د ھند لا سیا سی مستقبل
12 اپریل 2018

اس وقت اسمبلیو ں کی مدت ختم ہو نے میں ایک ماہ اور حکو متِ حا ضر ہ کی آ ئینی مد ت ختم ہو نے میں لگ بھگ پا نچ ما ہ کا عر صہ رہ گیا ہے۔حیر ا ن کن طو ر پر اسی دوران جنو بی پنجا ب کو ملک کا نیا صو بہ بنا نے کا مطا لبہ شدت اختیا ر کر گیا ہے۔ اگر اس مطا لبے کی ٹایمئنگ پر غو ر کیا جا ئے تو ہم دیکھتے ہیں کہ 2013میں جب پیپلز پا ر ٹی کی حکو مت ختم ہو نے کو تھی اور نئے انتخا با ت کا شو رو غو غا اپنے عر و ج پر تھا ، تب بھی جنو بی پنجا ب کو نیا صو بہ بنا نے کے مطا لبے میں شد ت آ گئی تھی۔ اور اِس با ر شد ت کا یہ عا لم ہے کہ حکو متی پا رٹی مسلم لیگ ن کے نو ار کا نِ اسمبلی اپنے عہد و ں سے اچا نک مستعفیٰ ہو چکے ہیں۔یہا ں تک کہ ملک کے سا بق وز یرِا عظم بلخ شیر مز ا ری جنو بی پنجا ب محا ز کے چیئر مین مقرر ہو چکے ہیں۔ خوا ہ کچھ بھی ہو، اب جبکہ الیکشن سر پر آ ن پہنچے ہیں، اس تما م تر صو ر تِ حا ل کا نقصا ن صر ف مسلم لیگ ن کو پہنچے گا۔ اسی تنا ظر میں د یکھا جا ئے تو پاکستان کا سیاسی منظر نامہ دن بد ن دھندلا ہوتا جارہا ہے اور غیر یقینی صو رت حا ل میں شد ت بدستور موجود ہے۔ افواہیں اور قیاس آرائیاں گردش میں ہیں۔ سینیٹ کے الیکشن ہوچکے ہیں اور سینیٹ میں اکثریت رکھنے والی حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین لانے میں ناکام رہی ہے۔ اس حوالے سے بھی سیاست میں ایک پراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ ادھر ملک میں سیاسی فضا میں کبھی جوڈیشل مارشل لاء کی باتیں گردش کرتی ہیں اور کبھی ٹیکنو کریٹ سیٹ اپ کی باتیں ہوتی ہیں۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت سے معیشت دباؤ میں آرہی ہے۔ گو ملک کے ادارے اور سیاسی جماعتیں جمہوریت کے ساتھ اپنی وابستگی کو پورے عزم کے ساتھ دہرا رہے ہیں لیکن ملک میں افواہیں بدستور جاری ہیں اور مختلف قسم کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس مخد و ش سیا سی کیفیت کا سب سے برا اثر ملک کی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ ملک میں کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ رہی ہیں۔ سٹاک مارکیٹ کا اتار چڑھا ؤ ایک مصنو عیت کا شکا ر ہے۔ معیشت پر چینی ساخت کی اشیاء کا بوجھ بڑھ رہا ہے جبکہ مقامی مینوفیکچرنگ انڈسٹری مسلسل زوال پذیر ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی معیشت روز بر وز چینی اشیاء کی در آ مدا ت کے بو جھ تلے د بتی جا ر ہی ہے۔ دو سر ے لفظو ں میں پاکستا ن چین اور دیگر ملکوں کی کنزیومر مارکیٹ بن چکا ہے۔ درآمدات اور برآمدات کے درمیان تفاوت مسلسل بڑھ رہا ہے۔ امپورٹ بل مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ملک پر قرضوں کا حجم خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ملکی معیشت کے تمام شعبے یکساں رفتار سے ترقی نہیں کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال ملک اور عوام کے لیے اچھی نہیں ہے۔ ملک میں بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ ڈاکٹرز اور انجینئرز بے روزگار ہیں اور ان کے لیے سرکاری اور نجی شعبہ دونوں میں نوکریاں نہیں ہیں۔
دو سری جا نب جب ہسپتا لو ں اور شفا خا نو ں میں علا ج معا لجہ کی نا قص سہو لتو ں کا ذکر کیا جا ئے تو سب سے پہلے ڈا کٹرز کی کمی کا رونا رو یا جاتا۔ یہی وہ ود غلی پا لیسی ہے جس کی بناء پر اس ملک کا ڈا کٹر و ں پہ مشتمل اعلیٰ تر ین تعلیم یا فتہ طبقہ فر سٹر یشن کا شکا ر نظر آ تا ہے۔ ملک کی کر پٹ بیو رو کر یسی نے ینگ ڈا کٹر ز کو ہڑ تا لو ں کی صو ر ت میں تپتی سڑ کو ں پر نکلنے پر مجبو ر کر دیا ہے۔ یہ ڈ ا کٹرز خو د سے سوا ل کر نے پر مجبو ر ہیں کہ ان کے ما ں با پ نے اپنا پیٹ کا ٹ کر اس لیئے اعلیٰ تسلیم دلا ئی تھی کہ وہ گھر میں ایک عا م سے کلر ک کے برا بر تنخو ا ہ لائیں؟ پاکستان کے نوجوان غیرقانونی ذرائع اختیار کرکے بیرونِ ملک جارہے ہیں اور ایسی خبریں میڈیا پر تواتر سے آتی رہتی ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ تارکین وطن کی کشتی فلاں سمندر میں ڈوب گئی اور اتنے پاکستانی ڈوب کر مر گئے۔ کہیں یورپی یا دیگر ملکوں کی سرحدی فورسز انہیں گولیاں مار کر اگلے جہاں پہنچادیتی ہیں۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے غیرہنرمند افراد کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہر ہی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے قصبوں میں بھی بھکاریوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ بیماریاں عام ہیں اور عوام کے پاس علاج کرانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ دہشت گردی کا عفریت تو موجود ہی ہے لیکن پورے ملک میں جرائم بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ خصوصاً لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کی وارداتیں بڑھ رہی ہیں۔ ادھر نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ خانگی جھگڑوں میں روزانہ درجنوں افراد قتل ہورہے ہیں لیکن ان تمام مسائل سے الگ اعلیٰ سطح پر باہمی جھگڑے جاری ہیں۔ ادارے ایک دوسرے سے ٹکرارہے ہیں۔ عدالتی نظام سیاسی مقدمات میں الجھ گیا ہے جبکہ عوام کے مقدمات التوا کا شکار ہوچکے ہیں۔ حکومتی نظام ایک طرح سے مفلوج ہوگیا ہے جس کی وجہ سے سرکاری اداروں کی کارکردگی جو پہلے ہی خراب تھی، مزید خراب ہوگئی ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جس میں عوام زندہ رہ رہے ہیں۔ اس سارے معاملے میں خرابی کہاں ہے؟ اسے تلاش کرنا حکمران طبقے کا کام ہے کیونکہ اختیار اسی کے پاس ہے۔ پاکستان کے اردگرد کے حالات بھی سب کے سامنے ہیں۔ بھارت کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ افغانستان پاکستان کے لیے شروع دن سے مسائل کا سبب ہے۔ پاکستان کی اقوام متحدہ میں مخالفت کرنے والا بھی یہی ملک تھا۔ پاکستان نے سرد جنگ میں جو پالیسی اختیار کی، اس کا خمیازہ اب بھگتا جارہا ہے۔ لاکھوں افغان مہاجر ملک کے لیے مصیبت بن چکے ہیں۔ دہشت گردی کی زیادہ تر وارداتوں میں افغان مہاجر یا فاٹا کا کوئی باشندہ ذ مہ دا ر نکلتا ہے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں نے افغان جنگ کے خاتمے کے بعد کوئی پالیسی نہیں بنائی کہ آگے کیا کرنا ہے۔ اس کی وجہ سے پاکستان میں غیرملکیوں کی بہتات ہوگئی ہے۔ افغانوں کے ساتھ ساتھ ازبک، تاجک، عرب اور افریقہ سے آئے ہوئے باشندے بھی یہاں مقیم ہوگئے ہیں۔ ستر برس گزرنے کے باوجود فاٹا اور بلوچستان کے قبائلی علاقوں کا آ ئینی سٹیٹس تبدیل نہیں کیا گیا۔ فاٹا اور بلوچستان کے باشندے پورے ملک میں آزادانہ کاروبار کرسکتے ہیں، جائیدادیں خرید سکتے ہیں، ہر قسم کی سرکاری ملازمتیں حاصل کرسکتے ہیں لیکن پنجاب، کراچی کے لوگ وہاں جاکر ایسا نہیں کرسکتے۔ اس آئینی اور قانونی ابہام نے پاکستان کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ پنجاب اور کراچی ہر قسم کا ٹیکس ادا کر رہے ہیں جبکہ ملک کا بڑا حصہ قومی خزانے میں کوئی حصہ نہیں ڈال رہا۔ وقت آگیا ہے کہ ملک کے سٹیک ہولڈرز اس صورتحال پر غور کریں اور کوئی راہ عمل تلاش کریں۔
لیکن نہیں، یہا ں تو سیا ستد ا ن ملک کی سا لمیت کو داؤں پر لگا کر سیا سی پا رٹیو ں کو بلیک میل کر نے میں مصر و ف ہیں۔ بجا کہ جنو بی پنجا ب پر معا شر تی اور معیشی مسا ئل کا غلبہ ہے، مگر انتخا با ت کے مخصو ص ایا م میں شد ت سے اچھا لنا کچھ اور ہی بیا ن کر تاہے۔ د لچسپ امر تو یہ ہے کہ ایک ر و ز سیا سی پنڈ ت ایک سیا سی پیشن گو ئی کر تے ہیں، مگر اگلے رو ز ہی اس کی نفی ہو جا تی ہے!


ای پیپر