سرزمین شریفین کا تحفظ فرض بھی ہے اور قرض بھی
12 اپریل 2018

یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سرزمین حرمین شریفین ( سعودی عرب) پر ایک مرتبہ پھر میزائلوں سے حملہ کیا گیا ہے ۔حوثیوں نے دو میزائل داغے جنہیں فضا میں تباہ کر دیا گیا۔ سعودی میزائل ڈیفنس سسٹم کی جانب سے میزائل تباہ کئے جانے پر ریاض شہر گونج اٹھا اور شہر میں تین خوفناک دھماکوں کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ اس سے قبل بھی حوثی باغیوں نے کئی مرتبہ سعودی عرب کے مختلف شہروں حتیٰ کہ مکہ مکرمہ کو بھی میزائل حملوں سے نشانہ بنانے کی کوششیں کی ہیں تاہم سعودی عرب کے میزائل ڈیفنس سسٹم نے تمام میزائل حملوں کو ناکام بنا دیا۔ادھر سعودی فورسز نے جنوبی شہر ابہا کے ہوائی اڈے پر حوثیوں کا ڈرون طیارہ مار گرایا اور ابر آلود کا موسم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جاسوسی کی کوشش ناکام بنا دی ہے ۔
سعودی عرب کے ولی عہداور شہزادہ محمد بن سلمان ان دنوں مختلف ملکوں کے دورہ پر ہیں۔ پہلے انہوں نے امریکہ کا سات روزہ دورہ کیا اور اربوں ڈالر کے معاہدے کئے۔ بعد ازاں انہوں نے فرانس کا تین روزہ دورہ کیا اور اب اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔شہزادہ محمد بن سلمان ایک مضبوط سعودی حکمران کے طور پر ابھرے ہیں اور اپنی سفارتی سرگرمیوں کے ذریعہ بین الاقوامی دنیا کے سعودی عرب سے تعلقات بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہیں تاہم اسی دوران مملکت سعودی عرب کو ایک غیر محفوظ ملک ثابت کرنے کیلئے حوثیوں نے میزائل حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے ۔ یقینی طور پر بعض قوتیں ایسی ہیں جو انہیں میزائل ٹیکنالوجی فراہم کر رہی ہیں‘ کھلاسرمایہ دیا جارہا ہے اور جن شہروں پرمیزائل حملے کرنے ہیں‘ وہ اہداف بھی دیے جارہے ہیں۔ یہ ایک ایسی زندہ حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے وگرنہ جاہلیت کا شکار حوثیوں کے پاس میزائل ٹیکنالوجی کہاں سے آگئی؟۔ انہیں بڑے پیمانے پر اسلحہ اور ہتھیار دیے جارہے ہیں بلکہ اب تو ڈرون طیارے بھی فراہم کئے جارہے ہیں تاکہ سرزمین حرمین شریفین پر تباہی پھیلانے کیلئے تمام حربے استعمال کئے جاسکیں۔ بیت اللہ شریف اور مسجد نبوی پر قبضہ کی کھلے عام دھمکیاں دینے والوں کو تخریب کاری ودہشت گردی پروان چڑھانے کیلئے کروڑوں ڈالردیے ہیں جارہے ہیں یہی وجہ ہے کہ حوثی باغی کمانڈروں کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں اور وہ سرزمین حرمین شریفین کو نقصانات سے دوچار کرنے کیلئے ہر ممکن حد تک مذموم کاروائیوں کی کوششیں کر رہے ہیں۔ حوثیوں کی طرف سے چند دن قبل بھی سعودی عرب پر سات بیلسٹک میزائل داغے گئے جن میں سے دو میزائل خمس مشیط ‘ دو نجران اور تین ریاض شہر پرپھینکے گئے جنہیں سعودی میزائل ڈیفنس سسٹم نے فضا میں ہی تباہ کر دیاتھا۔ اس دوران تباہ شدہ میزائل کے کئی ٹکڑے ریاض شہر میں گرے جس سے ایک شخص جاں بحق اور دوزخمی ہو گئے۔ حوثی باغی علی الاعلان سعودی عرب پر حملوں کی ذمہ داریاں قبول کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعہ مقدس مقامات پر قبضہ کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے میزائل حملوں کے بعد گفتگو کرتے ہوئے واضح طور پر کہا ہے کہ سعودی عرب کے امن و استحکام کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو پورے عزم کے ساتھ ناکام بنا دیا جائے گا۔دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حوثی باغیوں کے حملوں کو ان کی شکست سے تعبیر کیا ہے ۔
حوثیوں کی طرف سے مکہ مکرمہ سمیت سعودی عرب کے مختلف شہروں پر کئے جانے والے حملوں پر پوری مسلم امہ میں غم و غصہ کی لہر پائی جاتی ہے اور وہ باغیوں کے خلاف مضبوط کاروائی دیکھنا چاہتے ہیں۔ نبی مکرمؐ نے ارشاد فرمایا تھاکہ اللہ کی قسم! اے مکہ تو اللہ کی ساری زمین سے بہتر اور اللہ تعالیٰ کو ساری زمین سے زیادہ محبوب ہے ‘ اگر مجھے تجھ سے نکلنے پر مجبور نہ کیا جاتا تو میں ہرگز نہ جاتا۔اپنے گھر بیت اللہ کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے ۔ وہ ابرہہ کے ہاتھیوں کے لشکر کو ابابیلوں کے ذریعہ نیست و نابود کرسکتا ہے تو آج بھی صلیبیوں ویہودیوں کی پشت پناہی پر اس مقدس سرزمین کیخلاف سازشیں کرنے والوں کو ایک لمحے میں تباہ وبرباد کر سکتا ہے ۔تاہم اصل امتحان تو دور حاضر میں موجود مسلمانوں کا ہے کہ وہ اس موقع پر کیا کردار ادا کرتے ہیں؟۔پاکستان کی جانب سے ہمیشہ سعودی عرب پر داغے گئے میزائل حملوں کی مذمت کی گئی اور واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین حرمین شریفین سے محبت لازوال ہے ۔ سعودی عرب کوکسی قسم کے نقصان سے بچانے کیلئے ہر ممکن کوششیں کی جائیں گی۔ پاکستان اور سعودی عرب دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے طویل عرصہ سے کوششیں کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کی سیاسی و عسکری قیادتوں کے درمیان مسلم امہ کو درپیش اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ خاص طور پر زیر بحث رہا ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب کی افواج کے مابین مشترکہ مشقیں بھی اسی مقصد کے تحت کی جاتی رہی ہیں کہ سب مل کر مسلمہ امہ کو نقصانات سے دوچار کرنے والے دہشت گردی کے عفریت سے کس طرح نمٹ سکتے ہیں؟کچھ عرصہ قبل پاکستانی فوج کی جانب سے انسداد دہشت گردی کیلئے بنائی گئی سعودی اسپیشل فورسز کو ٹریننگ دینے کا آغاز کر کے دوطرفہ دفاعی تعلقات کے نئے دور کی شروعات کی گئی ہیں۔ پاکستان نائن الیون کے بعد چونکہ دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار رہا ہے ۔ آئے دن بم دھماکوں اور خودکش حملوں سے پاکستانی افواج اور دیگر دفاعی اداروں کو بہت زیادہ نقصانات سے دوچار ہونا پڑا تاہم اللہ کا شکر ہے کہ افواج پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعہ ملک میں پھیلے ہوئے بیرونی قوتوں کی تخریب کاری و دہشت گردی کے پھیلائے گئے تمام نیٹ ورک بکھیر کر دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔یہی وجہ ہے کہ آج ساری دنیا پاکستان کی افواج اور اداروں کی کامیابیوں کا کھلے عام اعتراف کرتی نظر آتی ہے ۔سعودی عرب بھی دفاعی اعتبار سے پاکستان کو مسلم امہ کی سب سے بڑی قوت سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے مل کر کام کریں۔ یمن میں حوثی باغیوں کیخلاف کاروائی کو چونکہ بعض عناصر کی جانب سے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اس لئے پاکستانی حکام نے صاف طور پر کہاکہ ان کی طرف سے بھجوایا گیا فوجی دستہ سعودی عرب میں موجود رہے گا اور وہاں رہتے ہوئے سعودی فورسز کو ٹریننگ دینے کا کام کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ حوثی باغی جس طرح بیرونی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں
اور ان کے ایجنڈے کو پروان چڑھاتے ہوئے میزائل حملے کئے جارہے ہیں سرزمین حرمین شریفین کے دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے یمن میں حوثیوں کی بغاوت کچلنا بہت ضروری ہو چکا ہے ۔ اسی طرح منظم سازشوں کے تحت سعودی عرب کی کردار کشی کیلئے جو بے بنیاد اور غلیظ پروپیگنڈا کیا جارہا اور جھوٹی خبریں پھیلائی جارہی ہیں میڈیا کے محاذ پر اس کا بھی توڑ کرنے کی ضرورت ہے ۔سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ نبھایا ہے لہٰذا اس وقت جب وہ مشکل صورتحال سے دوچار ہے اور دشمن قوتیں چاروں اطراف سے گھیراؤ کر کے اسے نقصانات سے دوچار کرنا چاہتی ہیں تو پاکستان کو بھی کسی طور پیچھے نہیں رہنا چاہیے اور مملکت سعودی عرب کا دفاع مضبوط بنانے کیلئے ہر قسم کا تعاون پیش کرنا چاہیے۔ حرمین کا دفاع سیاسی یا علاقائی مسئلہ نہیں ہے ۔ کوئی مسلمان اس مقدس سرزمین کو نقصان پہنچانے کی سازشیں برداشت نہیں کر سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان دیگرمسلمان ملکوں کو بھی ساتھ ملا کر سعودی عرب کی سرحدیں محفوظ بنانے کیلئے قائدانہ کردار ادا کرے۔ یہ ہم سب پر فرض بھی ہے اور قرض بھی ۔ ہمیں اپنے اس فریضہ کی ادائیگی میں کسی قسم کے پس و پیش سے کام نہیں لینا چاہیے۔


ای پیپر