منڈل سیاست کے تیسرے دور کا آغاز!
12 اپریل 2018


ہندوستان میں ریزرویشن کی بحث بہت پرانی ہے۔ملک میں دلتوں اور پسماندہ طبقوں کو ایک لمبے عرصے تک برے حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں ریزرویشن کی شروعات 1921ء میں ہوئی جب ہندو مذہب کی اعلی ذات براہمن سے تعلق نہ رکھنے والوں کے لئے کوٹہ مخصوص کیا گیا تھا لیکن یہ صرف مدراس پریزیڈنسی تک ہی محدود تھا۔آزادی کے بعد 1950ء میں جب ہندوستان کا آئین منظور ہوا تو ایک مقررہ وقت کے لئے سرکاری اداروں میں تعلیم اور ملازمتوں کے لئے ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے دلتوں اور قبائلیوں کے لئے سیٹیں مخصوص کی گئیں۔ 1979ء میں قبائلی اور دلتوں کے حالات کا اندازہ کرنے کے لئے منڈل کمیشن تشکیل دیا گیا۔ منڈل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں قبائلی اور دلتوں کے علاوہ دیگر پسماندہ طبقے کے لئے بھی ریزرویشن کی سفارش کی اور جب وی پی سنگھ حکومت نے منڈل کمیشن کی سفارشات نافذ کرنے کی کوشش کی تواس کی زبردست مخالفت بھی کی گئی۔فی الوقت قبائلی اور دلتوں کے لئے سرکاری تعلیمی اداروں میں تقریباً 22.5 فیصد سیٹیں مخصوص ہیں ۔
دیگر پسماندہ طبقات یا او بی سی جو انگریزی کے Other Backward Castes کا اختصار ہے، اجتماعی اصطلاح ہے جسے حکومت ہند نے اُن ذاتوں کے لیے مختص کیا ہے جو سماجی اور تعلیمی اعتبار سے کمزوراور پسماندہ ہیں۔1980ء میں پیش کی گئی منڈل کمیشن رپورٹ کے مطابق ملک کی 52فیصد آبادی دیگر پسماندہ طبقات پر مشتمل ہے۔جسے نیشنل سیمپل آرگنائزیشن نے 2006ء میں 41فیصد بیان کیاتھا ۔دستور ہند میں او بی سی کو "سماجی اور تعلیمی اعتبار سے پسماندہ طبقات" قرار دیا گیا ہے ۔جس کی بنا پر حکومت ہند اُن کی ترقی کے لیے کوشاں ہے ۔عوامی شعبہ میں ملازمتوں اوراعلیٰ تعلیم میں ان طبقات کو27.5فیصد تحفظات فراہم کیے گئے ہیں۔ او بی سی کی فہرست ہندوستان کی سماجی انصاف اور تفویض اختیارات وزارت میں دیکھی جا سکتی ہے ۔کیونکہ یہ فہرست حرکیاتی ہے لہٰذاسماجی ،تعلیمی اور معاشی عوامل کی بنا پر اس میں ذاتیں اور برادریاں گھٹائی اور بڑھائی جاتی رہتی ہیں ۔ حق معلومات قانون سے پتا چلا ہے تحفظات کے باوجود صرف 12فیصد او بی سی ہی ملازمتیں حاصل کر پائے ہیں جبکہ کچھ محکموں میں یہ تناسب 6.67فیصد ہی ہے۔ 1985ء تک پسماندہ طبقات کے معاملات وزارت داخلہ کی پسماندہ طبقات کی اِکائی دیکھتی تھی۔ بعد میں ایک علیحدہ فلاح و بہبود کی وزارت 1985ء میں تشکیل دی گئی ۔جس کا مقصد درج فہرست طبقات، درج فہرست قبائل اور او بی سی کی بہبودگی پر نظر رکھنا تھا۔ وزارت کا پسماندہ طبقات ڈویژن، او بی سی کی پالیسی، منصوبہ بندی اور پروگراموں کی سماجی اور
معاشی تفویض شدہ اختیارات پر عمل درآمد اوراو بی سی کی بھلائی کے لیے کام کرتا ہے۔اس کے لیے قومی پسماندہ طبقات مالیہ و ترقی کارپوریشن اور قومی کمیشن برائے پسماندہ طبقات ،دو اہم ادارے قائم کیے گئے ہیں۔
دستور ہند کی دفعہ 340 کی رو سے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ او بی سی کی بھلائی کو فروغ دے۔صدر جمہوریہ ایک کمیشن کا قیام کر سکتے ہیں ۔کمیشن کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ پسماندہ طبقات کے حالات کو پیش کریں، ان کے سماجی اور تعلیمی حالات سے واقف کرائے،ساتھ ہی معاشی حالات اور روزگار سے متعلق اہم معلومات بھی فراہم کرے۔قائم ہونے والا کمیشن متذکرہ دائروں میں تحقیقات کرے گا اور صدر جمہوریہ کو رپورٹ پیش کرے گا جس کی روشنی میں سفارشات کی جائیں گی۔پہلا پسماندہ طبقات کمیشن 29 جنوری 1953ء میں صدارتی حکم نامے کے تحت کاکا کیلکر کی قیادت میں قائم ہوا تھا۔ اس کمیشن نے 30 مارچ 1955ء میں اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ کمیشن نے 2,399 پسماندہ طبقات یا برادریوں پر ایک مکمل رپورٹ پیش کی تھی جن میں 837 کو "سب سے زیادہ پسماندہ" قرار دیا تھا۔دوسرا پسماندہ کمیشن حکومت کی سطح پر یکم جنوری 1979ء کو صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے قائم کیا گیاتھا۔ اس کمیشن کوعرف عام میں منڈل کمیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ کمیشن بی پی منڈل کی قیادت میں قائم ہوا تھا۔اس کمیشن نے دسمبر1980ء میں اپنی رپورٹ پیش کی، جس کے مطابق او بی سی آبادی جو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں پر مشتمل ہے، آبادی کا52 فیصد فیصدحصے پرمشتمل ہے۔1979ء اور80ء میں منڈل کمیشن کی ابتدائی فہرست کے مطابق پسماندہ طبقات اور برادریوں کی کل تعداد 3,743 تھی۔تاہم پیش کردہ معلومات پر تنقید ہوئی کہ یہ "فرضی حقائق" پر مبنی ہے۔ کیونکہ نیشنل سیمپل سروے یہ اعددو شمار 32 فیصد بتاتی ہے لہٰذا اس بات پر خاطر خواہ بحث ہوئی کہ او بی سی کی تعداد واقتاً کتنی ہے؟ عام طور سے تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ لوگ قابل لحاظ ہیں، مگر منڈل کمیشن اور نیشنل سیمپل سروے دونوں ہی کے اعداد و شمار سے کم ہیں۔اس سلسلے میں27% فی صد تحفظات کی وکالت کی گئی ،لیکن چونکہ اس میں قانونی رکاوٹ تھی کہ کل تحفظات 50 فی صد سے زائد نہیں ہونے چاہئیں۔
گزشتہ دنوں انڈین ایکسپریس میں Christophe JaffrelotاورGilles Verniers کا ایک مضمون'The Representation Gapشائع ہوا۔جس میں کئی چونکانے والی باتیں سامنے آئی ہیں۔ منڈل کمیشن کے نافذ ہونے کے بعد لگاتار پسماندہ طبقات کے رکن پارلیمنٹ میں اضافہ ہوا ہے ۔یہ تعداد 2004ء کے لوک سبھا تک 26 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔لیکن 2014 ء میں یہ تعداد گھٹ کے20 فیصد سے بھی کم ہو گئی۔وہیں منڈل کے نافذ ہونے کے بعد اعلیٰ ذاتوں کی تعداد لگاتار گھٹتی رہی اس کے باوجود 2014ء میں ان کی تعداد میں بڑا اچھال آیا اور یہ بڑھ کر 45 فیصد ہو گئی، یہی حال اتر پردیش اور بہار اسمبلی ایم ایل اے کا بھی ہے ۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ 2014ء کے لوک سبھا اور 2017ء کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی دلت ووٹوں میں نقب زنی کرنے میں کامیاب رہی ہے۔اترپردیش کی 80لوک سبھا سیٹوں میں سے 17دلت سماج کے لیے ریزرو ہیں ۔بی جے پی نے یہ تمام 17سیٹوں پر اپنی سیٹ درج کی تھی۔وہیں ریاست کی 403اسمبلی سیٹوں میں سے 86سیٹیں مخصوص ہیں ۔2017ء کے اسمبلی انتخابات میں یہاں بھی بی جے پی کو 76پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔
بی جے پی کی ان تمام کامیابیوں کے باوجودحالیہ دنوں میں ایس سی ،ایس ٹی ایکٹ میں تبدیلی کو لے کر جہاں دلت طبقہ ایک بار پھر سڑکوں پر اپنی ناراضگی ظاہر کررہا ہے وہیں بی جے پی سے وابستہ دلت سیاست داں بھی حالات کا رخ بھانپ گئے ہیں۔نتیجہ میں دلت ممبران کی بظاہر ناراضگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔بی جے پی کی پہلی دلت لیڈر ساویتری بائی پھولے نے جس ناراضگی کا اظہار کیا تھا وہ اب بڑھ کر چار دلت ممبران پارلیمنٹ تک پہنچ چکا ہے۔رابرٹ گنج لوک سبھا سے چھوٹے لال وار نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر اپنا درد بیان کیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ریزرویشن کوئی بھیک نہیں ہے بلکہ نمائندگی ہے۔اگر ریزویشن کو ختم کرنے کی ہمت کی گئی تو بھارت کی سرزمین پر خون کی ندیاں بہیں گی۔وہیں اٹاوہ سے بی جے پی کے رہنمااشوک دوہرے تیسرے دلت لیڈر ہیں جو اپنی پارٹی اور حکومت سے ناراض ہیں۔دوہرے نے کہا ہے کہ 2؍اپریل کو بھارت بند کو لے کر دلتوں کے خلاف مقدمے درج کیے جا رہے ہیں اور یوپی سمیت دوسری ریاستوں میں ریاستی حکومت اور پولیس جھوٹے مقدمے میں پھنسارہی ہے۔وہیں نگینہ سے ایک اور بی جے پی دلت لیڈر یشونت سنگھ ناراض ہوچلے ہیں۔اُن کا کہنا ہے چار سال میں 30کروڑ کی آبادی والے دلت سماج کے لیے براہ راست مودی حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔قرض پوراکرنا،پرموشن میں ریزرویشن بل پاس کرنا، پرائیوٹ نوکریوں میں ریزرویشن دلانے وغیرہ مانگیں ابھی تک پوری نہیں کی گئیں۔ان تمام ناراضگیوں کے درمیان بی ایس پی سپریمو مایاوتی کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت دلت دلیروں کا قتل کر رہی ہے لیکن ایس سی ،ایس ٹی قانون میں دیے گئے حقوق کی حفاظت کے لیے دلت اور قبائلی سماج کے لوگ ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔اس پورے پس منظر میں محسوس ہو رہا ہے کہ غالباً ایک بار پھر منڈل سیاست کے تیسرے دور کا آغاز ہو چلا ہے!


ای پیپر