوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا قانون ختم کرکے اس کی مدت کا تعین کیا جائے۔

تاہم واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کے لیے عدالتی کارروائی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ 6فروری کو عدالت عظمی میں جمع کروائے گئے اپنے جواب میں نواز شریف نے موقف اختیار کیا تھا کہ کئی متاثرہ فریق عدالت کے روبرو ہیں، وہ ان کے مقدمے کو متاثر نہیں کرنا چاہتے۔


ای پیپر