تارکینِ وطن کا حقِ رائے دہی
12 اپریل 2018 2018-04-12

مجھے یاد پڑتا ہے کہ 20 مارچ 2013ء کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے منگل کے روز قرار دیا تھا کہ ’ووٹ دینا سب پاکستانیوں کا حق ہے اور سہولتیں دینا حکومت اور الیکشن کمیشن کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے اس پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، اڑھائی سال کا عرصہ گزر گیا الیکشن کمیشن تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کے حوالے سے ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا ، اصل سٹیک ہولڈرز ، ووٹرز اور 18 کروڑ عوام ہیں‘۔تب سپریم کورٹ نے تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق طریق کار وضع کرنے کیلئے الیکشن کمیشن کو ایک ہفتے کی مہلت دیدی۔ سماعت کے دوران ڈی جی الیکشن کمیشن شیر افگن پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ’12 مارچ کو الیکشن کمیشن کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کے معاملے پر غور کیا گیا اور یہ طے پایا کہ قانون سازی کے بغیر تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت دینا مشکل ہے، ایک ٹیم بنا دی ہے جو اس کا طریق کا روضع کرے گی، 45 لاکھ ووٹرز رجسٹرڈ ہیں جبکہ31 لاکھ17 ہزار کے مستقل اور موجودہ پتے پاکستان کے درج ہیں، ویب سائٹ ہیک ہونے کے خدشے کے پیش نظر انتخابی فہرست ویب سائٹ پر نہیں ڈالی گئی‘۔

یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حب الوطنی ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔ وطن عزیز کو جب بھی کسی ناگہانی زمینی و آسمانی آفت کا سامنا کرنا پڑا یا کسی آڑے وقت میں ان کی مدد کی ضرورت محسوس ہوئی تو دیارِ غیر میں سرد و گرم موسموں کی حدت و شدت کا سامنا کر کے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے روزگار کمانے والوں نے اپنی جمع پونجی نچھاور کرنے میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں کی۔ ہماری حکومتیں اس پر تو اتراتی نہیں تھکتیں کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ تارکین وطن ہی کا مرہون منت ہے لیکن مقام حیرت ہے کہ یہی حکومتیں آج تک تارکین وطن کے حق رائے دہی کے استعمال کے

لیے کوئی مربوط اور فول پروف نظام وضع نہیں کر سکیں۔ یہ ا مر مزید حیرت کا باعث ہے کہ الیکشن کمیشن کو عدالت عظمیٰ نے 2010ء میں اڑھائی برس قبل ہی ہدایت کی تھی کہ وہ تارکینِ وطن کے حق رائے دہی کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ لیکن اڑھائی برس بعد الیکشن کمیشن کے ڈی جی کی جانب سے عدالت کو یہ اطلاع فراہم کرنا کہ قانون سازی کے بغیر تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت دینا مشکل ہے، الیکشن کمیشن کے تساہل اور تغافل کا آئینہ دار ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان اڑھائی برسوں میں الیکشن کمیشن نے ارکان پارلیمنٹ کی توجہ اس امر کی جانب مبذول کیوں نہیں کر ائی کہ تارکین وطن کو ووٹ کی سہولت دینے کے لیے قانون سازی کی جائے۔ ارکانِ پارلیمنٹ نے عدالتی حکم کے باوجود قانون سازی نہ کر کے اپنے فرائض منصبی کماحقہٗ ادا نہیں کیے حالانکہ یہ اراکین پارلیمنٹ اور اُن کے منتخب کردہ وزیراعظم اور دیگر وزراء جب بھی مغربی ممالک، امریکی ریاستوں، متحدہ عرب امارات یا مشرق وسطیٰ کے ممالک کے دورے پر جاتے اور اُن کے اجتماعات سے خطاب کرتے تو اُنہیں یقین دلاتے کہ دہری شہریت کے باوجود غیر ممالک میں آباد پاکستانیوں کو الیکشن کے موقع پر حق رائے دہی کے استعمال کے لیے اقدامات کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا جائے گا۔بدقسمتی سے ن لیگ کی حکومت نے بھی اپنے عہد حکومت میں اس ضمن میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وطن عزیز کے لئے بے پناہ محبت رکھنے والے ان تارکین وطن کو ارباب حکومت کس قانون، قاعدے اور ضابطے کے تحت ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ جن مشکلات کو ان کے حق رائے دہی استعمال کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنا کر پیش کر رہے ہیں وہ ایسی نہیں کہ انہیں پارلیمان قانون سازی کر کے دور نہ کر سکتی۔ حالانکہ یہ مسئلہ 2010ء میں بھی اٹھایا جارہا تھا۔ عالم یہ ہے کہ اپنے مفاد کی تکمیل ،مراعات کی تحصیل اور گروہی مقاصد کو قانونی بنانے کے لئے ارکان پارلیمان مختصر ترین وقت میں قانون سازی کر لیتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے متعدد مرتبہ انہوں نے آئینی تقاضوں کی بھی پروا نہیں کی۔ اگر وطن عزیز میں حالات سازگار ہوں، تعلیم یافتہ اور ہنرمند شہریوں کے لئے روزگار کے سنہرے مواقع موجود ہوں تو کوئی ایک پاکستانی بھی کسی دوسرے ملک کی شہریت لینے کے لئے کبھی درخواست گزار نہ ہو۔ البتہ اس میں اڑھائی فیصد استحصالی مراعات یافتہ مقتدر طبقات شامل نہیں ہیں۔

سب جانتے ہیں کہ مارچ 2012ء کے تیسرے ہفتے میں چیف جسٹس آف پاکستان نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایسا نظام وضع کرے کہ ہر رجسٹرڈ ووٹر اپنا ووٹ ڈال سکے۔ اصل مسئلہ تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینا ہے۔ یہ ان کا حق ہے اسے کسی بھی حکومت یا ادارے کو بھیک کی طرح دینے سے اجتناب برتنا چاہئے۔ یہ 2013ء کے الیکشن کمیشن کا فرض منصبی تھا کہ وہ بیرون ملک مقیم44 لاکھ پاکستانیوں کے حق رائے دہی کے استعمال کے لئے پارلیمنٹ، وزارت قانون اور وزارت خارجہ کے ساتھ مل کر طریق کار طے کرتا۔دوہری شہریت کے حامل ووٹرز کو کسی بھی طور حق رائے دہی سے محروم نہیں کرنا چاہئے۔ جس انتظام کے تحت امریکہ دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں، کاروباری حضرات اور فوجیوں کو ہر چار سال بعد ووٹ دینے کا اہتمام کرتا ہے اس ضمن میں اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس کے اس سوال میں بھی مسئلہ کا حل موجود تھا کہ ’’کیا ای پیپر کے ذریعے ووٹ کاسٹ نہیں ہو سکتا؟‘‘۔

تارکین وطن کو کسی بھی طور حق رائے دہی سے محروم نہیں کرنا چاہئے۔ جس انتظام کے تحت امریکہ دنیا بھر میں موجود اپنے شہریوں، کاروباری حضرات اور فوجیوں کو ہر چار سال بعد ووٹ دینے کا اہتمام کرتا ہے اس ضمن میں اس سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔چیف جسٹس کے اس سوال میں بھی مسئلہ کا حل موجود ہے کہ ’’کیا ای پیپر کے ذریعے ووٹ کاسٹ نہیں ہو سکتا؟‘‘۔


ای پیپر