نصیبوں۔۔۔لال۔۔۔
12 اپریل 2018 2018-04-12

دوستو، کالم کا عنوان دیکھ کر قطعی یہ مت سمجھئے گا کہ ہم کسی گلوکارہ پر بات کرنا چاہتے ہیں، ایسا ہرگز نہیں،ہم تو آج تربوز پر بات کریں گے جو نصیبوں سے ہی ’’ لال ‘‘ نکلتا ہے۔۔۔پنجابی میں تربوز کو ’’ہدوانہ‘‘ کہتے ہیں،

عربی میں بطیخ تربوز کو کہتے ہیں۔ محد ثین نے بطیخ کو تربوز قرار دیا ہے مگر آج کل کی عربی میں بطیخ خربوزہ کو کہا جاتا ہے اور تربوز کو حب حب کہتے ہیں۔ حجازیوں نے ان دنوں عربی کے اور الفاظ میں بھی مشکل پیدا کردی ہے جیسے کہ لبن۔ پرانی عربی میں لبن دودھ کو کہتے آئے ہیں۔ آج کل دہی کولبن اور دودھ کو حلیب کہا جاتا ہے۔۔۔تربوز دنیا کے اکثر گرم ملکوں میں جب کہ مشرق وسطیٰ کے ہر ملک میں پایا جاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان میں بھی عام ملتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ریتیلے علاقوں کا تربوز زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔ دنیا میں اس وقت پاکستان کے ضلع سکھر کے علاوہ گڑھی یٰسین کے تربوز ذائقہ اور حجم میں بہترین مانے جاتے ہیں۔تربوز کی عمدگی اس کے گودے کی سرخی اور مٹھاس پر قرار دی جاتی ہے۔ ملاوٹ کے اس دور میں دیکھا گیا ہے کہ پھل فروش سرخ رنگ میں ’’سکرین ‘‘ملا کر تربوز میں انجکشن لگا کر ان کو مصنوعی طور پر سرخ اور میٹھا کرلیتے ہیں۔بنیادی طور پر یہ افریقا کا پھل ہے جو سیاحوں کی بدولت دنیا بھر میں مقبول ہوگیا۔ آج کل پاکستان میں چین کے درآمدی بیج سے چھوٹے حجم کے ایسے تربوز کثرت سے پیدا ہورہے ہیں جو لذیذ بھی ہیں۔ پھل وزنی ہونے کی وجہ سے اس کا پودا زمین پر رینگنے والا ہے۔ بیج بونے سے چار ماہ میں پھل پک کر تیار ہوجاتا ہے۔ ۔یہ تھا تربوز کا حدوداربعہ۔۔۔یہ معلومات دے کر آپ پر رعب ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے کہ دیکھ لیں ہم کتنے باخبر ہیں۔۔۔

تربوز کو کسی چنگے بھلے انسان کے منہ سے تشبیہہ دے کر بیڑا غرق کیا جاسکتا ہے، تربوز کا نہیں اس شخص کا۔۔۔ ہمارے محلے میں جس کا تربوز میٹھا نکل آتا پورے محلے میں اس کے چرچے ہوتے تھے۔۔۔ویسے تو شادی کے چار یا پانچ سال بعد ہر بیوی کی شکل تربوز یا خربوزے کی طرح ہوجاتی ہے، اس میں بعض مواقع پر استثنا بھی ہے، کیوں کہ کچھ کی شکل پپیتے جیسی بھی ہوجاتی ہے، لیکن تینوں میں قدرمشترک پلپلاہٹ ہی ہے۔۔۔ہندی فلموں میں آپ نے ہیروئنز کو توبہ شکن ملبوسات میں موج مستیاں کرتے دیکھا ہوگا، اور افسوس بھی کرتے ہوں گے اورسوچتے ہوں گے کہ یہ ناریاں ہندوستان میں اسی طرح چلتی پھرتی ہوں گی۔۔۔ تو اس پر زیادہ کف افسوس ملنے کی ضرورت نہیں۔۔۔ کیوں کہ آپ کو شاید،پھیکے خربوزے، پلپلے امرود، سوکھے ہوئے کینو ، بھربھرے سیب ، اور اندر سے سفید تربوز کھانے کا اتفاق نہیں ہواہوگا، ایسا ہی معاملہ ہندوستانی ناریوں کے ساتھ ہے۔۔۔

مشہور ہے کہ ایک بار ایک شخص نے بہلول سے کہا۔ ۔اے دانا بہلول، میرے پاس کچھ رقم ہے، مجھے مشورہ دو کہ میں کیا خریدوں کہ اس سے نفع حاصل کرسکوں۔بہلول نے اْس شخص کو جواب دیا۔روئی اور لوہا خرید لو۔وہ شخص روئی اور لوہا خرید لیتا ہے۔ اتفاق سے کچھ ہی دن میں روئی اور لوہے کی قیمت بڑھ جاتی ہے جس سے اْس شخص کو کافی منافع حاصل ہوتا ہے۔ وہ شخص دوبارہ بہلول کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے۔۔۔ اے دیوانے بہلول، میرے پاس کافی رقم ہے۔ مجھے مشورہ دو کہ کیا خریدوں جس سے نفع حاصل ہو۔یہ سن کر بہلول اسے کہتا ہے کہ پیاز اور تربوز خرید لو۔وہ شخص اپنی پوری رقم پیاز اور تربوز کی خریداری میں لگا دیتا ہے۔ کافی دن گزرجاتے ہیں۔ خریدار تو کم آتے ہیں لیکن پیاز اور تربوز گَل سڑ کر خراب ہو جاتے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ شخص غصے میں بہلول کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے۔ ۔جب میں نے پہلی مرتبہ آپ سے مشورہ کیا تو، آپ نے کہا روئی اور لوہا خریدلو، میں نے ویسا ہی کیا اور مجھے نفع ہوا۔ لیکن دوسری دفعہ آپ نے مجھے پیاز اور تربوز خریدنے کو کہا جو سارے سڑگل گئے اور مجھے کافی نقصان ہوا۔آپ نے ایسا کیوں کیا؟؟۔۔۔یہ سن کربہلول مسکرایا اور کہا۔ پہلے تم نے مجھے دانا بہلول کہہ کر پکارا تھا تو میں نے تمہیں مشورہ بھی دانائی سے دیا تھا۔۔۔ لیکن دوسری مرتبہ تم نے مجھے دیوانہ بہلول کہہ کر پکارا تھا اور میں نے دیوانہ بن کر تمہیں مشورہ دیا تھا۔۔۔

گئے زمانوں کی بات ہے کہ گرمیوں کے آتے ہی بازاروں میں ریڑھیوں، ٹھیلوں اور تھڑوں پہ بڑے بڑے، ہرے ہرے تربوزوں کی بہار آ جاتی تھی۔ ہر طرف ’’ جیہڑا پنو لال اے’’ کی آواز آتی تھی،لیکن اس کے باوجود لوگ تین چار تربوز اٹھاکے، اچھی طرح دیکھ بھال کے ’’ٹک‘‘ لگا کے ’’ لال پن‘‘ چیک کیا کرتے تھے اور پھر سودا مکایا جاتا تھا کہ یہ لو ’’دھوانوں‘‘ پیسے۔۔۔ ہمیں یاد ہے ہمارے بچپن میں دس روپے میں تین چار بھاری بھرکم تربوز مل جایاکرتے تھے جو قدرتی لال اور رسیلے بھی ہوتے تھے۔۔۔ بچپن میں ہمیں کبھی بھی تربوز زیادہ پسند نہیں آتے تھے، سارے ہاتھ گیلے، بعد میں چِپ چِپ، جہاں کھاؤ وہ جگہ بھی گیلی اور مکھیوں کا میلہ الگ۔۔۔ اوپر سے اتنی بڑی بڑی قاش کاٹ کر دیتے تھے کہ کھاؤ تو گالوں تک منہ دھونا پڑے، ساتھ ساتھ یہ بھی سنتے جاؤ کہ خبردار جو پانی پیا تو۔ہیضہ ہو جائے گا، یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا۔۔۔ آج کل کے بچے تو ’’کیوبز‘‘ کاٹ کے کانٹوں سے کھاتے ہیں، یہ فیشن کافی تاخیر سے آیا۔۔۔ بازاروں میں جا بجا مکھیوں کی کالونیوں کے سائے میں چھلکوں اور ادھ کھائے تربوزوں کا ڈھیر۔ چلتے چلتے پیاس لگی، ایک دھوانا لیا اور گوڈے پہ رکھ کْہنی ماری، ہاتھ سے کھایا، جتنا کھایا ٹھیک باقی وہیں چھوڑ چھاڑ، یہ جا وہ جا۔۔۔اب اگر ’’دھوانہ‘‘ لینے جائیں تو چالیس،پچاس روپے کلو سے کم میں نہیں ملتا، اور ایک دھوانہ کم سے کم تین سے چار کلو وزنی تو ہوتا ہی ہے۔۔۔یعنی ایک تربوز لیاتو کم سے کم دوسوروپے تو ’’کھیسے‘‘ سے ڈھیلے کرنے پڑجاتے ہیں۔۔۔سنتے تھے کہ باہر کے ملکوں میں آم کی ایک ایک قاش ڈالروں میں بِکتی ہے۔۔۔ ان کا تو پتا نہیں، ہمارے تربوز ضرور اب ‘پھاڑیوں’ کے حساب سے بِکا کریں گے۔ دس روپے کی تو وہ اوپر والی ‘‘ٹک زدہ’’ تکونی کاش ملا کرے گی۔ یعنی کہ اب دھوانا ایک تعلیم یافتہ، مہنگا اور امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ والا فروٹ بن گیا ہے، اب دَھوانا واقعی تربوز بن گیا ہے۔۔۔

اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔ہم ہرکامیابی کے پیچھے چاہے وہ علم ہو ،تجارت یا پھر دولت کمانا ہو،اپنی محنت اور ذہانت کو کریڈٹ دیتے ہیں اور ہر ناکامی پر کہتے ہیں، بس جی رب کی یہی مرضی تھی، خدا کے چاہنے یا نہ چاہنے کو غلط انداز میں پیش نہ کیا جائے، اللہ پاک کسی انسان کا کبھی برا نہیں چاہتا، ہاں البتہ ہمارے اعمال ہی اس کا فیصلہ کرتے ہیں۔


ای پیپر