نسوانیت کی موت ۔۔۔(گزشتہ سے پیوستہ )
12 اپریل 2018

مرد نے کہا کہ بس تم گھر سے نکل آؤ۔ میرے ساتھ رہو۔۔۔ جدھر نظر اٹھاؤں۔۔۔ وجودِ زن کا رنگ آنکھوں کو رونق بخشے۔ میں خوراک کے ذائقے کی کمی برداشت کر لوں گا۔ کپڑے مشین میں خود دھو لوں گا۔ کاموں میں ہاتھ بٹا دوں گا۔ تم میرے ساتھ رہو۔۔۔ ترقی اور آزادی، حقوقِ نسواں اور مساوات کے رنگ رنگیلے ناموں پہ آزادئ نسواں پروان چڑھی۔ بلکہ پھریرے لہراتی پوری دنیا پر چڑھ دوڑی۔ سوائن فلو کی طرح متعدی بیماری بن کر زندہ معاشروں میں موت ، تقسیم کرنے لگی۔ تہذیب فرنگی ہے اگر مرگِ امومت ہے حضرت انساں کے لیے اس کا ثمر موت ، جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت ، اربابِ نظر تو مغرب میں بھی بہت چیخے چلائے۔ لیکن ان پر دقیانوسیت کی پھبتی کس کر، جدت اور جدیدیت کی رنگینیوں کی جگمگاہٹوں میں ذہن ماؤف کر ڈالے۔ مرد و زن کو یکساں تعلیم تربیت دی۔ کھیل کے میدان، فنونِ لطیفہ کے نام پر تہذیب کی بدترین کثافتوں میں عورت کو لا لتھیڑا۔ مردانہ وار تعلیم کی مصروفیت اور مرد سے مسابقت کے شوق نے لطیف مادرانہ جذبات کو کچل کر رکھ دیا۔اولاد کی فطری خواہش کو سر اٹھانے سے پہلے دبا دیا گیا۔ اسقاطِ حمل کی سہولت فراواں کی ۔ خاندانی منصوبہ بندی کی ایجادات نے انسانیت کش سامان فراہم کیے۔ ایک مسئلہ مخلوط تعلیم ، ہمہ گیر اختلاط سے حرام بچوں کی آمد کا تھا۔ جسے روکنے تھامنے کو کم عمری میں جنسی تعلیم او ر تعلیمی اداروں میں فیملی پلاننگ کی ضروریات کی فراہمی کا بندوبست ہوا۔ ادارے بنے۔ حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں۔فوسٹر کیئر (نگران والدین) کا نظام قرار پایا۔ ڈے کیئر کی آیاؤں نے پرائے بچے پالنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ ابتداءً شاید وہاں بھی نانیاں، دادیاں ہوتی ہوں گی۔ تاہم جلد ہی نانیاں دادیاں ملازمتوں اور پھر اپنی دوستیاں نبھانے میں یوں بے پناہ مصروف ہوئیں کہ بچے کرائے پر پلنے لگے۔ اگلی نسل میں بچے پیدا بھی کرائے پر ہونے لگے۔ رحم بکے۔ بچے پیدا کرکے دینے کی نوکری بھی ایجاد ہو گئی۔ کھیل کے میدانوں نے رہی سہی نسوانیت بھی ختم کر دی۔ اب عورت نسوانیت ، حیا، لطافت، تحمل، صبر، ایثار ، عمیق جذبات اور قدرت کی ودیعت کردہ جذباتیت (پرورش اولاد کی خاطر)کھو چکی تھی۔ یہ مرد مار قسم کی مخنث عورت فطری کشش کھو کر مدمقابل بن چکی تھی۔ اس کے سر چڑھے پن کے ہاتھوں ہوتی قانون سازیاں، شادی کے مقدس بندھن کو مرد کے استحصال کا ایک آلہ بنا چکی تھیں۔ مرد طلاق دیتا تو عمر بھر کی پونجی گنوا بیٹھتا۔ بلا اجازت قرب کا حق بھی نہ تھا اس کے لیے بھی خوفناک اصطلاحیں وجود میں آ چکی تھیں۔ عورت کے عشوے غمزے تہذیب کی ساری حدیں پار کیے اشتہاری جنس بن چکے تھے۔ عورت بکرے کی طرح عضو، عضو(By Parts) بک رہی تھی۔ کہیں سالم دم پخت مہنگے داموں اور کہیں شانے، دستی، پائے، ران کے دام الگ الگ وصول کرتی بل بورڈوں پر چڑھی، فلم ، فیشن کو تارے دکھاتی۔ حیا باختہ ترین کچرے کا نام ستارہ (Star)اور بڑی شخصیت (Celebrity)نامور فنکارہ قرار پایا۔بدنام ہوئے ہم تو کیا نام نہ ہو گا۔ جن کا ڈسا ہوا پانی نہیں مانگتا! اب عورت بیزاری شروع ہو گئی۔ کھلونے کی طرح کھیل لیا۔ پھینک دیا۔ طبیعت اوب گئی۔ اکتاہٹ ہونے لگی۔ جاپانیوں کو دیکھئے۔ اپنی دنیا میں گم رہنے کو ماسک پہننے والے تاکہ کسی کو مسکراہٹ کا تحفہ بھی نہ دینا پڑے۔ کانوں پر ہیڈ فون چڑھائے منہ ڈھانپے مردم بیزار ! (ان کے منہ ڈھانپنے پر کسی کو اعتراض نہیں!)یہی وہ المناک موڑ تھا جہاں انسانیت مر گئی۔ مرد نے عورت پر تین حرف بھیج کر خود بحر مردار سے ملعون تہذیب نکالی اوڑھ پہن لی۔ پہلے پہل معاشرے نے قے کر دی۔ نفرین بھیجی۔ لیکن تابکے۔۔۔ ؟ بالآخر یہی چلن بنتا گیا۔ مرد سے مرد کی شادی اور ضد میں عورت کی عورت سے شادی۔ قانون بن گئے۔ چرچوں میں بھی اجازت مل گئی! پھر مردوزن نے کتے، کتیوں (حقیقی) سے ، کینگرو سے ، پل سے ، تکیے سے شادی کر لی۔ جاپان میں بڑی بڑی گڑیاؤں سے شادی۔ کرائے کے دلہے سے شادی جسے تقریب کا گلیمر لوٹ کر، تحفے وصول کرکے تصویریں کھنچوا کر پیسے دے کر رخصت کر دیا۔ بچوں کو بہت جی چاہا تو حرام کے بچے آج بھی فراواں ہیں۔ دو مردوں کے جوڑے نے گود لے لیے۔
حضرت انسان کے لیے اقبال کے فرمودہ ثمر ، موت کا مزہ دنیا چکھ رہی ہے۔ نسوانیت کی موت نے انسانیت کو موت کی تاریک وادیوں میں دھکیل دیا۔ دنیا پاگل ہو چکی ہے۔ عورت برہنہ مخبوط الحواس کریہہ منظر پھر رہی ہے۔ لاکھوں فحش ویب سائٹس، سائنس کی مکروہ ترین ایجادات کا حصہ ہے۔اربوں ڈالر کی صنعت ہے۔ منشیات کی صنعت دنیا کے کروڑوں انسانوں میں دیوانگی اور موت بانٹ رہی ہے۔ ماں کے ہاتھ کے پکے خوشبودار مہکتے غذائیت سے بھرپور کھانوں کی جگہ فاسٹ فوڈ بھی موت کی سوداگری ہے۔برطانوی صحافی (۲۴ سالہ) نے ایک ہفتہ تجربے کی خاطر صرف پیزا برگر چپس ڈائٹ کوک پیپسی (میکڈونلڈ اور کے ایف سی سے ) پر گزارنا طے کیا۔پہلے اور بعد میں کلینک سے معائنہ کروایا۔ بہترین صحت کی مالک فیب جیکسن چوتھے دن ہی کمزوری سے اس حال کو پہنچ گئی کہ بستر سے (کمزوری مارے) اٹھنا مشکل۔ چہرہ بے رونق، بال کھردرے اور جلد کھانوں کی طرح چکنی ہو چکی تھی! (ہمارے ہاں تو بازاری کھانوں میں اب گدھے کا گوشت، مردار مرغیاں اور کیا کچھ مزید نہیں!)
المیہ تو یہ ہے کہ آج یہ ساری حرماں نصیبی گلوبل ویلج کے بن ماں کے پلے دیوانے چودھریوں کے ہاتھوں دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل چکی ہے۔ پاکستان بھی اس کی زد میں ہے۔ اور اب سعودی عرب پر بھی یہی یلغار ہے۔ جنوں کا نام خرد رکھ دیا خرد کا جنوں۔ دہشت گردی کی آڑ میں یہ پاگل پن مزید دوآتشہ ہو گیا۔ عورت پر بے حیائی، بے حجابی مسلط کرنا انسداددہشتگردی (Counter Terrorism) قرار پا گیا۔ ہمیں دھتکارتے حقیر کرتے امریکیوں کی رضا کی خاطر سندھ پولیس نے (CTD)سیمینار منعقد کرکے ۴۰ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اکٹھے کیے۔ اس کی آڑ میں توپوں کے سارے دہانے اسلام ، دروس، دینی تربیت، حجاب، نقاب، ڈاڑھی پر کھول دیے۔ اکا دکا میزائل مزاج (لاکھوں طلبا طالبات
میں سے !) نوجوانوں کو ایمان اور حیا سے نتھی کرکے اسے روکنے تھامنے کے اقدامات کے فرامین صادر فرمائے۔ لبرل ترقی پسندانہ رویوں اور رجحانات کی حوصلہ افزائی کرنے کو کہا۔ پہلے ہی تعلیم او ر تعلم کا گلا گھونٹ کر یونیورسٹیاں کالج رنگ و خوشبو میں غرق عشق عاشقی عیاشی فحاشی پروان چڑھانے کے ادارے بن چکے ہیں۔ جا بجا طالبات جنسی ہراسانی کے عذاب میں مبتلا ہیں خود اساتذہ کے ہاتھوں!ہم بگٹٹ انہی راہوں پر آج دین ایمان اپنی شناخت بھلائے دوڑے چلے جا رہے ہیں جن پر قومی خودکشی کے دہانے پر بیٹھے مغربی ممالک چل کر تباہ ہوئے ہیں۔ طلاق کی شرح ہمارے ہاں بھی خوفناک ہو چکی ہے۔ عورت دیوانہ وار تلاش معاش میں دوڑ رہی ہے۔ بچے رل رہے ہیں۔ کردار سازی ایسے میں کہاں ۔۔۔ ! بچے سسک سسک کر عدالتوں میں خلع طلاق کے کیسوں میں جدا ہوتے ماں باپ کو دیکھتے اور کہتے ہیں۔ الفت کی نئی راہوں پہ چلا یوں بانہیں ڈال کے بانہوں میں گھر توڑنے والے دیکھ کے چل ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں، آج دنیا کچرا دان، کوڑا دان بن چکی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق: ’نیک بندے ایک ایک کرکے دنیا سے گزرتے چلے جائیں گے یہاں تک کہ کچرے کے سوا کچھ باقی نہ رہے گا جیسے کھجور یا جو کا کچرا۔ اللہ اس بات کی پروا نہ کرے گا کہ انہیں کس وادی میں ہلاک کرے‘۔ اسے کچرادان بنانے میں جہاں نیکوکاروں کے اٹھ جانے کا حصہ ہے (مذکورہ حالات ہی بھلے آدمی کو مار ڈالنے کو کافی ہیں! صرف سوٹڈ بوٹڈ گلیمر بھرا کچرا باقی ہے!) وہاں دنیا کو اس حال کو پہنچانے میں عورت کا کردار(یا بے کرداری کہہ لیجیے) بہت بڑا ہے۔ اس کا علاج۔۔۔ ؟ وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی! اپنی ماؤں سیدہ مریمؑ ، سیدہ ہاجرہؑ ، سیدہ خدیجہؓ، سیدہ فاطمہؓ کا پاکیزہ نسوانی مامتا بھرا اسوہ لوٹانے کی ضرورت ہے۔ یہی حج اور عمروں کا حاصل ہے۔ یہی ہمارا رول ماڈل ہے۔ قوم ماں کی گود سے پل کر نکلتی ہے۔ بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن ہے عشق و محبت کے لیے علم و ہنر موت اولاد کو فتنہ دجال کی آندھیوں میں پروں کے نیچے چھپا کر پالیے۔ کمتر معیارِ زندگی (قبول ہو) اور برتر معیارِ بندگی کو شعار بنائیے۔ میڈیا کے مسموم و مذموم اثرات سے بچائیے۔ قرآن و سنت ر گ و پے میں اتارئیے۔ پورے اعتماد سے مومنین و مومنات، قانتین و قانتات بنا کر پالیے۔ معترضین دیوانی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی بات پر کان نہ دھریے! کہاں اسلام کی حیا دار ،عفت مآب محفوظ پاکیزہ عورت۔ کہاں مغربی معاشروں کے لنڈے بازار کی رگیدی بے وقعت عورت، بھوکی نگاہوں کے داغوں بھری چیچک زدہ عورت۔ چہ نسبت خاک را بہ عالمِ پاک (ختم شد)


ای پیپر